۱۹۹۲جیسے حالات

۱۹۹۲جیسے حالات

عبدالرحمن صدیقی
(نیوز ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
۱۹۹۰ میں بی جے پی کے اس وقت کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے رتھ یاترا نکالی تھی اس کا آغاز سومناتھ سے ہوا اور انجام ایودھیا میں ہونا تھا لیکن ایودھیا پہنچنے سے پہلے بہار میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو نے انہیں بہار میں ہی گرفتار کرلیا اس وقت مرکز میں وشوناتھ پرتاپ سنگھ کی بی جے پی کی بیساکھی پر چلنے والی حکومت تھی، انتقامی کارروائی کے طو رپر بی جے پی نے حمایت واپس لے لی اور وی پی سنگھ کی حکومت گرگئی اس کے بعد مرکز میں نرسمہا رائو کی قیادت میں حکومت قائم ہوئی اور اس دوران رام جنم بھومی کےلیے جس انداز سے تحریک چلائی گئی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ کو بابری مسجد شہید کردی گئی۔ اڈوانی کی اس رتھ یاترا کے منتظمین میں سے ایک نریندر مودی بھی تھے جو اس وقت ملک کے وزیر اعظم ہیں اور اس رتھ یاترا کے ہیرو لال کرشن اڈوانی آج بھی بی جے پی میں ہیں پارٹی کے سینئر لیڈر ہیں لیکن نریندر مودی نے انہیںنشان عبرت اور نمونہ عبرت بناکر چھوڑ دیا ہے اور وہ اپنی رہائش گاہ میں قید ہوکر اپنا ز خم سہلا رہے ہیں۔
آج حالات کم وبیش وہی ہیں اور ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ جیسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، ہندو تو وادی ایک عرصہ سے رام مندر کے نام پر سیاست کررہے ہیں اور رام مندر کے نام پر تحریک چلاکر بی جے پی طاقتو ر ہوتی چلی گئی لیکن مندر بنانے کی پوزیشن میں وہ کبھی نہیں تھی اٹل بہاری واجپئی ملک کے تین مرتبہ وزیر اعظم بنے لیکن انہو ںنے رام مندر کی تعمیر کی سمت کوئی قدم نہیںاُٹھایا ان کی طرف سےکہا گیا، حکومت اکثریت میں نہیں ہے اور وہ اپنے وجود کےلیے دوسروں کی محتاج ہے اس لیے جب اس کی حکومت قائم ہوگی اس وقت رام مندر کی تعمیر کریں گے۔ ۲۰۱۴ میں نریندر مودی کی حکومت قائم ہوئی اسے لوک سبھا میں واضح اکثریت حاصل ہوئی لیکن راجیہ سبھا میں نہیں۔ ایک سرکردہ آنجہانی ہندو تووادی لیڈر نے مودی کے وزیر اعظم بننے پر کہا تھا کہ پرتھوی راج چوہان کے بعد پہلی مرتبہ کوئی ہندو راجہ ملک کے تخت پر براجمان ہوا ہے ۔ آج نریندر مودی کو اقتدار میں آئے ساڑھے چار سال ہوچکے ہیں اس دوران انہوں نے بہت سی فتوحات کیں ملک کی بہت سی ریاستوں میں جہاں غیر بی جے پی حکومتیں تھیں وہاں بی جے پی حکومتیں قائم ہوگئیں کئی جگہ زور زبردستی کے ذریعے بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت مسلط کردی گئی راجیہ سبھا میںپارٹی کی حالت بہت بہتر ہوگئی صدرجمہوریہ نائب صدر جمہوریہ یہاں تک کہ راجیہ سبھا کا ڈپٹی چیئرمین بھی انہوں نے اپنی مرضی کا منتخب کرلیا لیکن رام مندر کی تعمیر کےلیے انہوں نے سنجیدہ کوشش کی نہیں کی۔
اس دوران بابری مسجد کی ملکیت کا مقدمہ سپریم کورٹ میں چلتا رہا، ہندو تو وادی رہنما اور تنظیموں کے نام رام مندر کی تعمیر کے نام پر اشتعال انگیزی کرتے رہے، سبرامنیم سوامی جیسے لوگوں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات بھی سامنے آئے، بابری مسجد کا سودا کرنے کے لیے شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی جیسے سوداگر منظر عام پر آئے تو دوسری طرف شری شری روی شنکر نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش کی، ہندوتو وادی کہیں سے ایک مغل شہزادہ بھی تلاش کرلائےتھے جو خود کو سلطنت مغلیہ کا وارث قراردے رہا تھا اس دوران سپریم کورٹ میں مقدمہ کی شنوائی جاری رہی، گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے اس شنوائی کو جنوری تک کے لیے ملتوی کردیا ۔
اس کے بعد سے ہی ملک میں رام مندر کے نام پر ہیجانی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، حکومت پر اس بات کےلیے دباو ڈالا جارہا ہے کہ وہ رام مندر کے لیے یا تو قانون بنائے یا پھر آرڈی نینس جاری کرے دارالحکومت دہلی میں سادھو سنتوں کا اجتماع ہوا اس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کا انتظار کیے بغیر رام مندر کی تعمیر کی بات کی گئی اس دوران جو بھی بیانات آئے ہیں وہ حد درجہ اشتعال انگیز اور ماحول کو خراب کرنے والے ہیں، ایسی خبریں بھی آئی ہیں کہ حکومت اس سلسلہ میں کوئی آرڈی نینس بھی جاری کرسکتی ہے۔ پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بھی طلب کیاجاسکتا ہے اس طرح کی سرگرمیوں سے مسلمانوں میں کافی بے چینی پھیلی ہوئی ہے جس طرح سپریم کورٹ میں مقدمہ زیر سماعت ہونے کے باوجود رام مندر کی تعمیر کی بات کہی جارہی ہے وہ بالکل غیر جمہوری اور غیر آئینی ہے۔ اس معاملہ میں اب تک مسلم قیادت اور مسلم تنظیموں نے حدر دجہ معاملہ فہمی ، بالغ نظری اور اصول پسندی کا ثبوت دیا ہے۔ بی جے پی کو ۲۰۱۹ کے لوک سبھا الیکشن سے قبل ملک کی پانچ ریاستوں میں الیکشن کا سامنا ہے۔ مودی حکومت کی کارکردگی ہر گز ایسی نہیں ہے جس کی بنیاد پر اسے دوبارہ منتخب کیاجائے۔ رافیل تنازعہ میں وہ بری طرح پھنس چکے ہیں، مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ، اور راجستھان میں بی جے پی حکومتوں کی عدم مقبولیت اپنی انتہا کو چھو رہی ہے اس لیے ایسا لگتا ہے کہ ماحول کو خراب کرنے کی منظم اور منصوبہ بند سازش کی جارہی ہے ملک میں ایک مرتبہ پھر ۱۹۹۲ جیسے حالات پیدا کیے جارہے ہیں،لہذا حالات کو بے قابو ہونے سے بچانے کےلیے حکومت سمیت تمام فریق اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
(بی این ایس)