جہان بصیرتخبردرخبر

ریمورٹ کنٹرول سنگھ پریوارکے پاس ،مودی کااظہارِفخرچہ معنی دارد؟

کیامودی اوران کے وزراء نے رازداری کے حلف کی خلاف ورزی نہیں کی؟
آرایس ایس کاحساب لیناغیرقانونی
محمدشارب ضیاء رحمانی
آر ایس ایس اور حکومت کے درمیان سہ روزہ میٹنگ مکمل ہوگئی جس میں آرایس ایس نے مودی حکومت سے اس کی کارکردگی پررپورٹ کارڈطلب کیا،سنیئروزراء نے اپناحساب کتاب پیش کردیااور تیسرے دن تو وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی صرف حاضری ہی نہیں دی بلکہ کھلے عام خودکوآرایس ایس کاکارسیوک بتاتے ہوئے اسے اپنے لئے باعث فخرقراردیا،نیزانہوںنے کہاکہ سنگھ پریوارکی قربانیوں کاہی نتیجہ ہے کہ آج وہ یہاں اس عہدہ پرفائزہیں۔انہوں نے اپنے گرو کویقین دہانی کرائی کہ ان کی حکومت بڑی تبدیلیوں کیلئے کام کر رہی ہے۔اوران کے نتائج بھی جلدہی ظاہرہونے لگیں گے ۔وزیراعظم نے ان ’’بڑی تبدیلیوں‘‘کی گرچہ وضاحت نہیں کی لیکن آثاروقرائن بتارہے ہیں کہ اس سے مرادملک کے پورے سسٹم کابھگواکرن ہے،جس کے نتائج ظاہرہونے لگے ہیں۔دوسری طرف گروبھاگوت نے بھی حکومت کی پیٹھ تھپتھپائی اوراطمینان کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ مودی حکومت صحیح سمت میں کام کر رہی ہے۔
مودی جی کے علاوہ حکومت کے کئی سنیئر وزراء نے بھی داخلی ،سلامتی،تعلیمی اورخارجہ پالیسی سمیت اہم مسائل پر حکومت کی کارکردگی پر رپورٹ پیش کی۔بحث میں سینئر مرکزی وزراء راج ناتھ سنگھ،ارون جیٹلی، سشماسوراج،منوہرپاریکر،وینکیانائیڈو،اننت کماراوراسمرتی ایرانی نے شرکت کی ۔ان کے علاوہ مودی کے عزیزشاگردامت شاہ بھی موجودرہے۔
دوسری طرف اپنی پریس کانفرنس میں آرایس ایس نے کانگریس پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس کو سوال پوچھنے کاکوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔سنگھ نے اس طرح کی تنقید کوگرچہ مسترد کر دیا کہ وہ’’ریموٹ کنٹرول‘‘کی طرح کام کررہاہے۔سنگھ نے کہا کہ ہم حکومت کے کام کاج کا جائزہ نہیں لے رہے ہیںاورنہ ایجنڈہ دے رہے ہیں،بلکہ صرف وزراء کو اپنی طرف سے تجویزبتارہے ہیں جو رضاکارہیں اورآرایس ایس کو ایسا کرنے کا حق ہے۔
دوسری طرف وزیراعظم کایہ اعتراف کہ وہ آرایس ایس کے کارسیوک ہیں،اوراسی کی وجہ سے وہ یہاں ہیں،کے بعدکیااب کسی صفائی کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟۔اپوزیشن کایہ الزام اب ثابت بھی ہورہاکہ دہلی کاریموٹ کنٹرول ناگپورمیں ہے،توپھروزیراعظم سمپردایکتاکوزہربتاتے ہوئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی وکالت کیوں کرتے ہیں؟۔چندماہ پہلے سنگھ پریوارکواستعفیٰ دینے کی گیدڑبھبھکی بھی دینے کی خبرآئی ہے۔وزیراعظم پارٹی یاکسی تنظیم کانمائندہ نہیں،ملک کاسربراہ ہوتاہے،مودی جی نے پارلیمنٹ میں اپنی پہلی تقریرمیں ملک کی خدمت کاوعدہ کیاتھا،لیکن آج انہیں اپنے آرایس ایس کے کارسیوک ہونے پرفخرہورہاہے؟۔
اگروہ ملک کے سربراہ ہیں تووہ آرایس ایس کے کارسیوک اوررضاکارنہیں ہوسکتے،سنگھ پریوار تو ترنگے کوتسلیم کرتاہے ،نہ ملک کے جمہوری ڈھانچہ کواورنہ ملک کے سیکولرآئین کو،تو پھرترنگے کے نیچے کھڑے ہوکراوراس کی دہائی دے کرکیئے گئے ان کے وعدوں پرکیااعتبارکیاجائے،بابائے قوم مہاتماگاندھی کے قاتل اورآرایس ایس لیڈرناتھورام گوڈسے کامجسمہ بنانے کامطالبہ بھی ان کی پارٹی کے لیڈرپارلیمنٹ میںکرچکے ہیں،مہاتماگاندھی کی شہادت کے بعداس وقت کے وزیرداخلہ ولبھ بھائی پٹیل نے آرایس ایس پرپابندی بھی لگادی تھی،لیکن سیاسی مداخلت نہ کرنے کے وعدے پراس سے پابندی ہٹائی گئی۔لیکن اس نے دھیرے دھیرے اپنے قدم کوجمایااوراپنی سیاسی ونگ کے ذریعہ اب وہ مرکزپرحکمراں ہے،اس کاتودعویٰ اب بھی ہے کہ وہ ایک ثقافتی تنظیم ہے ،سیاست سے اس کاکوئی لینادینانہیں ہے۔لیکن وہ پوری طرح بی جے پی کے پالیسی سازکاکرداراداکررہی ہے۔
جمہوری اورمنتخب حکومت میں کسی تنظیم کی مداخلت جمہوریت کی توہین ہے ،دوتین دنوں کی رپورٹ سے واضح ہوجاتاہے کہ حکومت سنگھ پریوار کے براہ راست کنٹرول میں ہے جو سیکولر ازم کے اصول کیلئے نہایت خطرناک ہے ۔اس سے یہ بھی ثابت ہوگیاہے کہ بی جے پی حکومت آر ایس ایس کی سیاسی شاخ کے طور پرکام کررہی ہے۔اوراس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وزیراعظم اوران کی کابینہ نے جمہوریت کے مندرمیں رازداری کاحلف اٹھایاتھا،سنگھ کی میٹنگ میں اپنی وزارت کی رپورٹ دینااس رازداری کی حلف برداری کی بھی خلاف ورزی ہے۔
(مضمون نگار بصیرت میڈیا گروپ کے فیچر ایڈیٹر ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker