مسلم دنیا

حضرت عیسیٰ سے متعلق بیان، عمران خان معافی مانگیں

واشنگٹن:22؍نومبر(بی این ایس)
پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کی طرف سے حضرت عیسیٰ سے متعلق دیے گئے بیان پر ملک کی مسیحی برادری نے غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور وزیرِ اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اس بیان پر معافی مانگیں۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے منگل کو سیرت النبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حضرت عیسیٰ کا ’انسانی تاریخ‘ میں ذکر نہیں ہے۔ اس بیان پر مسیحی برادری نے افسوس کا اظہار کیا ہے اور ایسے بیان کو وزیرِ اعظم کے منصب کے خلاف بھی قرار دیا ہے۔ منارٹی الائنس پاکستان کے ترجمان شعمون الفریڈ گل، جو سابق وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی کے قریبی ساتھی ہیں، نے اس بیان پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’اگر ایسا بیان کسی عام آدمی کی طرف سے آتا تو ہمیں حیرت نہیں ہوتی لیکن یہ بیان ایک ایسے شخص کی طرف سے آیا ہے، جو ملک کا وزیرِ اعظم ہے اور جس نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے۔ اس بیان سے ملک میں بسنے والے عیسائیوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ انہوں اس سے شدید تکلیف ہوئی ہے اور ہمارے خیال میں وزیرِ اعظم کو اس بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔‘‘
سیاسی مبصرین کے خیال میں عمران خان کو فی البدیہہ کی جگہ تحریری تقریر کرنی چاہیے۔ شعمون گل کے خیال میں بھی اس تقریر کے بعد عمران خان کو اب تحریری تقریر کرنی چاہیے، ’’عمران خان کے حوالے سے کوئی پیشن گوئی نہیں کی جا سکتی۔ وہ کسی وقت کچھ بھی کہہ سکتے ہیں لیکن اب کیونکہ انہوں نے ایک حساس موضوع پر بغیر سوچے سمجھے ایک متنازعہ بات کہہ دی ہے۔ لہذا اب ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ مستقبل میں تحریری تقریر کریں اور بات کرنے سے پہلے اپنی تقریری نکات پر تحقیق بھی کیا کریں۔‘‘معروف دانشور سیسل چوہدری کی بیٹی اور کرسچیئن کمیونٹی کی رہنما مشیل چوہدری نے عمران خان کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بیان سے مسیحیوں میں احساس بیگانگی بڑھا ہے،’’عمران خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ صرف مسلمانوں کے وزیرِ اعظم نہیں ہیں بلکہ وہ ہر پاکستانی کے وزیرِ اعظم ہیں اور عیسائی بھی اتنے ہی بڑے پاکستانی ہیں جتنے کہ مسلمان۔ اس مسئلے پر تمام عیسائی حلقوں میں بات ہو رہی ہے۔ ہم لوگوں کو اس بیان سے دلی صدمہ ہوا ہے۔ ہمارے خیال میں وزیرِ اعظم کو اس بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔‘‘
مشیل کاکہنا تھا کہ ان کو یقین نہیں آرہا تھا کہ وزیرِ اعظم نے یہ واقعی کہا ہے،’’پہلے میں سمجھی کہ یہ بیان کسی نے سیاق وسباق سے ہٹ کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیا ہے لیکن پھر میں نے پوری تقریر سنی۔ میرے خیال میں مختلف نبیوں کے درمیان موازنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ہر نبی قابلِ احترام ہے۔ ہم اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی بے حد عزت کرتے ہیں اور ہمارے خیال میں کسی بھی مذہبی شخصیت کے حوالے سے متنازعہ بات نہیں ہونی چاہیے۔‘‘
کئی مورخین اور دانشور عمران خان کے بیان کو تاریخی لا علمی قرار دے رہے ہیں۔ پاکستانی ایوان بالا کے رکن طاہر بزنجو مورخین کی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں، ’’یہ بیان انتہائی افسوس ناک ہے اور تاریخ کو مسخ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ حضرت عیٰسی کا بیس مرتبہ سے زیادہ تو صرف قران میں ذکر ہے۔ ان پر لاکھوں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ عیسائیت دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ تو عمران خان کیسے کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کا تاریخ میں ذکر نہیں ہے۔ میرے خیال میں عمران خان بہت لا پروائی سے باتیں کرتے ہیں اور غیر ذمہ دارانہ باتیں کرتے ہیں۔ انہیں مستقبل میں لکھ کر تقریر کرنی چاہیے۔ ‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو اس مسئلے پر بولنا چاہیے تھا، ’’لیکن میرے خیال میں پارلیمنٹ مذہبی موضوعات پر بولنے سے ڈرتی ہے۔‘‘

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker