جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

بابری مسجد کی شہادت سے الہ آباد

اور فیض آباد کے ناموں کی تبدیلی تک ، اور اس سے بھی آگے۔۔۔
یہ غار تگران تہذیب ہیں
شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
کیایہ سب غارتگران تہذیب نہیں ہیں!
یہ سوال ذہن میں یہ خبرپڑھ کر گونج گیا کہ الہ آباداورفیض آبادکے بعدلکھنؤکابھی نام بدلا جائے گا…..
یوں لگا جیسے کسی نے دل کو مٹھی میں لے کر نچوڑدیاہو…..اورناموں کی یہ تبدیلی لکھنؤپر ختم نہیں ہوگی مزید آگے بڑھے گی‘مظفرنگر،آگرہ،احمد آباداورحیدرآبادوغیرہ وغیرہ تک۔ممکن ہے کہ یہ سلسلہ یہاں تک دراز ہوجائے کہ سڑکوں پر وہ جواکبر،بابر،اورنگ زیب،ہمایوں اورظفروغیرہ کے ناموں کے ساتھ گھومتے ہیں انہیں سرراہ پکڑلیا جائے اورکسی سرکاری محکمے میں لے جاکر ان کے ناموں کو پرتھوی،شیوراج،پرتاپ وغیرہ میں باضابطہ بدل دیا جائے…. اوراگرناموں کی اس جبری تبدیلی پر یہ مزاحمت کریں توانہیں کس کس کرکئی چانٹے رسید کر دئیے جائیں اوراس پر بھی نہ مانیں توانہیں اس’ہجوم‘کو سونپ دیا جائے جو’تشدد‘پرہمہ وقت آمادہ رہتاہے۔جی ہاں یہ سب آنے والے دنوں میں ممکن ہے۔منظرنامہ انتہائی ہولناک اورپرہول ہے۔
یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے قدیم شہرالہ آبادکانام پریاگ راج میں تبدیل کرکے بزعم خودایک بڑا تاریخی اورتہذیبی کارنامہ انجام دیاہے۔مغل شہنشاہ اکبرنے،جنہیں اس ملک کے ہندواکبراعظم کانام دیتے ہیں کیونکہ بقول ان کے اکبرانتہائی سیکولر تھا‘سورج کی پوجا کرتا تھا‘ہندورانیاں رکھتاتھا‘سنسکرت کے ودوانوں کی پذیرائی کرتا اورویدوں اوراپنشدوں کے گیانیوں کو نوازتاتھا‘مندروں کے لیے خزانے کے پٹ کھول دیتاتھا‘الہ آبادکی بنیادرکھی تھی۔تاریخ بہت واضح ہے کہ شہنشاہ اکبرنے گنگا،جمنا اورسرسوتی کے سنگم کو اورجنگی ،معاشی وتہذیبی نقطۂ نظر سے اس مقام کو اہم سمجھا تھا جہاں الہ آباد شہرہے۔مذکورہ وجوہ ہی سےالہ آبادکو بسایاگیاتھا۔ تاریخ کی متعددکتابوں میںصاف لفظوں میں شہنشاہ اکبرکے ذریعے الہ آبادکے بسائے جانے کاتذکرہ ملتاہے۔
پہلے شہرکانام ’الہ باس‘تھاپھر شاہجہاں نے اسے’الہ آباد‘کردیا۔مغل تاریخ جنہوں نے پڑھی ہے وہ الہ آبادشہر کے بسائے جانے کی تاریخ سے خوف واقف ہیں۔اب اگرکوئی یہ کہے کہ ہندوؤں کے مقدس گرنتھوں میں اس کاذکر کوسمبی کے نام سے ہے اورکوروں نے اسے اپنی راجدھانی قرار دیاتھا توبات سمجھ میں نہیں آتی کہ ایک ایسا شہرجواکبرکے دورمیں بسا اس کاذکر کیسے مقدس ہندوگرنتھوں میں ہوسکتا ہے اوراسے کیسے کوروں کی مملکت کی راجدھانی کہا جاسکتا ہے؟ہاں ’کوسمبی‘ایک ضلع ہے،لیکن یہ ’الہ آباد‘سے ہٹ کر ہے،ممکن ہے کہ یہی وہ کوسمبی ہو جس کے تعلق سے کہاجارہاہے کہ یہ پہلے’الہ آباد‘ کانام تھا۔خیر تاریخ کے صفحات میں پختہ سیاہی سے تحریر ہے کہ اکبر‘شاہجہاں اورجہانگیر نے الہ آبادکو عظیم ترشہر بنانے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی‘قلعہ بنوایا،عمارتیں بنوائیں اورتاریخ میں ایک عظیم شہرکے طور پر اس کے مرتبے پرمہر لگوادی۔یہ مغلوں کا دیا ہوا شہرتھا،جو اس ملک میں ایک فاتح کی طرح داخل ہوئے تھے لیکن جنہوں نے اس ملک کو انگریزوں کی طرح لوٹا نہیں تھا بلکہ جو کچھ اپنے ساتھ لائے تھے‘مال،خزانہ اوردولت‘وہ سب کی سب اسی ملک کی مٹی میں لگا دی تھی انہوں نے کوئی رافیل کاسودا نہیں کیا‘بینک گھوٹالے نہیں کئے‘اس ملک کو سب کچھ سونپا اورخودمر کر اسی مٹی میں مل گئے تھے۔انہوں نے ہندوستان کی قدیم ترین تہذیب کے ساتھ اپنی تہذیب کوملا کر ایک ایسی تہذیب کی بنیاد ڈالی تھی جسے گنگاجمنی تہذیب کہاجاتاتھا…..اورآج اسی تہذیب کومٹایا جارہاہے۔
لکھنؤ،آگرہ ،مظفرنگر،احمدآباد،اورنگ آباد،عثمان آبادان سب کی ایک تاریخ رہی ہے‘قدیم تاریخ….. اوراس تاریخ کوبنانے میں مغلوں کے علاوہ نوابین اودھ،شرقی سلطنت،دہلی سلطنت اورانگریزوں کا بھی بڑ ا حصہ رہاہے۔مراٹھوں کابھی اس میں کردار ہے۔اگردیکھا جائے توہر آنے والے حکمراں کی یہ کوشش رہی کہ پیش رؤں کی تہذیب کومٹنے نہ دیا جائے۔مغلوں نے اس کاسب سے زیادہ خیال رکھا لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ تاریخ کی کتابوں سے مغلوں کو خارج کیا جارہا ہے! ہندوستان پر تین صدیوں تک راج کرنےوالے مغل اب ایسے’مسلم حملہ آور‘قرار دئیے جارہے ہیں جنہوں نے’ہندوؤں پر مظالم کے پہاڑتوڑے تھے‘جنہوں نے منادرتوڑ کر ان کی جگہ مساجدبنوائی تھیں۔تاریخ کو مسنح کرنے کاعمل جاری ہے۔شہروں کے ناموں کی تبدیلی سے قبل سڑکوں کے ناموں کی تبدیلی شروع ہوئی تھی۔دہلی میں مشہوراورنگ زیب روڈ کانام تبدیل کرنے کے عمل کو بہت دن نہیں گذرے ہیں۔اب فیض آباد‘یوپی کی سابق راجدھانی‘ایودھیا کہلائے گی کیونکہ فیض آبادنوابین اودھ کی یاددلاتا ہے اورایودھیا’رام‘اور’رامائن‘کی یاددلائے گا۔ناموں کی تبدیلی کی اس مہم کو تہذیب کی غارتگری اوراس عمل میں شریک ہونے والوںکو غارتگرانِ تہذیب کے علاوہ اورکوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔چاہے یوگی ہوں کہ وزیراعظم نریندرمودی ‘چاہے بی جے پی ہو یاسنگھ پریوار‘یہ سارے جوہندوتوادی ہیں سیاست اورحکومت میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔نہ انہوں نے اورنہ ان ہندوتوادیوں کے پرکھو ںنے ملک کو کچھ دیاہے،حتیٰ کہ آزادی کی جنگ تک نہیں لڑی ہے۔ان کی کوئی تہذیب نہیں ہے سوائے نفرت کی تہذیب کے‘اخلاقی قدریں انہیں چھوکرنہیںگذری ہیں،ان کی کوئی تاریخ بھی نہیں ہے…..وہ غیرمسلم راجے مہاراجے اوردانشورجنہیں یہ اپنابتاتے ہیں کبھی ان کے نہیں تھے‘وہ حقیقی ہندوستانی تھے۔چونکہ انہوں نے ملک میں کوئی نیا شہرنہیں بسایا‘کوئی نئی سڑک نہیں بنوائی‘کوئی نیا ریلوے اسٹیشن تعمیرنہیں کروایا‘کوئی لال قلعہ ،تاج محل ،قطب مینار ان کے کارناموں میں شامل نہیں ہے اس لیے وہ ملک کی ساری تہذیبی نشانیوں کو‘بشمول قدیم ناموں کے ‘مٹا کر ان پر اپنابھگوا رنگ تھوپنے کے لیے بےقرار ہیں۔اس کی شروعات بابری مسجدکی شہادت سے ہوئی تھی جو الہ آبادکے نام کی تبدیلی تک دراز ہے اورمزیددراز ہو رہی ہے…..اس کی ایک وجہ مسلم تہذیب کو ‘مسلمانوں کی اس ملک کے تئیں خدمات کو اوران کی تعمیرات کو نیست ونابودکرناہے۔پریہ ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ وہ تہذیب ہے جو ملک بھرکی زمین سے اس طرح پیوست ہے کہ ہندو توادیوں کی لاکھ کوششیں بھی اسے نہ اس مٹی سے کھرچ سکتی ہیں اورنہ ہی مٹا سکتی ہیں۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker