ہندوستان

مسلم ریزرویشن کے لئے صوبے بھر میں جمعیۃ علماء مہا راشٹر کا کامیاب آندولن

ریزرویشن مسلمانوں کا جائز حق ہے اسے ہر حال میں لیکر رہیں گے : مولانا ندیم صدیقی
ضلعی مقامات وتعلقہ جات میں ہوئے آندولن میں ، بیشتر مسلم تنظیموں کے ساتھ دیگر سماج و برادری کے لوگوں نے بھی بڑھ چرھ کر حصہ لیا
ممبئی۲۳؍ نومبر( پریس ریلیز) پسماندگی کی بنیاد پرمسلمانوں کو دیئے گئے ۵؍ فیصد ریزرویشن کی بحالی کے لئے آج جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی اپیل پر پوری ریاست میں مسلمانوںنے دھرنے آندولن کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے تمام کمشنریٹ ضلعی کلکٹریٹ ، اور تحصیلداردفاتر کے سامنے زبردست احتجاج اور دھرنا منعقد کرکے متعلقہ افسران کو میمورنڈم سونپا۔ اس اس دھرنے میں ریاست بھرکی بیشتر مسلم تنظیموںاور این جی اوز نے بلا لحاظ مسلک شریک ہوئیں جس کی قیادت جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے کی۔ اس آ ندولن کی خاص بات یہ رہی کہ دیگر سماج و برادری کے لوگوں نے بھی بڑی تعداد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اس موقع پر جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے پونہ کے پرو گرام میں بنفس نفیس شر کت کیاور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریزرویشن مسلمانوں کا جائز حق ہے اسے ہرحال میں لیکر رہیں گے ،جمعیۃ علماء ہند مسلم ر یزرویشن کے لئے ۱۹۵۱ء سے ہی تحریک چلارہی ہے، جمعیۃ کی ہی کو ششوں کی بنیاد پر سابقہ حکومت نے جاتے جاتے مسلمانوں کے لئے ۵؍ فیصد ریزرویشن کا اعلان کیا تھا ،عدالت نے مسلم ریزرویشن کو تعلیمی شعبہ میں بر قرار بھی رکھا تھا اس کے باو جود مو جودہ فرقہ پرست حکومت اپنی مسلم دشمنی کی وجہ سے مسلم ریزرویشن کو بحال کرنے کے لئے سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ انہوں نے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ حکومت اپنا متعصبانہ رویہ ترک کرے اور اس سلسلے میں فوری کار وائی کر کے مسلمانوں کی پسماندگی کی بنیاد پر زندگی کے تمام شعبوں میں ریزرویشن کو بحال کرے ۔ اگر حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا تو جمعیۃ علماء مہا راشٹر اس سے بڑا قدم اٹھائے گی۔ ریاست بھر کے جمعیۃ علماء کے ذمہ داران سے ملی اطلاع کے مطابق یہ دھرنے دوپہر دو بجے سے شروع ہوگئے تھے اور۵؍بجے تک تمام ضلعی مقامات اور تعلقہ جات میں لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی،ہزاروں کی تعداد میں لوگ گھروں سے نکل کر متعلقہ سرکاری افسران کے دفاترکے سامنے دھرنے پر بیٹھے ۔ یہ دھرنے نہایت پرامن رہے، کہیں بھی کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ یہ آندولن اس قدر منظم اور منصوبہ بند تھا کہ ریاست کے کچھ کلکٹریٹ پرشرکاء کی تعداد ہزاروں میں بتائی گئی ہے۔خاص طور شولاپور ، جالنہ ،اور نگ آباد ،اکولہ ،امرائو تی ،پر بھنی ودیگر مقا مات پر بڑے منظم انداز میں دھرنے دیئے گئے اور مقامی علماء کرام نے مشترکہ طور پر ریزرویشن کی ضرورت اور اسکی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی میں مسلمانوں کا اہم کر دار رہا ہے ،تحریک آزادی سے لیکر آج تک ملک کے لئے مسلمانوں نے اہم خدمات انجام دی ہیں ،مگر آج تک ترقی کا فائدہ ان کے گھروں تک نہیں پہو نچا یہی وجہ ہے کہ وہ ملک کی سب سے پسماندہ قو م بن گئی ہے ، مسلمانوں کو ریزر ویشن و دیگر مراعات فراہم کرنا حکومت کہ مہر بانی نہیں بلکہ اس کا فر ض ہے ، انہوں نے اس دعوے کی تردید کی کہ مسلمانوں کے لئے مذہب کی بنیاد پر ریزر ویشن کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ، ریزر ویشن کے مطالبے کا مقصد صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو دیگر پس ماندہ اقوام و قبائل ، ذاتوں اور غیر مسلم برا دریوں کی طرح پستی سے نکالنے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیںاور انکی پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن دیئے جائیں۔ مولانا ندیم صدیقی نے مزید کہا کہ آج ریاست بھر کے ۳۴ ضلع میں سے۳۳ ؍ضلع کے شہروںاورتعلقوں میں ہمارا اآندولن ہوا ہے جس میں مجموعی طورلاکھوںافراد شریک ہوئے ہیں۔ جب تک حکومت مسلمانوں کو دیا گیا ریزرویشن بحال نہیں کرتی ہماری یہ تحریک جاری رہے گی ۔یہ آندولن صوبہ بھر کے تمام اضلاع بطور خاص اورنگ آباد ،ناندیڑ ،جالنہ ،پر بھنی ،لاتور ،ہنگولی ،بیڑ ، عثمان آباد ،تھانہ ، بھیونڈی، رائے گڑھ،رتنا گیری ،سندھو درگ ،ناسک ،مالیگائوں ،دھولیہ ،جلگائوں ،احمد نگر ،نندور بار ،پونہ ،ستارہ ،کولھا پور ، شولا پور ،سانگلی ،،ناگپور ،امرائوتی ،اکولہ ،بلڈانہ ایوت محل ،چندر پور، وردھا ،بھنڈارہ ،گوندیا ،واشم ، پالگھر ،کے تمام شہروں اور تعلقوں میں منظم طریقے پر منعقد کئے گئے اور کلکٹر ،ڈپٹی کلکٹر اور تحصیلدار کومیمورنڈم دیئے گئے۔اس کے باوجود اگر حکومت نے ہوش کے نا خن نہیں لئے تواس سے بڑا اقدام کیا جائے گا جس کا خمیازہ بھگتنے کے لئے حکومت تیار رہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker