تاج محل میں جمعہ کے علاوہ دیگر نمازوں پر پابندی

تاج محل میں جمعہ کے علاوہ دیگر نمازوں پر پابندی

غیر آئینی اور تعصب پر مبنی قدم ، تاج محل مسجد کمیٹی کا حکومت کو میمورنڈم اور انتباہ
ٔآگرہ۔۶؍نومبر ( اظہر عمری )محکمہ آثار قدیمہ( اے ایس آئی ) نے تاج محل کے احاطے میں قائم مسجد میں نماز جمعہ کے علاوہ دیگر نمازوں پر پابندی عائد کردی ہے۔اے ایس آئی آگرہ سرکل کے سپرنٹنڈنٹ آرکیالوجی بسنت سورنکار کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے صرف مقامی باشندوں کو جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت ہے۔ مسجد کے امام سید صادق علی اور ان کا خاندا ن کئی عشروں سے امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وہ ماہانہ صرف 15روپے محنتانہ وصول کرتے ہیں۔ تاج محل انتظامیہ کمیٹی کے صدر سید ابراہیم حسین زیدی نے مقامی ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے بتا یا کہ مسجد میں نمازیں شروع سے ہی ادا کی جاتی رہی ہیں، اب اسے روکنے کی وجہ سمجھ سے بالا ہے۔وہ اس کے خلاف آواز بلند کرینگے۔واضح ہو کہ انتظامیہ کی جانب سے جنوری 2018ء میں غیر ملکیوں اور بیرون شہر کے لوگوں کو مسجد میں نماز پڑھنے پر پابندی لگا ئی گئی تھی۔ موصولہ اطلاع کے مطابق گزشتہ 3نومبر کو محکمہ آثار قدیمہ کے افسران نے زبانی طور پر امام مسجد مولانا سید صادق علی کو نماز کی ادائیگی اور امامت سے منع کردیا ، جس کے تحت مسجد کمیٹی نے اپنےغصے کا اظہا رکرتے ہوئے ایک میمورنڈم پیش کیا ہے اورعلاوہ ازیں اس حرکت پر عامۃ المسلمین کی جانب سے اشتعال بڑھ جانے کا انتباہ بھی دیا ہے ۔ واضح ہو کہ 3نومبر کو آثار قدیمہ کے افسران بوقت نماز ظہر تاج محل آئے اور امام مسجد مولانا سید صادق علی کو بلا کر زبانی طور پر نماز کی ادائیگی اور امامت سے منع کردیا تھا ۔ میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ یہ غیر آئینی اور تعصب پر مبنی قد م ہے ۔ نیز میمورنڈم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسجد کی تاریخ اولین سے لے کر اب تک اس میں نماز ادا کی جاتی رہی ہے ، کبھی اس میں کسی طرح کی کوئی مداخلت نہیں کی گئی ہے ،مگر اب اس میں نماز کی ادائیگی سے منع کیا جانا ذہنی تعصب کو اجاگرکرتا ہے ،لہٰذا اس سے گریز کیا جائے ۔ میمورنڈم میں یہ کہا گیا ہے کہ عامۃ المسلمین کے جذبات اورآئین چلی آرہی روایت کے مطابق مسجد میں نماز کی ادائیگی کی اجازت دی جائے ورنہ بصورت دیگر اس کے نتائج بہتر نہیں ہوں گے ، ہم اس کے خلاف تحریک اور احتجاج سے بھی دریغ نہیں کریں گے ۔ یہ میمورنڈم انتظامیہ کمیٹی کے صدر سید ابراہیم حسین زیدی کے علاوہ امام مسجد مولانا سید صادق علی و دیگر عہدیداران کے دستخط کے ساتھ پیش کئے گئے ہیں ۔