کیا سی بی آئی اور رافیل سودا کے بھونچال سے گھرے

کیا سی بی آئی اور رافیل سودا کے بھونچال سے گھرے

کیا سی بی آئی اور رافیل سودا کے بھونچال سے گھرے
مودی ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کےلیے قانون بنائیں گے؟
شکیل رشید(ممبئی اردو نیوز)
بات بابری مسجدکی ہونی ہے‘مگربات شرو ع رافیل سودے سے ہوگی۔
اوررافیل سودے پر بات کرنے کے لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ کانگریس اوربی جے پی میں بڑا فرق ہے……
اب یہی دیکھ لیں کہ 1947ء میں آزادی کے ملنے کے بعدکانگریس کی کسی حکومت پربدعنوانی اورکرپشن کاداغ لگنے میں تقریباًچار دہائیاں لگیں۔بوفورس گھوٹالہ1986ء میں منظرعام پرآیا‘جب راجیو گاندھی ملک کے وزیر اعظم تھے‘ جب کہ بی جے پی کی حکومت کی ابھی بمشکل ایک دہائی ہی پوری ہوئی ہے کہ اس پر رافیل سودے میں ہیراپھیری کا الزام لگ گیا ہے نریندرمودی کی وہ سرکار جو خود کو دودھ کادھلا ثابت کرنے کے لیے دوسروں کی طرف انگلیاں اٹھانے میں ذرا سی بھی ہچکچاہٹ نہیں محسوس کرتی تھی اب اس پرساری اپوزیشن کی انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔کانگریس کے صدرراہل گاندھی تواب وزیر اعظم مودی کوکھلے لفظوں’بدعنوان‘ اور’چور‘کہنے لگے ہیں۔
اب اگربوفورس گھوٹالے اور رافیل سودے کی’اکنامکس‘پرنظرڈال لیں تودونوں کے درمیان زمین اورآسمان کافرق نظرآئے گا۔راجیو گاندھی پر الزام تھاکہ انہو ںنے بوفورس گھوٹالے میں 64کروڑروپئے کی دلالی کھائی ہے‘صرف 64کروڑروپئے !جب کہ رافیل سودے میں کئی ہزار کروڑروپئے کے وارے نیارے کاالزام ہے۔اس سودے کادلچسپ پہلو یہ ہے کہ سرکاری کمپنی ایچ اے ایل(HAL)کوہٹا کر ٹھیکہ صنعت کارانیل امبانی کی اس کمپنی کو سونپاگیا جو دفاعی معاملات کاکوئی تجربہ نہیں رکھتی تھی۔اس سلسلے میں جب فرانس کے سابق صدر فرانسواولاندنے یہ انکشاف کیا کہ انیل امبانی کی کمپنی کو ٹھیکہ وزیر اعظم مودی کے اصرا رپر ملاہےتوسیاسی حلقوں میں ایک سنسنی سی دوڑگئی۔سنسنی اس لیے کہ وزیر اعظم کارول بہت واضح ہوکر سامنے آگیا۔جلد ہی یہ خبربھی گردش کرنے لگی کہ منموہن سنگھ کی سابقہ سرکار میں رافیل طیارہ کے لیے جس قیمت پر سودا طے کیاگیاتھا اب قیمت اس سے کئی گنا زیادہ ادا کی جانی ہے!جو اعداد وشمارسامنے آئے ہیں وہ حیرت زدہ کرنےو الے ہیں‘اوریہ سوال کھڑا کرنے والے بھی کہ بھلاکیوں اتنی بڑی قیمت میںسودا طے کیاگیا؟مانی جائے تویوپی اے کی سرکارنے126؍رافیل طیاروں کاسودا520؍کروڑمیں کیاتھا لیکن نئے معاہدے کے تحت صرف ایک طیارے کی قیمت1670كر وڑہے!یعنی یوپی اے سرکار کو سارے طیارے جس قیمت میں مل رہے تھے اس قیمت سے 1,150کروڑکی زائد قیمت دے کر اب صرف ایک ہی طیارہ ملناہے!اس دلچسپ حقیقت پربھی نظرڈال لیں کہ پہلے 126 طیارے520کروڑمیں ملناتھے اوراب طیاروں کی تعداد گھٹا کر36کردی گئی ہے اورقیمت کئی سوگنا بڑھ گئی ہے!اگرماہرین کی مانی جائے تو30ہزارکروڑروپئے کےوارے نیارے ہو رہے ہیں!ظاہرہے کہ یہ ساری کی ساری رقم ہندوستان کے ٹیکس دہندگان کی ہی ہے!لہٰذا اگربوفورس گھوٹالہ64کروڑروپئےکاتھا توسرکاری خزانے کی یہ لوٹ،جیسا کہ کانگریس اوراپوزیشن کاالزام ہے30؍ہزار کروڑروپئے کی ہے!راجیو گاندھی توسوکروڑکے عددکو ہی پارنہیں کر سکے تھے اوریہاں ہزار سے بھی آگے ہزارکروڑکے عددکو پار کرلیاگیاہے۔
تواب مودی سرکار رافیل سودے میں بری طرح سے پھنسی ہوئی ہے۔عدالت عظمیٰ نے سودے سے متعلق تمام دستاویزات سربمہرلفافے میں طلب کرلی ہیں۔گویایہ کہ رافیل سودا اب سیاست کے میدان سے نکل کرعدلیہ کے کٹگھڑے میں آکرکھڑا ہوگیاہے۔ رافیل سودے سے صرف ملک کی معیشت ہی داؤپر نہیں لگی ہے اس معاملے نے ملک کی سب سے اہم ترین جانچ ایجنسی سی بی آئی کی ساکھ بھی داؤ پر لگا دی ہے۔سی بی آئی کے ڈائریکٹر آلوک ورما کے ذریعے سی بی آئی کے اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانا پر بدعنوانی کاالزام اورمودی سرکار کے ذریعے راتوں رات آلوک ورما کاسی بی آئی کی ڈائرکٹری سے ہٹایاجانا یہ دوایسے عمل ہیں جس نے جہاں ایک جانب سی بی آئی پر عام لوگوں کے اعتماداوربھروسے کو متزلزل کیاہے وہیں لوگوں کے دل ودماغ میں پنپ رہے اس احساس کو بھی شدید کیاہے کہ سی بی آئی واقعی میں حکومتِ وقت کے لیے پنجرے میں بندایک طوطا ہے۔شیوسینا کے پرمکھ ادھوٹھاکرے نے ایک قدم آگے بڑھ کر جانچ ایجنسی کو حکومت کا’کتّا‘اورراکیش استھانا کو حکومت کا’شارپ شوٹر‘تک کہہ دیا ہے۔’شارپ شوٹر‘اس لیے کہ استھانا کو وزیراعظم نریندرمودی سے بہت قریب سمجھا جاتاہے اورایسا الزام ہے کہ حکومت کے بالخصوص مودی کے اشارے پر وہ انتظامیہ کے مخالف افسران کو’نشانے‘پر لیتے رہے ہیں۔سی بی آئی کی یہ اٹھاپٹخ اب سپریم کورٹ میں آچکی ہے۔کہا جاتاہے کہ آلوک ورما کے ٹیبل پر جواہم فائلیں تھیں ان میں رافیل کی فائل بھی تھی اوراسی فائل کو ہتھیانے کے لیے حکومت نے راتوں رات آلوک ورما کو بھی ہٹایا اورسی بی آئی ہیڈکوارٹر کی تلاشی بھی لی۔حالانکہ حکومت نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے اوریہ بھی واضح کیاہے کہ آلوک ورما کو ان کے عہدے سے ہٹایا نہیں گیا ہے یہ سب ’چھٹی‘پر بھیجے گئے ہیں،بالکل اسی طرح جیسے کہ استھانا’چھٹی‘پربھیجے گئے ہیں۔
رافیل سودا 2019ء کے لوک سبھا الیکشن کاموضوع بن سکتا ہے اورمودی سرکارا س حقیقت سے خوب آگاہ ہے۔ یہ بھی اندازہ ہے کہ اگراس معاملے کو کانگریس اوراپوزیشن ’عوامی تحریک‘کی شکل دینے میں کامیاب رہی تو مودی اورمودی کی حکومت کوزبردست خطرہ لاحق ہوسکتاہے۔جب64کروڑکی دلالی کو اس ملک کی عوام نے برداشت نہیں کیاتوپھر کئی ہزارکروڑکے وارے نیارے کوکہاں برداشت کرسکتی ہے۔1989میں کانگریس کو شکست ہوئی تھی اورراجیو گاندھی وزیر اعظم نہیں بن سکےتھے۔تاریخ پھر دوہرائی جاسکتی ہے۔ویسے بھی مودی کی یہ سرکار جس ’وکاس‘کے نعرے پر بنی ہے اس سے عوام بہت دورہیں۔وہ’اچھے دن‘جس کے خواب دکھائے گئے تھے’برے دن‘ثابت ہوئے اورہو رہے ہیں۔بے روزگاری،آسمان کو چھوتی قیمتیں،اب توپٹرول اورڈیزل ہی نہیں رسوئی گیس کے دام بھی بڑھنے لگے ہیں۔آج ملک میڈیکل اورتعلیمی سہولت سے عاری ایک ایسے سماج میں تبدیل ہوگیا ہے جہاں’نفرت‘کابول بالاہے۔حافظ جنید سے لےکرننھے عظیم اوراخلاق سے لے کر پہلوخان تک ملک کی زمین بے قصوروں کے خون سے سرخ ہے،یہ قتل وغارتگری یاتوفرقہ پرستی اورنسل پرستی کی بنیادپرہے،یامسلمانوں اوردیگر اقلیتوں کی اراضی پرقبضے کے لیے ہے۔’مقدس گائے‘کے نام پر جو’غیرمقدس یدھ‘اس ملک میں لڑا جارہا وہ ملک کے ڈھانچے کو منہدم کررہاہے۔ہوناتویہ چاہیے تھاکہ نئی صنعتیں لگائی جاتیں تاکہ بے روزگارنوجوانوں کوملازمت مل سکتی۔ لیکن بجائے اس کے امبانی اوراڈانی جیسے چہیتے صنعت کاروں کی جیبیں بھرنے کے انتظامات ہو رہےہیں اوروجئے مالیا،نیروامودی اورمیہول چوکسی جیسے’لٹیروں‘کو عوامی دولت لوٹ کر بیرون ملک بھگائے جانے کے لیے تدابیرکی جارہی ہیں۔بلاشبہ بی جے پی کے سامنے اندھیرا ہے لیکن اس اندھیرے میں اسے اگرکوئی روشنی نظرآرہی ہے…..جس کے بَل پر وہ پھر ملک کے اقتدار کو حاصل کر سکتی ہے…..تووہ’فرقہ پرستی‘ہی ہے۔اسی لیے اب جو بھی فرقہ پرستی کے وارداتیں ہورہی ہیں ان پر روک کی کوئی کوشش نہیں کی جارہی ہے۔اورنہ ہی اب ایودھیا میں رام مندرکی تعمیر کے لیے ’آئین‘اور’عدلیہ‘پرحملے کو’معیوب‘سمجھا جارہاہے۔حقیقت اگرپونچھی جائےتویہی ہے کہ ملک کے اس’جمہوری نظام‘پر جس نے اس کی سالمیت کوپختہ کیاہے،ڈاکہ ڈالنے کی بھرپورکوششیں شروع کردی گئی ہیں۔سی بی آئی کےبعدآئی بی ،ای ڈی نشانے پرہیں‘آربی آئی کو خطرہ ہے ‘غرضیکہ سارے جمہوری اورآئینی اداروں کو تہس نہس کیا جارہاہے‘بشمول عدلیہ۔ سپریم کورٹ نے بس ابھی چند روز قبل ہی بابری مسجدمقدمے میں شنوائی تین مہینے کے لیے مؤخرکی ہے۔لیکن موخرکرنے کایہ عمل ہندوتوادیوں کوراس نہیں آیاہے۔سپریم کورٹ کے وجودپر سوال کھڑا کرنے کی بھی کوشش شروع ہوگئی ہے اوریہ بھی کہا جانے لگا ہے کہ اگر یعقوب میمن کی پھانسی کی سزا کے خلاف عدالتِ عظمیٰ رات میں شنوائی کر سکتی ہےتورام مندرکی تعمیر کی اجازت کی شنوائی کیوں نہیں کر سکتی! آرایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے سپریم کورٹ سے ناراضگی جتائی ہے۔انہوں نے مودی سرکارسے تویہ کہہ دیا ہے کہ اب ایودھیا میں رام مندرکی تعمیر کے لیے فوری طور پر ’آرڈیننس‘لے آیاجائے۔نرموہی اکھاڑے نے یہ کہہ کر بی جے پی کی سرکارپر نکتہ چینی کی ہے کہ رام مندرکے معاملے میں اسے بی جے پی سرکارپراب بھروسہ ہی نہیں رہ گیاہے۔سوال اٹھ رہاہے کہ گذشتہ ساڑھے چارسالوں میںمودی اوربی جے پی کی سرکار تھی پھر بھی ایودھیا میں رام مندرکیو ںنہیں بن سکا؟ یہی سوال شیوسینا کے پرمکھ ادھوٹھاکرےبھی اٹھارہےہیں۔وی ایچ پی کے سابق سربراہ پروین توگڑیا نے رام مندرکے لیے زوردار تحریک چھیڑدی ہے۔ایودھیاکے سادھو اورسنت’بھوک ہڑتال‘پر بیٹھ رہےہیں۔اکھل بھارتیہ سنت کمیٹی کے چیئرمین آچاریہ ہنس دیوآچاریہ نے مودی سرکارسے رام مندرکی تعمیر کے لیے قانون بنانے کو کہاہے اورزوردے کر کہا ہے کہ ’مودی اسے مذہبی حکم‘سمجھیں۔وہی ہندوتوادی جو27؍ستمبرکے سپریم کورٹ فیصلے کا…..جس میں یہ سوال اٹھاتھا کہ مسجدمیںنماز اسلام کااٹوٹ جز ہے یانہیں؟…..خیرمقدم کر رہے تھے اوریہ کہتے پھر رہے تھے کہ اب عدالت عظمیٰ نے گویا کہ ایودھیا میں رام مندربنانے کے لیے ہری جھنڈی دکھادی ہے‘ اب ناراض ہیں کہ معاملہ عدالت نے ٹالا کیوں؟ملک کے چیف جسٹس رنجن گگوئی کی دراصل جس بات نے ہندوتوادیوں کو شدید جھٹکہ دیا ہے وہ ان کے یہ جملے ہیں’’یہ معاملہ جنوری کے پہلے ہفتے میں آئے گا وہ بھی شنوائی کے لیے نہیں ‘شنوائی کی تاریخ طے کرنے کے لیے،شنوائی جنوری،فروری،مارچ کبھی بھی ہو سکتی ہے….. نیزاس بنچ کے قیام کے لیے جو اس معاملے کی شنوائی کرے گی۔‘‘ظاہر ہے کہ یہ تاخیر2019کے لوک سبھا الیکشن کے لیے بی جے پی کے رام مندرکے ایجنڈے کی ہوا نکالنے کے لیے کافی ہے……لہٰذا اب’سپریم کورٹ‘پر نکتہ چینی بلکہ شدید تنقیدشروع ہے،مودی سرکار پر’آرڈیننس‘لانے کادباؤ ہے۔ممکن ہے کہ لوک سبھا کے سرمائی اجلاس میں مودی سرکار’آرڈیننس‘لاکرپھر رام مندرکو انتخابی موضوع بنادے۔جذبات کو بھڑکائے اورعدلیہ‘سیکولرٹولے، کانگریس،اپوزیشن اورمسلمانوںکو موردِ الزام ٹہرائے کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے سپریم کورٹ میں رام مندرکے معاملے کی شنوائی نہیں ہوسکی۔سبریمالہ مندرمعاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف امیت شاہ نے توحملہ بول ہی دیاہے،’آئینی اداروں‘کی ساکھ سے ہندوتوادیوں کوکیا لینادینا…..بی جے پی کے پاس بس اب یہی ایک’آلہ‘رہ گیاہے۔’ایودھیا اوررام مندر‘کے نام پر جذبات سے کھلواڑکا ملک اورملک کے لوگوں پر جو بھی منفی اثرپڑے،پڑے بی جے پی کو تو’سیاست‘کرنی ہے۔لیکن یہ کوئی ضروری نہیں کہ’ایودھیااوررام‘کانام اسے جِتاہی دے۔جیت کے لیے علاقائی پارٹیوں کو اپنے کھیل میں شامل کرنا بی جے پی کے لیے ضروری ہوگا…..اوراس بار جس طرح سے مودی سرکارنے دلتوں،پچھڑوں،آدی واسیوں اورعام لوگوں کوبشمول مسلمانوں’مایوس‘کیاہے اس سے لگتا نہیں کہ علاقائی پارٹیاں بی جے پی کے جھانسے میں آئیں گی…..اوراگراپوزیشن متحدہوگیا‘ووٹنگ مشین کا’جادو‘ختم ہوگیا اورپریشان حال جنتانے’فرقہ پرستی ،بے روزگاری،غربت اورمہنگائی کے خلاف محاذبنا لیاتوبی جے پی اورمودی کے لیے جیت بہت دورکی بات ہوگی۔
(بی این ایس)