سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل، یمنی جنگ اور امریکی سینیٹ

سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل، یمنی جنگ اور امریکی سینیٹ

واشنگٹن:29؍نومبر(بی این ایس)
امریکی صدر کو یمن کی جنگ میں مداخلت اور خاشقجی کے قتل کے حوالے سے امریکی سینیٹ کی چڑھائی کا سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ خاشقجی کے قتل کے حوالے سے سعودی عرب کی شاہی قیادت کی حمایت کا اظہار کر چکے ہیں۔امریکی سینیٹ میں ایک قرارداد کو منظور کیا گیا ہے، جس کے دو مقاصد ہیں۔ اولین یہ کہ اخبار واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی عرب کے کردار کا تعین کر کے ریاض حکومت کو امریکی ناراضگی سے آگاہ کیا جائے اور دوسرے یہ کہ یمن کی جنگ میں امریکی مداخلت کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ اس مناسبت سے پیش کی گئی قرارداد کی منظوری کو امریکی صدر کے لیے سینیٹرز کا سخت پیغام قرار دیا گیا ہے۔
قرارداد کے حق میں تریسٹھ ووٹ پڑے اور سینتیس اراکین نے مخالفت میں ووٹ ڈالا۔ امریکی میڈیا کے مطابق سینیٹ میں ہونے والی اس رائے شماری کو امریکی صدر کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے لیے ایک سخت تنبیہ قرار دی جا سکتی ہے۔ ووٹنگ سے قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع جیمز میٹس بھی سینیٹرز کو قرارداد کی مخالفت میں ووٹ ڈالنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔اس رائے شماری سے ایک بات اور واضح ہوئی ہے کہ امریکی صدر کی حامی سیاسی جماعت ری پبلکن پارٹی کے سینیٹرز بظاہر ڈونلڈ ٹرمپ سے اُن کے سعودی عرب کے ساتھ مراسم کے تناظر میں عدم اطمینان کے اظہار کے طور پر فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش میں ہیں۔ یہ سینیٹرز ترک شہر استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں جمال خاشقجی کے سفاک قتل میں سعودی شاہی خاندان کے ملوث ہونے کے مبینہ الزام پر بھی نالاں دکھائی دیتے ہیں۔
جمال خاشقجی کا قتل رواں برس دو اکتوبر کو ہوا تھا۔ اس حوالے سے امریکی خفیہ ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد پرنس محمد بن سلمان اس منصوبے سے یقینی طور پر آگاہ تھے۔ دوسری جانب امریکی صدر اس رپورٹ کے باوجود سعودی شاہی خاندان کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سینیٹ میں یہ رائے شماری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب کے لیے جدید امریکی میزائل نظام تھاڈ (THAAD) کی ڈیل کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ پندرہ بلین امریکی ڈالر کے تحت سعودی عرب کو چوالیس ایسے میزائل فراہم کیے جائیں گے۔ اس ڈیل کو طے کرنے میں بھی ٹرمپ انتظامیہ فعال رہی ہے۔