مضامین ومقالات

جموں کشمیر : سمجھداری کی ضرورت

عبدالرحمن صدیقی
نیوز ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز
جموں کشمیر جیسی ریاست میں معاملات کو نمٹانے کےلیے جس فہم وفراست اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ ہوناچاہئے اس کےدور دور تک کہیں آثار نظر نہیں آرہے ہیں اور ریاست جموں کشمیر ہی نہیں ملک کی سالمیت اور استحکام کو دائو پر لگا کر سیاسی اغراض ومقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ بدھ کے روز یہاں مختلف الخیال نظریات والی جماعتوں یعنی کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے مل کر حکومت سازی کا فیصلہ کیا اور غیر سرکاری طور پر وزیر اعلیٰ کے عہدے کےلیے الطاف بخاری کا نام بھی آگے کردیا ابھی اس طرح کی خبریں آہی رہی تھیں کہ اچانک رات کو خبر آگئی کہ گورنر نے اسمبلی تحلیل کردی ہے اس سے قبل آر ایس ایس پر چارک او ربی جے پی کے جنرل سکریٹری رام مادھو نے یہ کہہ کر جلتی پر آگ کا کام کیا کہ جموں کشمیر میں حکومت سازی پاکستان کے اشارہ پر ہورہی ہے اور جب بیان پر شور شرابہ ہوااور ہنگامہ ہوا تو انہو ں نے اپنا بیان واپس لے لیا۔ گورنر جموں کشمیر کے تعلق سے کانگریس نے کہا ہے کہ انہوں نے گورنر کی حیثیت سے کم اور بی جے پی کے نمائندہ کی حیثیت سے زیادہ کام کیا ہے۔ بہرحال گورنر کے اس اقدام کی ہر وہ شخص مخالفت کررہا ہے جس کو آئین اور قانون کی پاسداری کا خیال ہے۔ گورنر وں کا غلط استعمال کو ئی نئی بات نہیں ہے یہ سلسلہ اندرا گاندھی کے ز مانہ سے چلا آرہا ہے ان کے دور اقتدار میں رام لال اور جگموہن جیسے لوگ گورنر بنائے گئے تھے۔ رام لال نے آندھرا پردیش کے گورنر کی حیثیت سے وہاں کے وزیر اعلیٰ این ٹی راما رائو کو ہٹاکر بھاسکر رائو کو وزیر اعلیٰ بنادیا تھا۔ گورنر رام لال کے اس اقدام کی ملک گیر پیمانے پر مخالفت ہوئی تھی اور آنجہانی اندرا گاندھی کو راما رائو کو دوبارہ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے قبول کرنا پڑا تھا۔ آندھرا پردیش کو ئی حساس ریاست نہیں تھی اس لیے وہاں جو بھی نقصان ہوا وہ محدود تھا لیکن جموں کشمیر میں گورنر جگموہن کے کندھوں کا استعمال کرکے جو بندوق چلائی گئی ہے اس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں۔
جموں کشمیر میں مختلف سیاسی جماعتوں نے آپسی اتفاق رائے کے ذریعے حکومت سازی کی کوشش کی اور گورنر ہائوس کو بذریعہ فیکس اس کی اطلاع دی لیکن گورنر ہائوس کی فیکس مشین خراب ہونے کی وجہ سے گورنر کو اس کی اطلاع نہیں مل سکی اسمبلی کو تحلیل کیے جانے کی وجہ گورنر نے یہ بتائی کہ مختلف ا لخیال عناصر کے موقع پرستانہ اتحاد کی وجہ سے ہارس ٹریڈنگ یعنی ممبران اسمبلی کی خریدوفروخت کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا گورنر کی اس وضاحت کو عذر لنگ یا عذر گناہ بدتراز گناہ یا پھر خوئے بدرا بہانہ بسیارہی کہا جاسکتا ہے جہاں تک مختلف او رمتضاد نظریات وخیالات والی جماعتوں کا آپسی اتحاد کا سوال ہے اس کو موقع پرستانہ ضرور کہا جاسکتا ہے لیکن اس کی آڑ لے کر گورنر نے جو انتہائی اقدام کیا ہے اس کا کوئی جواز نہیں آخر بی جے پی اور پی ڈی پی نے بھی یہاں حکومت بنائی تھی جبکہ دونوں کے نظریات وخیالات میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔
کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کےلیے ٹھنڈے دماغ سے غوروخوض کی ضرورت ہے۔ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اس کو حل کرنے کی جہاں ایک طرف کئی کوشش کی گئی ہیں وہیں دوسری طرف سیاسی مصلحت اور مفاد کے حصول کے لیے یہاں فضا خراب بھی کی گئی ہے۔ پاکستان نے بھی یہاں کی صورتحال کا ناجائز فائدہ اُٹھایا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کےلیے ایک مرتبہ آنجہانی نرسمہا رائو نے مذاکرات کی پیش کش کی تھی او رکہا تھا کہ ہندوستان سے آزادی اور علاحدگی کے علاوہ کوئی بھی مطالبہ تسلیم کیاجاسکتا ہے۔ آنجہانی اٹل بہاری واجپئی نے کشمیریت جمہوریت او رانسانیت کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر حل کرنے پر زور دیاتھا موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی ایک سے زائد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی حکومت کشمیری نوجوانوں کے دل جیتنے کی کوشش کرے گی لیکن بدقسمتی سے مودی حکومت نے ۲۰۱۴ سے آج تک طاقت کے استعمال کے ذریعہ ہی جنگجوئیت پر قابو پانے کی کوشش کی جس سے معاملہ سلجھنے کے بجائے الجھتا چلاگیا۔ بی جے پی پی ڈی پی مخلوط حکومت جموں کشمیر میں پاسدار امن تو دور کی بات ہے ناپائیدار اور امن بھی قائم نہیں کرسکی رہی سہی کسر گورنر ستیہ پال ملک کے اقدام نے پوری کردی اس سے پوری وادی میں عدم استحکام جیسی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ بہرحال جو ہونا تھا وہ ہوچکا، جموں کشمیر میں جلد از جلد آزادانہ او رمنصفانہ انتخابات کے ذریعہ اقتدار عوامی نمائندوں کے حوالے کردیاجائے اور تمام سیاسی جماعتیں پارٹی بندی سے بلند ہوکر کشمیر میں حالات نارمل بنانے میں مدد کریں۔
(بی این ایس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker