مراٹھا ریزرویشن، مسلمان اور بے کردار مسلم قائدین

مراٹھا ریزرویشن، مسلمان اور بے کردار مسلم قائدین

شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لا ئن)
دیویندر فڈنویس سرکار نے مراٹھوں کے لیے ریزرویشن کو قانونی شکل دے دی ہے۔ مسلمان ایک بار پھر ریزرویشن سے محروم رہ گئے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ریزرویشن کی ساری تحریک اور سیاسی پارٹیوں کے سارے دائو پیچ اور گورکھ دھندوں کے بعد مسلمان اس معاملے میں خود کو ٹھگا ہوا محسوس کرنے لگے ہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ خیر، مسلمان تو عرصہ دراز سے ٹھگے جارہے ہیں۔ موہن ہونے کے باوجود بار بار ایک ہی سوراخ سے ڈسے بھی جارہے ہیں۔ اس میں قصور کسی اور کا نہیں مسلمانوں کا ہی ہے۔ مسلم عوام نے ایک ایسی سیاسی مسلم قیادت پر ، بار بار دھوکہ کھانے کے باوجود ، بھروسہ کیا ہے جس کے لیے لفظ ’بے کردار‘ انتہائی مناسب ہے۔ مسلمانوں کی یہ وہ سیاسی قیادت ہے، یہ وہ سیاسی مسلم قائدین ہیں جن کےلیے اپنی پارٹیو ںکے سربراہان کا ’حکم‘ اپنی قوم اور ملت کے مسائل اور مفادات کے ’حل‘ پر مقدم ہے۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا کہ مسلم سیاست دانوں کےلیے ان کے سربراہانِ پارٹی ’زمینی خدا‘ ہیں، ان کے سامنے ان کے ماتھے بار بار ٹکتے ہیں۔ ویسے جمہوریت میں اسے عیب نہیں سمجھاجاتا ۔
اگر مسلم ریزرویشن کی ساری تحریک پر نظر ڈالی جائے تو یہ سچ بالکل شیشے کی طرح سامنے آجاتا ہے کہ مسلم لیڈر شپ نے اخباری بیانات دینے اور تصویریں شائع کروانے کے سوا کوئی جدوجہد نہیں کی ہے۔ مراٹھوں کی ریزرویشن کی لڑائی جدوجہد سے پر تھی۔ ان کی سیاسی قیادت نے انتہائی مثبت کردار ادا کیا۔ ریزرویشن کے قائدین غیر سیاسی تھے اسی لیے وہ کسی بھی پارٹی کی سرکار ہو، جھکے نہیں۔ مراٹھوں کی تحریک قربانیوں سے پر تھی، تقریباً چالیس نوجوانو ں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ سینکڑوں نوجوان زخمی اور معذور ہوئے۔ مقدمے بنے، جیلیں ہوئیں، لاٹھیاں کھائیں لیکن انہوں نے تحریک سے منہ نہیں موڑا۔ مسلم قیادت اس معاملے میں بزدل ثابت ہوئی۔ کانگریسی مسلمان اپنی قیادت کے ’حکم ‘ پر سرجھکاتے رہے، این سی پی بسپا اور سپا کے مسلمان اپنی قیادت کے سا منے سپر ڈالتے رہے، کسی نے اعلیٰ قیادت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ بولنے کی ہمت نہیں کی کہ ’’مسلمان کہاں مذہب کے نام پر ریزرویشن مانگ رہے ہیں، بس صرف یہ مطالبہ ہے کہ جو مسلمان پسماندہ ہیں انہیں ریزرویشن دیاجائے ‘‘۔ راجندر سچر کمیٹی، رنگاناتھ مشرا کمیشن اور محمودالرحمن کمیٹی نے بھی یہی سفارشات رکھی تھیں کہ مسلم طبقہ تعلیمی، سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ ہے لہذا اسے ریزرویشن دیاجاناچاہئے۔ آئین مسلمانوں کو پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن کا حق دیتا ہے۔۔۔لیکن مسلم قیادت کی ساری تحریک اور سارا زورِ بیان ’مسلمانوں کےلیے ریزرویشن‘ کی بنیاد پر ہی رہا ہے۔ اس نے پسماندگی کے معاملے کو مذہب سے جوڑ دیا تاکہ اپنی سیاسی جماعتوں کےلیے ’مسلمانوں کے ووٹ بینک‘ کو بھنا سکے۔ سیاسی پارٹیاں خوب مسلمانوں کو ٹھگتی رہی ہیں۔ بی جے پی تو صاف کہتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو ریزرویشن نہیں دے گی لیکن دوسری پارٹیوں نے کون سا تیر مار لیا ہے؟ کانگریس کی مہاراشٹر کی سابقہ سرکار نے جاتے جاتے ریزرویشن کا ایسا لالی پاپ دیا۔۔۔مقصد مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنا تھا۔۔۔جو عدالت سے رد ہوگیا۔ وزیر اعلیٰ فڈنویس کا یہ سوال درست ہے کہ گزشتہ پچاس ساٹھ برسوں میں کانگریس نے کیوں مسلمانوں کو ریزرویشن نہیں دیا؟ یہ سوال سارے مسلمانوں کا ہے۔ کانگریس کو بھی اور دوسری سیکولر سیاسی جماعتوں کو بھی اس سوال کا جواب دینا ہوگا اور مسلم لیڈروں کو بھی۔ اس معاملے میں سچ کہاجائے تو جمعیۃ علما ہند کا کردار سب سے بہتر اور نمایاں ہے کہ وہ عرصے سے پسماندگی کی بنیاد پر مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کا مطالبہ کرتی چلی آرہی ہے۔ معاملہ عدالت میں ہے۔ اس کی تحریک کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ آج کے حالات میں مسلمانوں کےلیے ریزرویشن واقعی ضروری ہوگیا ہے کیوں کہ وہ تعلیمی، سیاسی، تہذیبی، ثقافتی، اقتصادی اور معاشی ہر سطح پر پہلے سے بھی کہیں زیادہ پچھڑ گیا ہے اور روز بروز پچھڑتا چلا جارہا ہے۔
(بصیرت فیچرس)