رام پریم یا رام کے نام پر سیاست!

رام پریم یا رام کے نام پر سیاست!

شکیل رشید

یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا’رام پریم‘عروج پرہے۔

منگل کو انہوں نے فیض آبادکانام ایودھیا رکھ دیا،کیونکہ ایودھیا میں رام جنمے تھے۔اب جس علاقے میں رام جنمےہوں وہ علاقہ بھلاکیسے کسی دوسرے نام کے ضلع میں رہ سکتا ہے!لہٰذا فیض آبادکی برسہابرس کی سنہری تاریخ کو نظرانداز کرکے……اوریہ بھول کر کبھی فیض آبادکو راجدھانی کادرجہ حاصل تھا….اسے ایودھیا میں تبدیل کردیاگیا۔رام کے پِتا راجہ دشرتھ کے نام پراسپتال کی تعمیر کااعلان کردیاگیا اورخودرام کے نام پر ایک ایئرپورٹ بنوانے کا۔لیکن اس سے بھی یوگی کا دل نہیں بھرا….اور2019کے لوک سبھا الیکشن تک دل بھرے گا بھی نہیں۔اسی لیے یوگی نے بدھ کے روز یہ اعلان کیاکہ ایودھیا میں رام کاعظیم الشان مجسمہ بنوایا جائے گا۔سوال یہ ہے کہ رام کے نام پر منصوبے توبنائے جارہے اوررام بھکتوں کے دلوں کو تسخیرکرکے انہیں دوبارہ سے بی جے پی کی جھولی میں اپنے ووٹ ڈالنے کے لیے قائل توکیاجارہا ہے،پھر بھلارام جیسی حکومت کیوں نہیں کی جارہی ہے؟

رام کی حکومت’رام راجیہ‘کے نام سے مشہورہے۔سنگھ پریواراپنے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے ’ہندوراشٹر‘کی بات توخوب کرتا ہے لیکن ’رام راجیہ‘کے تعلق سے جو باتیں سامنے آتی ہیں وہ نہ مودی سرکارمیں نظرآتی ہے اورنہ ہی یوگی کی سرکارمیں۔مثلاً والمیکی کی’رامائن‘میں تحریر ہے کہ جب رام کاراج تھا‘تب یعنی ’رام راجیہ‘میں کوئی بیوہ آہ وفغاں کرتی نظرنہیں آتی تھی‘جنگلی جانورکسی کے لیے خطرناک ثابت نہیں ہوتے تھے،بیماریاں عنقا تھیں،دنیاچوروں اورلٹیروں سے خالی تھی‘لوگ ایک دوسرے کاقتل نہیں کرتے تھے،سب ہی خوش تھے،سب کو سکون حاصل تھا،جنتا بااخلاق اورجھوٹ سے کوسوں دورتھی۔

اب مودی اوریوگی کے’رام پریم‘کااساطیری’رام راجیہ‘سے موازنہ کیا جائےتوزمین اورآسمان کافرق نظرآجاتاہے۔ان دونوں کے راج میں بیوہ عورتوں کی بات توچھوڑیں غیرشادی شدہ لڑکیاں بلکہ بچیاں تک محفوظ نہیں ہیں۔بچیوں کے ریپ اورقتل کے واقعات یوگی اورمودی راج پر دھبّہ ہیں۔بہرائچ میں جس طرح ایک گاؤں کے مسلمانوں کو حیران کیاگیا اوران کی ماؤں اوربہنوں اوربیویوں کو ہراسا ںکیاگیا اس کا’رام راجیہ‘میں تصورتک نہیں تھا۔یوگی نے راجہ دشرتھ کے نام پر اسپتال بنوانے کااعلان توکردیا ہے لیکن ان کی اپنی’کرم بھومی‘گورکھپورکی اگربات کریں توہر سال وہاں دماغی بخار سے نہ جانے کتنے بچے مرتے ہیں۔یہ سارا قصورحکومت کی بدانتظامی کاہے مگرالزام لگتا ہےڈاکٹر کفیل جیسے کسی بے قصورپر۔مودی اوریوگی راج میں توچوراورلٹیرے آزادپھرتے ہیں۔لوگوںکومارنے اورقتل کرنے والے بڑے بڑے عہدوں پر براجمان ہیں۔کہیں رافیل سودے کے نام پر ہزاروں کروڑکے وارے نیارے ہیں توکہیں بینک کے خزانے کو ہی خالی کرنے کی ترکیبیں سوچی جارہی ہیں۔گجرات 2002ء کے قاتل ہوںکہ ملیانہ قتل عام کے یاپھر آئے دن ’ماب لنچنگ‘کرنے والے ہوں سب کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔اوروہ جو خوب پھینکتے یعنی جھوٹ بولتے ہیں وہ سیاہ وسفید کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔لہٰذا رام کے نام پر یہ کھیل صرف اورصرف سیاسی ہے۔’رام پریم‘کے نام پر صرف اپنی روٹی سینکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔لیکن مجسموں کی یہ جوسیاست شروع ہوئی ہے یہ کسی کام شاید نہیں آئے گی۔اب یہ دیکھیں کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کامجسمہ توبنالیکن اس کے آس پاس بسنے والے پانی کو ترستے ہیں۔رام کامجسمہ ایودھیا میں بن توجائے گا لیکن سارے یوپی میں جو غربت ہے اوربے روزگاری میں جوآئے دن اضافہ ہورہا ہے اس کاکوئی علاج یوگی کے پاس نہیں ہے۔یہ واضح رہے کہ را م مندرکی اورمجسموں کی اورشہروں کے نام کو تبدیل کرنے کی سیاست 2019ء کے الیکشن میں بھی اسی وقت کام آسکے گی جب ملک کا’وکاس‘ہوگا۔ملک وکاس سے کوسوں دورہے۔لاء اینڈآرڈر مسئلہ ہے۔فرقہ پرستی عروج پرہے۔لوگ خوف اورڈرکے ماحول میں جی رہے ہیں۔مودی اوریوگی آپ جان لیں کہ اس طرح جیت ممکن نہیں ہے۔اگربی جے پی کو جیتنا ہےتوان سب منصوبوں اوراعلانات کو بھول کر اسےعوامی فلاح کے اوروکاس کے کام کرنا ہونگے۔ورنہ اس کے لیے بُری طرح سے شکست لکھی ہوئی ہے۔

(بصیرت فیچرس)