جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

’وراٹ کوہلی تم تو ایسے نہ تھےــ‘

شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
وراٹ کوہلی کو میں گری راج سنگھ نہیں سمجھتا تھا!
نہ سمجھنے کی وجہ تھی۔ کوہلی متنازعہ بیانات سے بچتے رہے ہیں اور کھیل کے میدان میں بھی ان کا رویہ اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ، یہاں ساتھی کھلاڑیوں سے میری مراد مسلم کھلاڑی ہیں، اچھا ہی رہا ہے۔ تیز گیند باز محمد سمیع جب اپنی بیوی کی تلخ وترش باتو ںسے پریشان تھے تب کوہلی کا رویّہ ان کے ساتھ دوستانہ تھا، اور یوں لگتا تھا کہ وہ کھیل پر ان کی پوری توجہ مرکوز کروانے کےلیے کوشاں تھے۔۔۔ان کا ایک بے حد جونیئر کھلاڑی سراج کے یہاں بریانی کی دعوت پر جانا بھی ان کی وسیع القلبی کا ثبوت تھا۔۔۔فلمی دنیا کے ’خانوں‘ بالخصوص شاہ رخ خان سے ان کے تعلقات تو انتہائی گھریلو ہیں۔ اس قدر قریبی کہ انوشکا شرما سے ان کی شادی پر شاہ رخ خان نے باقاعدہ ان کےلیے جشن کا انعقاد کیاتھا۔۔۔دوسرے ممالک کے کرکٹ کھلاڑیوں سے بھی ان کے تعلقات میں تلخی نہیں دیکھی گئی۔ کھیل کے میدان پر انہیں پاکستانی کرکٹ کھلاڑیوں سے بھی گھلتے ملتے دیکھا گیا ہے۔ لہذا جب وراٹ کوہلی کی زبان سے گری راج سنگھ کی بات نکلی تو شدید حیرت ہوئی اور افسوس کے ساتھ یہ خیال بھی آیا کہ ’وراٹ کوہلی تم تو ایسے نہ تھے‘!
کوہلی نے اپنے ایک ’فین‘ یعنی ’مداح‘ کے ایک سوال کے جواب میں جو بات کہی وہ گری راج سنگھ سے لے کر شاکشی مہاراج تک بی جے پی کے کئی قائدین کہہ چکے ہیں۔ ہوا یہ کہ اپنی سالگرہ پر۔۔۔جس کا جشن ان کے مداحوں نے انہیںمبارک باد دے کر منایا تھا۔۔۔وراٹ کوہلی نے اپنی ایک ’ایپ‘ لانچ کی، اس ’ایپ‘ کا مقصد اپنے مداحوں سے رابطے میں رہنا ہے۔۔۔اس موقع پر ان کے ایک مداح نے انہیں لکھا کہ وہ ان کی بلے بازی سے کہیں زیادہ برطانوی اور آسٹریلوی بلے باز وں کو پسند کرتے ہیں۔۔ظاہر ہے کہ یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ اس پر کوہلی وہ جواب دیتے جو انہوں نے دیا۔ ان کا مایوس ہونا تو فطری تھا لیکن یہ توکسی بھی کھیل کے شائقین کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنی پسند کے کھلاڑی کو منتخب کریں، وہ کھلاڑی غیر ملکی بھی ہوسکتے ہیں۔ خود وراٹ کوہلی نے اپنے کیئریر کے آغاز میں یہ کہا تھا کہ انہیں سچن تنڈولکر کے مقابلے جنوبی افریقہ کے ہرشل گبس ایک بلے باز کے طو رپر زیادہ پسند ہیں۔۔۔وراٹ کوہلی کو اپنی بات یاد نہیں رہی اور وہ برس پڑے۔۔۔انہوں نے کہاکہ ’ہندوستان میں رہتے ہوئے جسے ہندوستانی کھلاڑی کی جگہ غیر ملکی کھلاڑی پسند ہو وہ ہندوستان چھوڑ دے‘۔ یہ انتہائی احمقانہ، انتہائی نسل پرستانہ اور انتہائی متعصبانہ بیان تھا۔۔۔ایسے بیان کی توقع کوہلی سےنہیں تھی۔
کوہلی نے جو کہا وہ انہیںنہیں کہناچاہئے تھا۔۔شاید اس طرح وہ اپنی ’قوم پرستی‘ ثابت کرناچاہتے تھے۔۔۔ان دنوں ’قوم پرستی‘ یا ’نیشنل ازم‘ کا خمار سب پر چڑھا ہوا ہے، بالخصوص مودی بھکتوں پر۔ مگر کوہلی تو مودی بھکت نہیں تھے! انہوں نے تو گوتم گھمبیر یا مہیندر سنگھ دھونی کی طرح بی جے پی کے پلیٹ فارم سے سیاسی میدان میں اترنے کا کبھی عندیہ نہیں دیا۔ انہیں ایسی بات نہیں کہناتھی جو ان کے مداحوں کو گراں گزرتی۔۔۔اور یاد رہے کہ ان کے مداحوں میں غیر ملکیوں کی بھی بڑی تعداد ہے۔ پاکستانی کرکٹ کھلاڑی بابر اعظم نے انہیں اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے۔۔۔افسوس کی بات ہے کہ ملک کا ماحول کچھ اس قدر زہریلا ہوگیا ہے کہ ان ذہنوں کو بھی متاثر کررہا ہے جوبظاہر ’سیکولر‘ تھے۔ ابھی کوہلی نےگری راج سنگھ کی بولی بولی ہے کل کو ممکن ہے کہ ساری کرکٹ ٹیم بلکہ سارے ہندوستانی کھلاڑی بولنے لگیں کہ اگر ہمارے بدلے بیرون ملکوں کے کھلاڑی پسند ہیں تو بھارت چھوڑ دیں۔۔۔اللہ اس دن کے آنے سے ہم سب ہندوستانیوں کو محفوظ رکھے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker