ماں تیری عظمت کو سلام!

ماں تیری عظمت کو سلام!

صدیق احمد

جوگواڑ نوساری گجرات

جیسا کہ آپ بخوبی واقف ہیں کہ دنیا میں ایک ماں ہی تو ہے جو اپنی اولاد کے لیے جان بھی قربان کردیتی ہے .لیکن آج کے اس ترقی یافتہ دور میں ۹۸ فیصد مائیں مظلوم سمجھی جاتی ہیں .رفتہ رفتہ اسمیں اضافہ ہوتا جا رہا ہے . جسکی بنیاد احکام شرعیہ سے صرف نظر کر کے زندگی گزارنا اور انکی قدر ومنزلت کا لحاظ نہ رکھنا ہے. باوجودیکہ اللہ تبارک وتعالی نے انہیں ایسا مقام دیا کہ اپنی عبادت کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا جیساکہ قرآن کریم میں ۱۵پارہ میں ہے . اور حدیث پاک میں بھی منقول ہیکہ وہی تمھاری جنت اور دوزخ ہے . اگر قدر کرو تو جنت ورنہ جہنم تیار ہے .

افسوس کا مقام ہیکہ بے چاری ماؤں کی بچپن سے لے کر اب تک کی زندگی بھی مظلوم ہی ہوتی ہے. چونکہ ابتداء وہ دونظری کا شکار ہوتی ہے. جسکی شریعت میں کو ئ گنجائش نہیں ہے لڑکوں کو ترجیح دی جاتی ہے یہ بے چاری ایسے ہی پڑی رہتی ہے. بسا اوقات تو انکو دینی تعلیم سے بھی ناواقف رکھا جاتا ہے. اسکے برخلاف چارے نہ چارے دنیوی تعلیم سے آراستہ کرایا جاتا ہے . جو سراسر آزادی اور ضیاع اوقات پر مبنی ہوتی ہے . جب سن بلوغ کو پہنچتی ہے تو ماں باپ اس سے پوچھے بغیر اوربلارضامندی کے کسی بھی مرد کے ہاتھ میں تھمادیتے ہیں. حالانکہ اسلام نے لڑکی سے پوچھ کر عقد کروانے کا حکم دیا ہے. جسکو معاشرہ میں عار سمجھا جاتا ہے . اور جہیز کے نام پر نام ونمود کی خاطر مال ودولت کا ایک بڑا حصہ خرچ کر کے فخر کرتے ہیں. اور شرعی وراثت سے محروم کر دیتے ہیں .

یہ بات یاد رہے کہ جہیز سے شرعی حقوق ادا نہیں ہونگے. بلکہ ترکہ دینا ہی ہوگا . ورنہ اسکا حساب لیا جاءے گا . شادی بھی صرف مال و دولت کو دیکھ کر کرایا جاتا ہے . جو سراسر ظلم اور حق تلفی ہے.

بلکہ اصل تو دینداری کا لحاظ رکھنا ہے اب وہ بے چاری ماں باپ کی ناک نہ کٹ جاءے اسکی خاطر پوری زندگی اپنے شوہر کو جھیلتی ہے. اور ماں باپ بھائ بہن اعزہ واقارب کو خیر اباد کہ کر اپنے شوہر کے لیے پوری زندگی وقف کردیتی ہے. یہاں پر بھی ظلم کی چکی میں پیسی جاتی ہےنہ شوہر محبت و پیار دیتا اورنہ قدر کرتا ہے . بلکہ نوکرانی سمجھ کر رکھتا ہے . جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ سے از حد محبت کرتے تھے . ایک ساتھ کھاتے تھے . یہاں تک کہ حدیث میں لکھا ہے کہ حضرت عائشہ کے منہ میں اپنے دست مبارک سے لقمہ ڈال کر کھلاتے تھے . تعجب ھیکہ ہم نبی کے طریقہ کو عار سمجھ کر اس سے انحراف کرتے ہیں. ہونا تو یہ چاہیے کہ محبت کے ساتھ زندگی گزاریں. انکی بھی کچھ باتیں مانی جاءے. محبت کا اظھار کیا جاءے. انکے اچھے کاموں کو سراہا جاءے. اچھے کھانے کی تعریف کی جاءے .

غور کرنے کا.مقام ہیکہ اسنے آپکے لیے خاندان تک کو چھوڑ دیا آپکے ہر فیصلے کو مانتی ہے . پھر بھی آپ اسکو محبت نہیں دے سکتے اسکو اچھے سے نہیں رکھ سکتے؟

یاد رہے فریقین میں سے کسی نے بھی حق تلفی کی تو قیامت کے دن یقینا پوچھ ہوگی اسوقت کیا جواب ہوگا؟

جوں جوں وقت گزرتا ہے مزید پریشانی برھتی جاتی ہے. ۹ مہینہ بچے کی مشقت برداشت کرکے درد زہ کی تکلیف کو بھی سہتی ہے . پھر بعد میں بھی کتنی راتیں بچے کی خاطر نیند کو قربان کر تی ہے . لیکن یہی بچہ جب بتدریج پروان چڑھتا ہے تو اسکی تربیت کی فکر کرتی ہے. گھریلو کام کاج کے ساتھ سارے مصائب بخوشی جھیلتی ہے. کسی سے آہ وبکاء بھی نہیں کرتی . شوہر کی بات مان کر بچے کی ضد کو بھی پوری کرتی ہے. اتنی ساری مشقتیں جھیلنے کے بعد بھی بڑھاپے میں وہ تنہائ کی تلخی چکھتی ہے کو ئ پرسان حال تک نہیں ہوتا.

حالانکہ اسکی خواہش یہی ہوتی ہے کہ میرا بیٹاترقی کرکے نام کرے گا شوہر کے تئیں بھی یہی سوچ ہوتی ہے . لیکن بد بخت اولاد اسکو یہ صلہ دیتی ہے کہ اولڈہاؤس میں تنہا چھور آتی ہے . یا اگر گھر پر رکھے تو ایک بوجھ اور بار گراں سمجھ کر رکھتی ہے.

غور کرنے سے آپکو پتہ چل جائے گا کہ پوری زندگی ماں بلا اجرت کے کام کرتی ہے دنیوی کوئ غرض نہیں ہوتی خالص اللہ کے لیے کرتی ہے .

افسوس صد افسوس اسلامی تعلیمات سے دوری نے ہمیں ایسی جگی لاکر چھور دیا کہ ہم انکی صحیح طور سے خدمت تو کیا کرتے ظلم کا نشانہ بنا رہے ہیں. اتنے سارے مظالم سہنے کے باوجود وہ اپنے شوہر یا اولاد کے لیے بدعا نہیں کرتی.

ان تمام کو سامنے رکھ کر ایک عقلمند باشعور انسان خود ہی فیصلہ کر سکتا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے . اور کر کیا رہے ہیں.

یاد رکھیں اگر اب بھی غفلت کی چادر نہیں ہٹی تو آخرت میں اسکا وبال بڑا خطرناک ہو گا. دنیا میں بھی آپ بچیں گے نہیں. اسکی سزا یہاں بھی مل کر رہے گی . جیسا سلوک آپ اپنے والدین کے ساتھ کریں گے ویسے ہی آپکی اولاد اپکے ساتھ کرے گی.

امید ھیکہ آپ میری بات کو سمجھ کر والدین کی قدر کریں گے اورمیری تحریر آپکے لیے مشعل راہ ثابت ہوگی.

(بصیرت فیچرس)