ہاں میں ولبھ بھائی پٹیل ہوں۔۔۔!

ہاں میں ولبھ بھائی پٹیل ہوں۔۔۔!
نازش ہما قاسمی
(ممبئی اردو نیوز؍بصیرت آن لائن)
میں سردار ولبھ بھائی پٹیل ہوں ، برٹش دور حکومت میں متحدہ مہاراشٹر کے گجرات میں پاٹی دار خاندن کے یہاں ۳۱اکتوبر ۱۸۷۵ میں ناڈیاڈ گائوں میں پیدا ہوا۔ میرے والد کا نام زویر بھائی پٹیل اور والدہ کا نام لاڈبا دیوی ہے۔ میری شادی ۱۶؍سال کی عمر میں زاویربا سے ہوئی۔ میرے بیٹے کا نام داہیا بھائی پٹیل اور بیٹی کا نام منی بین پٹیل ہے۔ میری وفات ۱۵؍دسمبر ۱۹۵۰ کو ’بامبے‘ میں ہوئی۔ میری ابتدائی تعلیم گجرات میں ہوئی اور اعلیٰ تعلیم کےلیے میں لندن گیا اور وہاں بیرسٹر کی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد احمد آباد میں بطور وکیل خدمات انجام دیا۔ میں گاندھی جی کے ساتھ تحریک آزادی ہند میں حصہ لیا اور پوری شدت کے ساتھ انگریز کو یہاں سے بھگانے کا کام کیا ۔ میرے حوصلہ اور عزم وارادے کو دیکھ کر ہندوستانیوں نے مجھے سردار تسلیم کیا اور مرد آہن کے خطاب سے نوازا ۔سول نافرمانی تحریک میں گجرات کے عوام کو متحد کیا اوربرٹش حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا ، جس کے نتیجے میں گجرات کے اہم ترین رہنمائوں میں میرا شمار ہونے لگا۔ پھر انگریزوں کے خلاف ہندوستان چھوڑو تحریک کو منظم کیا اور ظالم سامراج کو یہاں سے نکلنے پر مجبور کیا۔ آزادی ہند کے بعد جواہر لعل نہرو کے دورحکومت میں نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ بھی رہا۔ آزادی ہند میں نمایاں کردار تو ادا کیا ہی؛ لیکن آزادی ہند کے بعد ہندوستان کو منظم اور وسیع کرنے میں بھی اہم کردار نبھایا۔ فوجی طاقت کے ذریعے وفاق ہند میں جموں کشمیر، جوناگڑھ اور حیدر آباد کو شامل کیا۔ تین جون کے منصوبے کے تحت ہندوستان بھر کی تقریباً ۶۰۰ امارتوں کے نوابوں کو یہ اختیار دیاگیا تھا کہ وہ تقسیم ہند کے وقت جس ملک میں چاہیں شمولیت اختیار کرلیں لیکن ۱۵؍اگست ۱۹۴۷ کی تاریخ تک ملک کی اکثر ریاستیں ہندوستان میں شامل ہوچکی تھیں لیکن کشمیر، جونا گڑھ اور حیدرآباد خود مختار رہناچاہتے تھے میں نے ان کے حکمرانوں سے گفت وشنید کی اور ہندوستان میں شامل ہونے کی دعوت دی لیکن وہ نہیں مانے اور پھر مجھے فوجی طاقت کا استعمال کرنا پڑا جس کے نتیجے میں سقوطِ حیدرآباد کا سانحہ پیش آیا جس کی ایک المناک تاریخ ہے جہاں لاکھوں انسانی سروں کو گھوڑوں کی سموں تلے روندنا پڑا ، اور جدید اسلحے کے بل بوتے پر انہیں مجبور کرکے ہندوستان میں شامل کرنا پڑا اور ساتھ ہی کشمیر کو بھی ہند سے جوڑا ۔
ہاں میں وہی ولبھ بھائی پٹیل ہوں جس نے آر ایس ایس کے بانی گروگولوالکر کو۱۱؍ستمبر ۱۹۴۸ میں ایک خط لکھا تھا اور آر ایس ایس کی نفرت بھری سوچ کی مخالفت کی تھی۔ میں نے ہندوئوں کے تئیں ان کے ذریعے کی جانے والی خدمات کو بھی سراہا تھا؛ لیکن ساتھ ہی مسلمانوں پر اور کانگریسوں پر حملے کی مذمت بھی کی تھی میں نے اس خط میں لکھا تھا کہ ’’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سنگھ نے ہندو سماج کی بہت خدمت کی ہے جن علاقوں میں مدد کی ضرورت تھی وہاں آپ کے لوگ پہنچے اور اہم کام کیا ہے، مجھے لگتا ہے کہ اس سچ کو قبول کرنے میں کسی کو بھی اعتراض نہیں ہوگا؛ لیکن مسائل اس وقت شروع ہوتے ہیں جب یہی لوگ مسلمانوں سے انتقام لینے کےلیے قدم اُٹھاتے ہیں اور ان پر حملے کرتے ہیں، ہندوئوں کی مدد کرنا ایک الگ بات ہے؛ لیکن غریب ، بے گھر افراد، خواتین اور بچوں پر حملہ کرنا بالکل ناقابل برداشت ہے، اس کے علاوہ بھی ملک کی اقتدار پر براجمان پارٹی کانگریس پر جس طرح کے حملے کرتے ہیں اس میں آپ لوگ ساری مریادائیں ، سمان کو طاق پر رکھ دیتے ہیں، ملک میں عدم استحکام کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، سنگھ کے لوگوں کے بیانات میں فرقہ پرستی کا زہر بھرا ہوتا ہے، ہندوئوں کی حفاظت کرنے کےلیے نفرت پھیلانے کی بھلا کیا ضرورت ہے۔ اسی نفرت کی لہر کی وجہ سے ملک نے اپنا پتا(گاندھی) جی کھودیا، مہاتما گاندھی کا قتل کردیاگیا ، حکومت یا ملک کے عوام میں سنگھ کے لیے ہمدردی تک نہیں بچی ہے، ان حالات میں حکومت کےلیے سنگھ کے خلاف فیصلہ لینا ضروری ہوگیا تھا۔‘‘
ہاں میں وہی سردار ولبھ بھائی پٹیل ہوں جس کی مودی جی خوب تعریفیں کرتے ہیں، خود کو مجھ جیسا پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، لیکن ان میں میری کوئی بھی صفت نہیں پائی جاتی، وہ عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں، میں سنگھ کا مخالف تھا؛ لیکن مجھے سنگھ سے جوڑا جارہا ہے، میں نے باپو کے قتل کے بعد آر ایس ایس پر پابندی عائد کردی تھی۔ کیوں کہ اس نے راشٹریہ پتا کو مار کر ملک کی توہین کی تھی۔ باپو کے قتل کے بعد آر ایس ایس کے کارکنان نے خوشی میں مٹھائیاں تقسیم کی تھیں۔ موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی میری برابری کرتے ہیں حالانکہ میں بہت کم بولتا تھا اور یہ۔۔۔میں نے کبھی نفرت انگیز بیان نہیں دیا، ہندو مسلم کو لڑانے کی سیاست نہیں کی اور یہ۔۔۔۔میں نے کبھی طویل بیان نہیں دیا، اور یہ۔۔۔۔۔۔میں نے کبھی ملک کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو برا بھلا نہیں کہا؛ میں ان کی عزت کیا کرتا تھا اور یہ۔۔۔۔میں اور آنجہانی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو تیس سال تک ایک دوسرے کے دوست بنے رہے۔ میں نے باپو کے قتل کے بعد کہا تھا ’’اب چونکہ مہاتما گاندھی ہمارے بیچ نہیں رہے، نہرو ہی ہمارے نیتا ہیں، باپو نے انہیں اپنا خلیفہ مقرر کیا تھا اور اس کا اعلان بھی کیا تھا، اب یہ باپو کے سپاہیوں کا فرض ہے کہ وہ ان کے حکم کا پالن کریں اور میں ایک غیر وفادار سپاہی نہیں ہوں۔ مودی جی کہتے ہیں کہ اگر میں ملک کا پہلا وزیر اعظم ہوتا تو ملک کا منظر نامہ کچھ اور ہوتا؛ حالانکہ مجھے جواہر لعل نہرو نے اس عہدے کا آفر بھی کیا تھا؛ لیکن میں نے اسے قبول نہیں کیا ۔ میں نے کھدڑ تحریک میں حصہ لیا اور مغربی پوشاک تبدیل کردیا؛ لیکن مودی جی اعلیٰ وارفع اور سوٹ بوٹ میں نظر آتے ہیں۔ آج مجھے افسوس ہورہا ہے آزادی کے ستر برس بعد ملک کی وہی حالت ہے، ہندوستانی عوام خط افلاس سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں، لیکن مجھے سمان دینے کے لیے، مجھے عزت بخشنے کے لیے نام نہاد محبت کا ڈھنڈورا پیٹ کر دنیا کی سب سے بڑی مورتی بنائی۔ اگر میں ہوتا تو اسے ڈھا دیتا کیونکہ اس میں غریب عوام کا خون پسینہ شامل ہے۔ یہ کوئی محبت نہیں بس پاٹیداروں کو لبھانے کےلیے ہے ، کروڑوں روپئے صرف کرکے طویل مورتی سے اچھے دن نہیں نظر آسکتے اچھے دن اسی صورت میں نظر آئیں گے جب اس طرح کے اسمارکوں اور طویل مورتی بنانے کے بجائے غریب عوام کو سکون بخشا جائے اور انہیں خوشحال بنایاجائے۔ اتنی اونچائی سے تو مجھے بھی اچھے دن نظر نہیں آرہے ہیں، جیسا میں چھوڑ کر گیا تھا ملک کی موجودہ حالت اس سے بھی بدتر ہے۔ ہندوستانی عوام کے وہی بدتر دن لوٹادو تو بہتر ہے، انہیں آپ کے اچھے دنوں کی قطعاً ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی مجھے اس طرح کے مجسمے کی ضرورت ہے۔ملک میں نفرت کا ماحول ہے،ہندو مسلم آپس میں برسرپیکار ہیں، دونوں قومیں ملک کی فلاح و بہبود کےلیے اہم ہیں؛ اس لیے دونوں پر دھیان دیاجائے اور دونوں کی فلاح کے لئے کام کئے جائیں۔ نفرت کی سیاست چھوڑی جائے ۔اگر حقیقی معنوں میں مجھ سے محبت ہے تو محبت عام کریں، نفرت کا خاتمہ کریں اور قومی یکجہتی کو فروغ دیں۔مظلوموں کو نہ ستائیں، ظالموں پر شکنجہ کسیں ، یہ میرے لیے بہترین خراج عقیدت ہوگی۔
(بی این ایس)