جہان بصیرتنوائے خلق

کیا حافظ اشتیاق کی موت ایک معمہ بن کر رہ جائے گی؟

شہاب الدین صدیقی

منیجنگ ایڈیٹر بصیرت آن لائن

24 نومبر کے حادثاتی خبر کے بعد ہر کسی کے زبان پر بس ایک ہی بات ہے کہ حافظ اشتیاق کی موت حادثاتی ہے یا کوئی سازش؟ ہر کوئی ان کی اچھائیوں کو بیان کر تے ہوئے بس یہی کہتا ہے کہ وہ بندہ جو دوسروں کی پریشانی کو اپنے مخصوص انداز سے دور کر دیتا تھا وہ اتنا کمزور نہیں ہو سکتا کہ خودکشی کر لے.

حافظ اشتیاق تو اس دنیا سے چلے گئے پر اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ گیے ان کی لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا جہاں پر حادثہ ہوا کوڈورو، اسٹیشن سےصرف بیس قدم کی دوری پر ہے کیا اس کے سی سی ٹی وی کیمرے کے فوٹوز نہیں نکلوائے جاسکتے تھے؟ وہاں لوگوں سے کیا اب تک پوچھ تاچھ نہیں کی جاسکی کہ کوئی سراغ مل پاتا جواب تک نہیں ملا. کیا حافظ اشتیاق کو اتنی آسانی سے بھلایا جاسکتا ہے؟ آخر وہ کون سی مجبوری تھی کہ حافظ صاحب ممبئی سے بیس گھنٹے کی دوری تک پہنچنے کے لیے مجبور ہوئے اور حادثے کا شکار ہوئے، ان کے ساتھ جیب سے دوٹکٹ ممبئی سے پونا اور پونا سے چنئی کی ملی تو کیا یہ سوال بیدا نہیں ہوتا کہ کوئی خودکشی کر نے کے لئے ٹکٹ لے کر انتی دور جاکر خودکشی کرے گا؟

اور اگر خودکشی کی ہے تو آخر ایسی کیا مجبوری تھی جس کی بناء پر وہ خودکشی کر نے پر مجبور ہو گئے؟

بہت سے سوالات ہیں جو ہر کسی کے ذہن میں ہیں،کیا اس حادثے کی تحقیقات کے لئے جدوجہد نہیں کرنی چاہیے؟ آخر کیوں ایک نیک طبیعت خوش مزاج اور ہر وقت خوش رہنے والا انسان بالکل خاموش رہنے لگا؟ آخر وہ کون سی چیز تھی جو ان کو کچھ مہینے سے خوف زدہ رکھتی تھی؟ ہر کوئی کہتا ہے کہ کچھ دنوں سے وہ بالکل غمگین رہنے لگے تھے تو کیا ان کے غمگین رہنے کی کوئی وجہ نہیں رہی ہو گی؟ اس کی تفتیش مکمل دیانت داری سے ہونی چاہئے تا کہ سچ سامنے آسکے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker