ہندوستان

آپ ﷺکی تعلیمات نے عورت کو ذلت اور غلامی کی زندگی سے آزاد کرایا

کھتولی میں اصلاح معاشرہ وشریعت بیداری پروگرام سے مولانا عاشق صدیقی ندوی کا خطاب
کھتولی۔25؍نومبر(ایس چودھری) اصلاح معاشرہ و شریعت بیداری مہم کے تحت جاری سلسلہ محاضرات کا نواں اجلاس عام بعنوان “پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور خواتین کے حقوق”الامین اکیڈمی بڈھانہ روڈ کھتولی میں زیر صدارت مولانا عبد الغفار قاسمی امام و خطیب نور مسجد اسلام نگر کھتولی منعقد ہوا جس میں سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے پروگرام کے محاضر ڈاکٹر مفتی محمد عاشق صدیقی ندوی قاضی شریعت دارالقضاء آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ پھلت مظفر نگر نے کہا تاریخ انسانی پر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو محسوس ہوتا ہے ہمیشہ عورت کے ساتھ نا روا برتاؤ کیا گیا اور اس کا استحصال کیا گیا ہر قوم اور ہر دور کی یہی حالت نظر آتی ہے، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوء تو اپ کی تعلیمات نے عورت کو ذلت اور غلامی کی زندگی سے آزاد کرایا اور ظلم و استحصال سے نجات دلائی۔ان تمام قبیح رسوم کا قلع قمع کر دیا جو زمانئہ جاہلیت میں رائج تھیں اورعورت کے انسانی وقار کے منافی تھیں،نوزائیدہ بچی کو زندہ زمین میں گاڑھ دینا بند ہوا سے جو در حقیقت رسم نہ تھی بلکہ انسانیت کا قتل تھا۔مفتی صاحب نے عورتون کے حقوق پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تمام مالی ذمہ داریاں اسلام نے مرد کے سر رکھیں اور اس کو عورت کے لئے تربیت اور نفقہ کے حق کا ضامن بنایا کہ اسے روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور علاج کی سہولت ’’ولی الامر‘‘ کی طرف سے ملے گی۔اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین کے لئے بھی اچھی تعلیم و تربیت کو اتنا ہی اہم اور ضروری قرار دیا ہے جتنا کہ مردوں کے لیے۔ یہ کسی طرح مناسب نہیں کہ عورت کو کم تر درجہ کی مخلوق سمجھتے ہوئے اس کی تعلیم و تربیت سے صرف نظر کیا جائے۔عورت کی تذلیل کرنے والے زمانہ جاہلیت کے قدیم نکاح جو درحقیقت زنا تھے، اسلام نے ان سب کو باطل قرار دیا اور لڑکی کی اجازت پر نکاح جیسے مہتم بالشان فریضہ موقع کرکے اسے باوقار بنادیا۔اسی اسلام نے مردوں کی طرح عورتوں کو بھی حقِ ملکیت عطا کیا ہے۔ وہ نہ صرف خود کما سکتی ہے بلکہ وراثت کے تحت حاصل ہونے والی املاک کی مالک بھی بن سکتی ہے۔اسلام نے عورت کو معاشرے میں نہ صرف باعزت مقام و مرتبہ عطا کیا بلکہ اس کے حقوق بھی متعین کردیئے جن کی بدولت وہ معاشرے میں پرسکون زندگی گزار سکتی ہے۔اپنے خصوصی خطاب میں مفتی مجیب الرحمن ندوی نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کھتولی و اطراف میں جاری سلسلہ وار خطابات کے پروگرام میں جس مقام پر پروگرام کا انعقاد ہونا ہے پہلے وہاں کے ذمہ داران سے میٹنگ لی جاتی ہے اور پھر ان ہی کے مشورہ سے دن تاریخ مقام اور طے شدہ مضامین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرکے محاضرہ پیش کیا جاتا ہے۔پھر اسی حلقہ کے افراد میں سے ایک کو ذمہ دار مقرر کرکے پانچ معاونین متعین ہوجاتے ہیں تاکہ انتظام و انصرام میں سہولت ہو۔صرف ایک متعین موضوع پر گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ سامعین تک ایک پیغام پہونچ جائیں اور محاضرہ میں پیش کی گء باتیں ذہن نشیں ہوجائیں اسی لئے اگر کوء بات سمجھ سے بالاتر ہے تو سوال و جواب کے وقفہ میں اسے پوچھ لیا جائے۔اس مہم کا یہ نواں پروگرام الامین اکیڈمی کے ڈائریکٹر قاری عبدالقدیر انصاری کی نگرانی میں یہ منعقد ہواجنہوں نے خصوصیت سے پروگرام کا انتظام وانصرام سنبھالا اور اپنی کوششوں سے پروگرام کو کامیاب بنایا اور کلمات تشکر پیش کئے۔محمد عارف کی تلاوت اور ثاقب عبدالقدیر کی نعت پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا۔پروگرام میں خصوصی تعاون کرنے والے حضرات میں ڈاکٹر عرفان،قاری مرتضی شاہنواز بھائی اور اکیڈمی کے اسٹاف کے نام قابل ذکر ہیں۔شرکت کرنے والوں میں سیکڑوں حضرات و خواتین کے ساتھ ساتھ عثمان انجینئر، محمدصائب، مسعود احمد صدیقی ،ایڈوکیٹ شاہزیب اقبال،مولانا محمد ثاقب۔سلمان حسن۔بھاء کفیل احمد،حافظ مبین سٹھیری ،حافظ مبین کھتولی،حافظ عاقل،حاجی اسامہ،سید محمود الحسن وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔نظامت کی ذمہ داری قاری عزیز الرحمن خاں عزیز نے بخوبی انجام دی،جبکہ حافظ مرتضی نے استقبالیہ پیش کیا۔صدر محترم کی دعاء کے ساتھ پروگرام مکمل ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker