اسٹیچو آف یونٹی یا اسٹیچو آف پبلسٹی !

اسٹیچو آف یونٹی یا اسٹیچو آف پبلسٹی !

شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
کیا آپ جانتے ہیں کہ ’اسٹیچو آف یونیٹی‘ کو بنانے میں شب وروز کس کی محنت لگی ہے؟
اگرنہیں جانتے تو جان لیں کہ گجرات کےکیوادیہ علاقے میں سردار پٹیل کے مجسمے کو بنانے کےلیے ساڑھے چار ہزار سے زائد جن مزدوروں نے پسینہ بہایا ہے ان میں سے نصف کا تعلق بیرون گجرات سے تھا۔ ان میں اکثریت یوپی او ربہار کے مزدوروں کی تھی۔ جی ہاں وہی اتر بھارتی جنہیں حال ہی میں گجرات میں دوڑا دوڑا کر پیٹا گیا تھا اور جو انتہائی خوف کے عالم میں اپنی جانیں بچا کر اپنی اپنی ریاستوں کو’یوپی او ربہار‘لوٹے تھے۔ مزدوروں میں بہت سے الیکٹریشن تھے، بہت سے کار پینٹر اور فٹر وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کے سب ہندی بولنے والے لوگ تھے او راپنے اہل وعیال کے ساتھ سردار ولبھ بھائی پٹیل کے مجسمے کی تعمیر میںحصہ لینے کےلیے گجرات آئے تھے۔ جب ایک بچی کے ریپ کے بعد گجرات میں اتر بھارتیوں کے خلاف تشدد کی لہر دوڑی تو ان سب کو بھی خوف نے گھیر لیاتھا۔ یہ سب کے سب چونکہ اسٹیچو آف یونیٹی کی تعمیر کا حصہ ہیں اس لیے یہ اب تاریخ کا بھی حصہ بن گئے ہیں۔ لیکن تاریخ میں ان کے نام کہیں نظر نہیں آئیں گے او رنہ ہی تاریخ میں یہ حقیقت کہیں لکھی ہوئی ملے گی کہ ’ملک بھر میں اتحاد واتفاق کے اسٹیچو ‘کو تعمیر کرتے ہوئے یہ شدید دہشت زدہ تھے کیو ںکہ انہیںاپنے ہی ملک کے کچھ لوگ قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اتحاد واتفاق کی علامت کے طور پر تعمیر اسٹیچو کے منصوبہ سازوں نے نہ ہی تو ملک میں اتحاد واتفاق کو برقرار رکھا ہے او رنہ ہی انہو ںنے گجرات میں روزی روزگار کے لیے آنے والے اتر بھارتیوں کوہی اپنے ساتھ جوڑنے میں کامیابی اصل کی ہے۔ سردار پٹیل نے تو خیر یہ کیا تھا کہ حیدرآباد اور جونا گڑھ سمیت دادرانگر حویلی، دیودمن وغیرہ کو ہندوستان سے جوڑا تھا، لیکن جن افراد نے پٹیل کے مجسمے کی منصوبہ بندی کی ہے وہ رات دن اس ملک کے لوگوں کو ایک دوسرے سے کاٹنے کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ سردار پٹیل کی آتما بے چین ہوگی۔ ویسے بھی پٹیل کی آتما کو بے چین ہونا ہی ہے کیوں کہ ۲۹۰۰ کروڑ روپئے کی لاگت سے ان کا مجسمہ تیار کیاگیا ہے، یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ اس سے ملک میں کئی رہائشی کالونیاں بن جاتیں، کئی یونیورسٹیاں او رکئی اسپتال بن جاتے، لوگوں کے رہنے پڑھنے اور علاج کرانے کے انتظامات ہوجاتے۔ اور وہ آدی واسی بھی نہ اجڑتے جنہیں صرف اس مجسمے کےلیے اجاڑ دیاگیا ہے۔ ۱۸۲ میٹر لمبا یہ مجسمہ فی الحال دنیا کا سب سے اونچا مجسمہ ہے، امریکہ کے اسٹیچو آف لبرٹی سے بھی اونچا مگر ہندوستان بہرحال امریکہ نہیں ہے۔ وہاں ایک مجسمے کے لیے نہ لوگوں کو اجاڑا گیا ہے اور نہ ہی ماحولیات کو آلودہ کیاگیا ہے۔ دریائے نرمدا کے سادھو بیٹ پر بنا یہ مجسمہ لوگوں کے پیٹ بھرنے کے کام نہیں آئے گا ۔رہی ملک کو اتحاد واتفاق کے دھاگے میں پرونے کی بات تو یہ کسی مجسمے کو کھڑا کرنےسے نہیں بلکہ واقعی میں ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ پر عمل کرنے سے ہی ممکن ہوگا۔ پر نہ مودی سرکار اس پر عمل کرے گی اور نہ ہی خود وزیراعظم۔ لہذا اگر یہ کہاجائے کہ ’اسٹیچو آف یونٹی‘ اصلاً مودی کے لیے ’اسٹیچو آف پبلسٹی ‘ ہے تو غلط نہیں ہوگا۔
(بصیرت فیچرس)