جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

دھرم سبھا: رام کے نام پر دہشت !

شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
’ایودھیا کے مسلمانوں میں خوف وہراس‘ یہ اخباری سرخی حقیقی صورتحال کو اُجاگر کرنے کےلیے ناکافی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ صرف ایودھیا ہی نہیں سارے ملک کے مسلمانوںکو خوف وہراس میں مبتلا کرنے کی ایک شعوری کوشش کی جارہی ہے۔ زعفرانی ٹولے کی یہ پوری کوشش ہے کہ ۲۰۱۹ کے لوک سبھا الیکشن سے قبل سارے ملک کے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو اس حد تک خوف کی نفسیات میں مبتلا کردیاجائے کہ وہ اپنے ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکلنے کی بجائے ووٹنگ والے دن گھروں کے اندر دبک کر بیٹھ جائیں۔ ایودھیا میں ابھی سے خوف وہراس کی لہر کا نظر آنا اس لیے فطری ہے کہ ایودھیا سنگھی ڈرامے کا ’مرکز‘ ہے۔ سارا کھیل، ساری مکروہ سیاست اور تشددوفسادات کا سارا تانڈو ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے نام پر ہی ہے۔ ویسے دلچسپ امریہ ہے کہ بی جے پی اور مودی تقریباً ساڑھے چار برسوں سے برسر اقتدار ہیں، لیکن انہوں نے اس دوران کبھی کوئی کوشش بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کےلیے نہیں کی، لیکن اب جب ۲۰۱۹ کے الیکشن سرپر آگئے ہیں ، مندر اور مسجد کا تنازعہ پوری شدت کےساتھ ابھار دیاگیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کی خاموشی اور اب اچانک مچنے والے شور سے یہ خوب اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ بی جے پی کو‘ مودی کو‘ یوگی کو یا سنگھ پریوار کو ایودھیا میں مندر کی تعمیر کی نہ ہی تو عجلت ہے اور نہ ہی ضرورت بلکہ یہ سارے کا سارا تنازعہ سیاست کے توے پر روٹی گرم کرنے کےلیے ہے۔ویسے بھی ایودھیا اور رام مندر کے نام پر ہندوتووادی کئی الیکشن جیت چکے ہیں بلکہ اگر یہ کہاجائے کہ دہلی کی کرسی پر متمکن ہونے کا بنیادی سبب ہی ایودھیا اور رام مندر کے نام پر مچنے والا شور تھا تو غلط نہیں ہوگا۔
بی جے پی اور راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی ذیلی تنظیموں اور سادھو سنتوں کا سارا منصوبہ تیار ہے۔ ۲۵؍نومبر کو ایودھیا میں وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے ذریعے ایک ’دھرم سبھا‘ کا انعقاد کیاجانے والا ہے۔ مجوزہ ’دھرم سبھا‘ سے ایودھیا اور اطراف کے مسلمانوں کو اس لیے خطرہ محسوس ہورہا ہے کہ اس میں بڑی تعداد میں سادھو سنت تو شریک ہوں گے ہی رام بھکتوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہوگی۔ دعویٰ ہے کہ لاکھوں رام بھکت ایودھیا پہنچیں گے۔ سوال یہ ہے کہ ان دنوں صوبہ یوپی میں بی جے پی کی حکومت ہے اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ہیں جو خود رام مندر تحریک کے سرگرم لیڈروں میں سے ایک ہیں، لہذا ایودھیا اور اطراف کے علاقوں کے مسلمانوں کی جان ومال کے تحفظ کی کیا ضمانت ہے؟ جب اس ملک کی سیاہ تاریخ ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ کو ایودھیا میںبابری مسجد شہید کی گئی تھی، وہ بھی سپریم کورٹ کو دی گئی اس یقین دہانی کے باوجود کہ بابری مسجد کو شہید نہیں ہونے دیاجائے گا، تب رام بھکتوں نے مسلمانوں کے گھروں، مسجدوں اور درگاہوں کو نشانہ بنایا تھا، انہیں نذرآتش کیا تھا ، لوگوں کو ہلاک کیا اور کئی لوگوں کو زندہ جلایا تھا، تو اب انہیں کون اس طرح کے تشدد کا باز ار گرم کرنے سے روک سکتا ہے؟ اب تو ان کی حکومت ہے یعنی ’سیّاں بھئے کوتوال توڈر کا ہے‘! خطرہ یہی ہے کہ رام بھکتوں کو رام کے نام پر دہشت پھیلانے کی پوری چھوٹ ہوگی۔ ایودھیا کے علاوہ سنگھ کے مرکز ناگپور، بنگلو ر اور دہلی میں بھی دھرم سبھائیں ہوں گی اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ سارے ملک میں رام کے نام پر دہشت پھیلانے کا منصوبہ تیار کیا جاچکا ہے۔
مسلمانوں میں خوف ودہشت فطری ہے۔ مرحوم ہاشم انصاری کے صاحبزادے نے اگر ایودھیا میں مسلمانوں کی حفاظت کے پختہ انتظامات کے لیے آواز اُٹھائی ہے تو وہ حق پر ہیں۔ حالات واقعی مخدوش ہیں۔ بی جے پی کی مرکزی سرکار ہر محاذ پر ناکام ہے۔ یوپی ریاست کی یوگی سرکار نے شہروں کے ناموں کی تبدیلی کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے۔ بی جے پی کے سامنے ۲۰۱۹ کے لوک سبھا الیکشن کے حوالے سے، اندھیرا ہی اندھیرا ہے، اس لیے پورے زور شورو سے ایودھیا اور رام مندر کے آزمائے ہوئے نسخے کو دوبارہ آزمانے کی تیاری ہے۔ اور اس نسخے میں تشدد کا عنصر لازمی ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے صاف صاف یہ اشارہ دےد یا ہے کہ الیکشن رام مندر اور ہندو تو ا کے نام پر ہی لڑا جائے گا۔ اگر ایک جانب سنگھی ٹولہ ہے تو دوسری جانب پروین توگڑیا ہیں، شیوسینا کےسربراہ ادھو ٹھاکرے ہیں اور وہ سادھو سنت ہیں جو بی جے پی سے اس لیے ناراضگی کا ڈرامہ کھیل رہے ہیں کہ بی جے پی نے مندر نہیں بنوایا ہے۔ یہ سارے کردار اس ملک کےلیے اور مسلمانوں کےلیے مصیبت اور پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں۔ مرکزی اور صوبائی سرکاریں تو رام مندر کی حامی ہیں اس لیے امید نہیں کہ وہ کچھ کریں گی۔ ہاں انہیں پوری غیر جانبداری سے چوکنا رہنے کی شدید ضرورت ہے جن کے کندھوں پر لاء ا ینڈ آرڈر کی ذمے داری ہے۔ سپریم کورٹ کو حالات پر ہمہ وقت نظر رکھنی چاہئے۔ اپوزیشن کوچاہئے کہ وہ سنگھی ٹولے کے خلاف متحد ہوکر کھڑا ہو تاکہ اس ملک کی اقلیتیں بالخصوص مسلم اقلیت خود کو محفوظ محسوس کریں۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker