ہندوستان

مسلم ریزرویشن : فڑنویس کی کانگریس کو لتاڑ

جب مرکز میں دس سال اور مہاراشٹر میں پندرہ سال کانگریس کی حکومت تھی اس وقت مسلمانوں کو ریزرویشن کیوں نہیں دیاگیا: وزیر اعلیٰ

ممبئی ۲۷؍ نومبر ( عزیز اعجاز کی رپو رٹ) وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے آج واضح کر دیا کہ مہاراشٹر سرکار مسلمانوں کوکسی بھی حال میں ریزرویشن نہیں دے گی ۔ انہوں نے اس مو قع پر کانگریس کو جم کر لتاڑا ، اورکانگریس و این سی پی سے سوال کیا کہ آخرمسلمانوں کو ریزرویشن اُس وقت کیوں نہیں دیا گیا جب مر کز میں 10؍ سال اور مہاراشٹر میں 15؍ سال تک تمہاری حکومتیں تھیں ۔؟ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ مسلمانوں کی معاشی ، تعلیمی و اقتصادی پسماندگی کی جانچ پر مبنی سچر کمیٹی اور رنگا ناتھن کمیشن کی رپو ر ٹ آنے کے بعد مسلمانوں کو ریزرویشن کیوں نہیں دیا گیا۔؟ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس نہ ہمیشہ مسلمانوں مسلمانوں کا استعمال اور استحصال کیا اور اُنہیں ہمیشہ پسماندہ بنائے رکھا ،تاکہ چنائو کے موقع پر اُنہیں ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا جاسکے ۔ ریاستی اسمبلی میں مراٹھا ، دھنگر اور مسلم ریزرویشن پر جاری کانگریس و این سی پی سمیت دیگر بائیں بازو جماعتوں کے اراکین کی جانب سے جاری ہنگامہ آرائی کے دو ران وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نےمزید کہا کہ’’ مسلم ریزرویشن مسلم ریزویشن‘‘ کی مانگ کر نے والے کانگریسی پہلے یہ بتائیں کہ جب ریاست میں اُن کی حکومت تھی تب مسلمانوں کو ہائر ٹیکنیکل ایجو کیشن میں اسکالر شپ کیوں نہیں دی ۔؟ جبکہ ہماری سرکار نے ہائر ایجو کیشن میں مسلم طلباء کو اسکالر شپ دی تاکہ اُن پر مالی بو جھ نہ پڑے اور وہ بے فکری کے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں ۔ جس وقت وزیر اعلیٰ جواب دے رہے تھے کانگریس و این سی پی کے اراکین شور مچاکر اُن کی آواز کو دبانے کی کو شش کررہے تھے لیکن وہ چُپ نہیں ہو ئے اور الزام لگایا کہ کانگریس و این سی پی ریزرویشن کی آڑ لے کر ریاست کے مسلمانوں کو بھڑکا کر سیاست کررہی ہے جبکہ میں یہاں یہ بات پو رے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پچھلے 4؍ سالوں کے دو ران ہماری سرکار نے مسلم سماج کی 52؍ ذاتوں کو ریزرویشن دیا۔حالانکہ اس فیصلہ کو ممبئی ہائی کو رٹ میں چیلنج کیا گیا جہاں تعلیمی شعبہ کو چھوڑ کر عدلیہ نےمسلمانوں کو دیگرا داروں میں دیئے گئے ریزرویشن پر اِسٹے لگا دیا ۔ انہوں نے اپو زیشن کو لتاڑے ہو ئے کہا کہ مسلم ووٹوں کی سیاست کر نا بند کرو۔ شو و غل کے درمیان وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ حکو مت نے مراٹھیوں کو سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ زمرے میں کے تحت ریزرویشن دینے کے لئے مہاراشٹرا سٹیٹ بیک ورڈ کلاس کمیشن کی سفارشات کو قبول کر لیا ہےاوراس تناظر میں 29؍ نومبر کو ریاستی اسمبلی اور کونسل کے دونوں ایوانوں میں ’’ مراٹھا ریزرویشن بل 2018؍ ‘‘ متعارف کر وایا جائے گا اوراس کے ساتھ ہی بیک ورڈ کلاس کمیشن کی رپو رٹ کے تناظر میں تیار کر دہ ایکشن ٹیکن رپورٹ ( اے ٹی آر ) بھی پیش کی جائے گی تاکہ قانون منظور ہو نے کے بعد اس پر عمل در ازد ہو نے میں کو ئی دقت پیش نہیں آئے ۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت نے کمیشن کی جن 3؍ سفارشات کو ترجیحی طور پر منظور کیا ہے اُن میں (1) مراٹھا طبقات کو سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ ظاہر کیاجائے اس کے علاوہ کمیشن نے سروے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی کہ مراٹھیوں کی سرکاری اورنیم سرکاری اداروں میں مناسب نمائندگی نہیں ہے ۔(2)مراٹھا طبقہ سماجی اور تعلیمی سطح پر پسماندہ ظاہر کئے جانے سے آئین کی دفعہ 15(4) اور16 (4) کے تحت مراٹھا طبقہ قانونی طور پر ریزرویشن کا حقدار ہے (3) حکومت کو غیر معمولی حالات میں مراٹھا طبقات کوسماجی اور تعلیمی سطح پر پسماندہ ظاہر کر نے آئینی حق حاصل ہے لیکن اس پر عمل پیرا ہو نے کے لئے قانون بنانا لاز می ہے۔ وزیراعلیٰ نے زور دے کر کہا کہ ہم ہر حال میں قانون لائیں گے جس کا مسو دہ تیار ہے اور 29؍ نومبر کو اسمبلی و کونسل کے دنوں ایوانوں میں اے ٹی آر کے ساتھ اس قانون مو دے کو پیش کیا جائے گا ۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker