شعر و ادبمضامین ومقالاتمیزان بصیرت

شیعہ سنی کشمکش میں صلیبی جنگوں کے أثرات

مبصر: ذاکر اعظمی ندوی، ریاض
حال ہی ميں مسلکی تصادم کی تاريخ پر گہری نگاہ رکہنے والے جواں سال مصنف ڈاکٹر محمد مختار الشنقيطی کی شائع شدہ کتاب ’’(أثر الحروب الصليبي علی العلاقات السني الشيعي) شيعہ سنی کشمکش ميں صليبی جنگوں کے أثرات‘‘ پر نظر پڑی۔مذکورہ کتاب ايک حساس وپيچيدہ تاريخی موضوع يعنی شيعہ سنی كکشمکش کے بنيادی اسباب کو زير بحث لاتی ہے۔ 1095ء میں جب بابا اوربان ثانی نے فرانس کے کلير مون شہر سے مقدس مقامات کو مسلمانوں کے تسلط سے آزاد کرانے کی غرض سے صليبی جنگوں کا اعلان کيا، اس وقت مصر ميں اسماعيلی شيعوں کی فاطمی خلافت کا بول بالا تھا تو دوسری طرف شام ميں امامی شيعوں کی اکثريت پائی جاتی تھی۔ ليکن جب 1291ء ميں غلامان ترک نے ساحل شام پر واقع انگريزوں کے آخری قلعہ پر اپنا قبضہ جماليا وہیں سے ان صليبی جنگوں کا خاتمہ ہوگيا جو دو صديوں پر محيط تھیں، اور اسی کے ساتھ ـ مسلمانوں کی اندرونی کشمکش کا نقشہ بھی يکسر تبديل ہوگيا۔ اگر ايک طرف مصر کی فاطمی خلافت زوال پذير ہوئی تو دوسری طرف بلاد شام کی شيعہ اکثريت نے سنی مسلک اختيار کرليا۔ کتاب ہذا میں مصنف يہ مفروضہ پيش کرتے ہيں کہ بارہويں وتيرہويں صدی عيسوی کے دوران واقع ہونے والی صليبی جنگوں نے شيعيت کے غلبہ کو مصر وشام میں روکا جس کے نتيجہ ميں شيعيت کا رعب ودبدبہ بلاد عرب سے بلاد فارس يعنی ايران کی طرف منتقل ہوگيا۔ اس ميں شک نہیں کہ صليبی جنگوں کے نتيجہ ميں شيعہ سنی اختلاف کی خليج ابتدائی ايام میں کافی حد تک وسيع ہوئی ليکن وقت کے ساتھ ـ دونوں فرقوں میں کسی حد تک اتحاد واتفاق کی فضا قائم ہوگئی۔ کتاب کی سب سے اہم خصوصيت يہ ہے کہ يہ صليبی جنگوں کے دوران شيعہ سنی تعلقات کی نوعيت پر ايک ايسا تاريخی جائرہ پيش کرتی ہے جو مروجہ تاريخ سے قدرے مختلف ہے، تو دوسری طرف صليبی جنگوں کے دوران دونوں فرقوں كکے مابين تعلقات کن نشيب وفراز سے گزرے اور ان ميں ہمارے لئے کيا درس عبرت ہے اس پر بھی سير حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ 5 ابواب پر مشتمل كکتاب كکے پہلے باب کا عنوان ہے’’ بحیرہ روم کے ساحلوں پر خون: صلیبی جنگوں کے مد مقابل ترکی قافلے‘‘۔ مصنف نے اس باب کے تحت ابن خلدون کے نظريہ عصبيت کا سہارا ليکر ترکوں کے عروج کے اسباب اور اسلامی تاريخ کی نشأۃ ثانيہ ميں انکے دليرانہ کردا ر کو نماياں انداز میں پیش کيا ہے، اور يہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ يہ ترکوں کی شجاعت و دينی حميت تھی جس نے دو صدیوں تک صليبيوں کے دانت کھٹے کرتی رہی، بالآخر يہ طويل مذہبی جنگ صلاح الدين ايوبی کی زير قيادت صلبيوں کی شکست فاش کے ساتھ ـ اختتام پذير ہوئی۔ دوسرے باب ’’صليبی جنگوں کے بعد فرقہ واريت‘‘ میں مسلم ممالک شام، مصر، اور مغرب عراق ميں صليبی جنگوں کے اثرات سے پرواں چڑھ رہی فرقہ واریت پر مسلم مورخين اور سياحوں کے حوالوں سے تفصيل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ در اصل يہ باب صليبی جنگوں کے سبب وجود ميں آئی پيجيدہ شيعہ سنی کشمکش کو سمجھنے ميں کافی حد تک معاون ہے اور قاری کو ان گوشوں سے روشناس کراتا ہے جو متعصب تجزيہ نگاروں نے مذہبی تعصب کے سبب توڑ مڑوڑ کر پيش کيا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ امامی بويہوں اور سلجوقيوں کے زوال کے بعد جب سنيوں كو سياسی برتری حاصل ہوئی تو اسوقت عراق میں شيعہ سنی دونوں فرقوں کے لوگ آباد تھے، جب کہ مصر فاطمی شيعوں کے زير اثر تھا اور وہاں کی اکثريت سنيوں پر مشتمل تھی، شام ميں شيعوں کی اکثريت تھی اور وہاں کی زمام کار ترک سنی امراء کے ہاتھوں ميں تھی۔ يہ بھی ايک تاريخی حقيقت ہے کہ بلاد شام ميں صليبی حلموں کے شروعات کے زمانے میں بنی عمار بطرابلس کی امارت کے استثنا کے علاوہ وہاں شيعوں کی کوئی حکومت نہیں تھی۔ چوتھا اور پانچواں باب جو کتاب کا لب لباب ہے وہ صليبی جنگوں کے دوران سنيوں اور شيعوں کی تین جماعتوں فاطمی، نزاری اور امامی کے مابین تعلقات کا احاطہ کئے ہوئے ہے، اور يہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اہل سنت اور شيعہ اماميوں نے صليبيوں کے خلاف یک صف ہوکر مشترکہ دشمن کا مقابلہ کيا بخلاف اسکے جيسا کہ آج پيش كکیا جارہا ہے ۔
Zakir Nadwi Book-14-12-15مصنف نے دمشق، طرابلس، عسقلان وحلب ميں واقع معرکوں سے اس کی کئی مثاليں پیش کی ہیں۔ انگريز وں کے خلاف محاذ میں اہل سنت اور امامی شيعوں کے درميان اتحاد کے تين وجوہ بيان کئے گئے ہيں (1) مسلکی تقارب (2) جغرافيائی قربت (3) صفوی دور کے ماقبل کی منفی سياست باين طور کہ برعکس اسماعيلی شيعوں کے اماميوں نے اسوقت کی سنی قيادت کے خلاف کبھی بھی اپنے آپ كکو سياسی خطرہ کے طور پر نہیں پیش کيا۔ يہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ فاطميوں نے انگريزوں کے ساتھـ معاملہ کرنے ميں بازنطينيوں جيسی سياسی مکاری کو اپنایا، ليکن انگريزوں کے تعلق سے ان کی خوش فہميوں کا حسين محل اس وقت چکنا چور ہوگيا جب انگريزوں نے بيت المقدس کو فاطميوں سے بزور قوت چھین کر اس پر قابض ہوگئے۔ جس کے نتيجہ ميں فاطميوں کو بھی صليبی جنگ ميں کودنا پڑا اور وہ ايک تير سے دو شکار کرتے رہے يعنی سنيوں اور انگر يزوں کو باہم ديگر پیکار كکرنا، اور جب ديکھا کہ مصر کی قيادت انگريزوں کے ہاتھوں میں جانے والی ہے تو انہوں نے وہاں کی زمام کار سنيوں کے حوالہ کردی۔ جہاں تک نزاری شيعوں کا تعلق ہے تو انہوں نے سنيوں کے خلاف محاذ آرائی میں وہ گھناؤنا خونی کھيل کھيلا جس كکے تذکرے سے تاريخ شرمسار ہے، ليکن جب صلاح الدين ايوبی کا دور شروع ہوا تو نزاريوں نے اہل سنت کے ساتھـ تفاہم کا راستہ اپنا کر صليبيوں کے خلاف سنيوں کے شانہ بشانہ جنگ ميں اہم رول ادا کيا۔ جب کہ اسماعيلی شيعوں نے امن پسند جماعت کا روپ دھار ليا اور اپنے سياسی وعسکری عزائم سے دستبردار ہوکر اسلامی معاشر ے میں ضم ہوگئے۔ پانچويں باب کی سب سے اہم خصوصيت يہ ہے کہ وہ قاری کے ذہن کو ماضی سے حاضر کی طرف منتقل کرتا ہے اور شيعوں اور سنيوں کے ذہن میں صلاح الدين ايوبی کی شخصيت کی عظمت کو راسخ کرتے ہوئے عصر حاضر کے صليبوں کے خلاف شيعہ سنی اتحاد کو ناگزير گردانتا ہے۔ اور اس بات پر زور دیا گيا ہے کہ سلطان صلاح الدين ايوبی اسلام کے وہ ہيرو تھے جنہوں نے مشترکہ دشمن کے خلاف متحد ہونے کی ہمارے سامنے ايک تاريخی مثال چھوڑی ہے۔ اخیر میں مصنف کتاب نے صليبی جنگوں کے ما بعد دو صديوں کے تعلق سے اپنا نظريہ پیش کيا ہے اور يہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ صليبی جنگوں کے نتيجہ ميں شيعيت کا مرکز بلاد عرب سے بلاد فارس کی طرف منتقل ہوگيا، وہ عراق جو اپنے ابتدائی زمانے سے ہی شيعيت کا منبع رہا تھا وہاں سے بھی شيعوں کی سياسی وفکری بساط لپيٹ دی گئی، ليکن مشرقی عراق ميں اسلام کی ابتدائی پانچ صديوں تک اسکے اثرات باقی رہے مگر مشرقی عراق میں پائی جانے والے ان چھوٹے چھوٹے راجواڑوں کا تقابل مصر کی فاطمی سلطنت سے کسی صورت نہیں کيا جاسکتا۔
يہ ايک ناقابل انکار تاريخی حقيقت ہے کہ صفوی سلطنت کے آغاز کے ساتھ ـ شيعہ سنی اختلافات ايک نئے مرحلے ميں داخل ہوگئے، اور دونوں فرقوں کے درميان دورياں بڑھتی گئیں، جبکہ لبنان ميں صفويوں کا ہم خيال شيعہ گروہ شيعہ سنی تصادم کو ايک نيا رنگ ديتا رہا جس کا خميازہ آج پورا عالم اسلام بھگت رہا ہے، ايسے ميں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تاريخ کا مطالعہ اسکے صحيح پس منظر ميں کريں کيوں کہ ’’ايک نئے مستقبل کی تعمير کے لئے ايک نئے ماضی کی تشکيل وقت کی ضرورت ہے‘‘، اميد ہے کہ مذکورہ کتاب ’’نئے ماضی کی تشکيل‘‘ میں بنیادی کردار ادا کرے گی اور شيعہ سنی اختلافات کو سمجھنے کی سمت ميں ايک واضح مشعل راہ ثابت ہوگی۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker