شیخ الاسلام مولانا مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ڈاکٹر ایوب کی دریدہ دہنی

شیخ الاسلام مولانا مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ڈاکٹر ایوب کی دریدہ دہنی

محمد شمیم سنت کبیر نگری

ڈاکٹر ایوب پیس پارٹی ٹویٹ کئے اور الزام لگایا کہ حسین احمد نےسن 1920 میں ایک نیا مذہب، مذہب احمدی، شروع کیا جس کی بنیاد، ظالم کی حمایت، وطن پرستی، وندے ماترم، اس غلط الزام پر ڈاکٹر ایوب صاحب کے چاہنے والے علماء کرام، دانشوران، انگشت بدنداں رہ گئے، انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ جس شخص کو ہم نے نیک مسلمان سمجھ کر اپنا قیمتی ووٹ دیا تھا وہ اس طرح سے مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں گستاخی کرے گا، چنانچہ لوگوں نے تحقیق تفتیش کرنا شروع کئے ڈاکٹر صاحب کو فون کئے، مزید ٹویٹر فیس بک پر ان سے رابطہ کئے، لیکن ڈاکٹر صاحب نے سب کو مایوس کر دیا، کسی کو تسلی بخش جواب نہ دیتے ہوئے مزید ٹویٹر پر اپنے چاہنے والوں کو لفاظی نشتر لگاتے رہے-

30 نومبر 2018 کو خلاصہ ہو گیا جب ڈاکٹر ایوب پیس پارٹی فیس بک پر لائیو آئے، اور سوال کے جواب میں انہوں نے وہی باتیں دہرائیں جو پہلے ٹویٹر پر کہہ چکے تھے، یہ فیس بک کی لائیو باتیں ڈاکٹر صاحب کے زبان سے سن کر ان کے چاہنے والے ششدر رہ گئے،

اب کسی کو شک کی گنجائش باقی نہیں رہی، ڈاکٹر ایوب کا بے بنیاد الزام کھل کر سامنے آ گیا،

یہ ڈاکٹر ایوب پیس پارٹی نے پہلی مرتبہ کسی عالم دین کی توہین نہیں کی ہے بلکہ اس سے پہلے بھی وہ علماء کی شان میں گستاخی کر چکے ہیں، لیکن ڈاکٹر ایوب صاحب ایک مسلمان ہیں ڈاکٹری شعبے میں ان کی خدمات ہیں، اسی وجہ سے لوگوں نے ان کی باتوں کو نظر انداز کر دیا تھا، جمعیۃ علماء ہند کے خلاف بولے کوئی بات نہیں، اسے بھی کسی نے اہمیت نہیں دی، لیکن اس مرتبہ انہوں نے جو الزام مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ پر لگایا ہے، اور اب بھی اس پر قائم ہیں، اس بات سے ان کے چاہنے والوں کو دلی تکلیف پہنچی ہے-

چونکہ ڈاکٹر ایوب کے حلقہ خلیل آباد یوپی سے ہمارے تمام مسلمان، خصوصاً انصاری برادری نے ووٹ دیا تھا، ان سے بھی میں سوال کرنا چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر ایوب نے جو الزامات عائد کئے ہیں مولانا پر کیا وہ سچ ہیں؟ کیا واقعتاً میں مولانا نےسن 19 20 میں، مذہب احمدی، کی بنیاد ڈالی تھی ؟ کیا واقعتاً انہوں نے ظالم کی حمایت کی تھی ؟ یہ وہ سوال ہیں جس کا جواب تمام مسلمانوں اور خصوصاً انصاری برادری کو دینا چاہیے، نہیں تو ڈاکٹر ایوب کے سامنے ہمت و جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب طلب کرنا چاہئیے!!!

انہیں علماء کرام کا احسان ہے کہ آج ہم ہندوستان میں اپنے مذہبی آزادی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، ہمیں سر اٹھا کر چلنے کے قابل انہیں لوگوں نے بنایا ہے، جس میں مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ بھی شامل ہیں، میں پہلے بھی یہ باتیں لکھ چکا ہوں پھر اسی بات کو ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں کہ بٹوارے سے قبل جو علماء کرام مسلمانوں کو سمجھا رہے تھے اس میں یہ مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ بھی شریک تھے، کہ یہ ہمارا ملک ہے اسے تقسیم کرنے کی بات مت کرو، اگر ملک تقسیم ہوا تو ہندوستان میں متفرق مقامات پر بچ جانے والے مسلمانوں کی حالت کیا ہوگی؟ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟ نفرت کی آگ بھڑکا کر لوگ چلے جائیں گے، جس میں یہ نہتے مسلمان صدیوں جلتے رہیں گے، بڑی عاجزی انکساری کے ساتھ یہ علماء کرام سمجھاتے تھے، بجائے اس کے ان کی باتوں پر غور کیا جاتا انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا،چنانچہ سید پور میں مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی، علی گڑھ میں مولانا ابو الکلام آزاد پر حملہ کیا گیا، کلکتہ میں مولانا عبد الرزاق پر چاقو سے وار کیا گیا، مولانا محمد قاسم شاہجہانپوری اور مولانا اسماعیل سنبھلی کو ایک مسجد میں گھیر کر قتل کرنے کی کوشش کی گئی، مولانا حفظ الرحمن کو لاہور، جالندھر کے اسٹیشنوں پر زدو کوب کرنے اور پتھراؤ کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی گئی، مولانا سید محمد نصیر صاحب کو چاقو مارا گیا جس کی وجہ سے ساری زندگی کے لئے ان کا ایک ہاتھ بیکار ہو گیا،

یہ علماء کرام کی جماعت تھی،جو ہندوستان میں متفرق مقامات پر تین کروڑ بچ جانے والے نہتے مسلمانوں کے تعلق سے فکر مند تھی، جو ان کے بھیانک مستقبل کے نتائج سے آزردہ خاطر تھی، جو اپنی قوم کو جھوٹے خواب کی تعبیر سے آگاہ کر رہی تھی، اسی جماعت کے ایک کارکن مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ بھی تھے، تاریخ شاہد ہے کہ حضرت مدنی کی عزت آبرو سے کھلواڑ کیا گیا، نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، اس سے انسانیت سو سو بار شرمسار ہوئی، اپنے پرایوں کی گالی، طنز و تشنیع، سب و شتم، لاٹھی ڈنڈے جوتے چپل حتی کہ تھوک گندگی حضرت مدنی پر پھینکی گئی، ڈاڑھی پکڑ کر ہلائی گئی،

بقولِ شاعر

راستہ روکو نہ میرا، دور جانا ہے مجھے،

ساتھ ساتھ آتے رہو اور گالیاں دیتے رہو،

افسوس کہ یہ مخلص علماء کرام کی باتیں اس وقت سمجھ میں آئیں، جب بہت دیر ہوچکی تھی، جب لاکھوں نہتے مسلمان قتل کر دئیے گئے، جو باقی بچے وہ افرادی حربی قوت سے محروم ہو گئے،

اس موقع پر مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے رفقاء کی اپنے قوم سے وفا شعاری محبت کی دیوانگی تو دیکھو!!

کہ تمام مظالم جو اپنوں نے ڈھائے تھے سب کو بھلا کر انہیں تین کروڑ نہتے مسلمانوں کا ساتھ دئیے، جن لوگوں نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا اور ہندوستانی مسلمانوں کا بد سے بدترین دنوں میں ساتھ دیا، جن کی تاریخ ہے اپنی قوم اپنے ملک سے وفاداری نبھاتے ہوئے اس دار فانی سے کوچ کر گئے آج ڈاکٹر ایوب اس مجاہد آزادی پر غلط الزام لگائے اور ہم اسی ڈاکٹر ایوب کو ووٹ دیں، کیا یہ انصاف کی بات ہوگی؟؟؟

امید ہے کہ خلیل آباد حلقہ ، سنت کبیر نگر، یوپی کے مسلمان اس جانب توجہ فرمائیں گے.