رام مندر کے حامی یہ کیسے مسلمان ہیں! 

رام مندر کے حامی یہ کیسے مسلمان ہیں! 

شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
ایک جانب ہندوستانی عوام ’فرقہ پرستی‘ اور ’فرقہ پرستوں‘ کو ’ٹھکانے‘ لگارہے ہیں اور دوسری جانب مسلمانوں میں ایک ایسا گروپ پیدا ہوگیا ہے جو کبھی ’گنگا جمنی تہذیب‘ کی دہائی دے کر اور کبھی ملک بھر کے مسلمانوں کو جان ومال کا خوف دلاکر یہ کہتا ہوا پھررہا ہے کہ ’مسلمان ایودھیا کی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لیے سونپ دیں‘! اس گروپ میں بڑے بڑے ’دانشور‘شامل ہیں، علماء بھی ہیں، سیاسی لیڈران بھی اور مصنف وجیورسٹ بھی؛ خواتین بھی اور نوجوان بھی۔ آج ہی ایک خبر آئی ہے کہ اتراکھنڈ سے مسلم خواتین ’دہلی مارچ‘ کریں گی او ریہ ’دہلی مارچ‘ حکومت پر یہ زور ڈالنے اور دبائو بنانے کےلیے ہوگا کہ ایودھیا میں فوری طور پر رام مندر تعمیر کردیاجائے۔ تو کبھی مسلم خواتین کے نام پر تو کبھی کسی عالم تو کبھی کسی سیاست داں کے نام پر یہ نعرہ بلند کیاجاتا ہے کہ ’مسلمان تو بس امن چاہتے ہیں اور امن وامان کےلیے وہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کروانے کےلیے راضی ہیں‘۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ بابری مسجد کی زمین کسی عام شہری کی، کسی سنگھی مسلم خاتون، نوجوان یا دانشور یا سیاست داں کی تو ہے نہیں کہ وہ اس کو رام مندر کےلیے سونپنے کا فیصلہ کرلے، اس زمین کے تو باقاعدہ فریق ہیں، مقدمہ سپریم کورٹ میں ہے، جو فریق ہیں وہی زمین کے تعلق سے کوئی فیصلہ کرسکتے ہیں، نہ کہ کوئی دوسرا۔ دوسری بات یہ ہے کہ کیوں زمین سونپنے کےلیے دبائو ڈالا جارہا ہے، کیا سپریم کورٹ کے مقدمے کے فیصلے کا انتظار نہیں کیاجاسکتا؟ تیسری بات یہ ہے کہ کیا ایودھیا کی زمین سونپ کر سارے ملک میں امن وامان کا قیام ہوجائے گا اور مسلمان چین کی بانسری بجانے لگیں گے؟ جناب تین ہزار مسجدوں پر دعوے ہیں۔ جن دنوں ایودھیا میں ’دھرم سبھا‘ تھی ان ہی دنوں وہاں ایک پوسٹر بنارس کی گیان واپی مسجد کے خلاف چسپاں کیاگیا تھا۔ پوسٹر انتہائی شرانگیز تھا۔ متھرا کی ’شاہی مسجد‘ کو پہلے ہی سے کرشن جنم استھان کہاجاتا ہے۔ مسلمانوں کے سمجھدار اور مخلص لیڈروں اور علمائے کرام پہلے ہی کہہ چکے ہیں اور درست کہہ چکے ہیں کہ مسلمان خود کیوں کسی مندر کی تعمیر کےلیے مسجد حوالے کریں، مقدمہ عدالت میں ہے، عدالت اگر فیصلہ مندر کے حق میں دیتی ہے تو مسلمان راضی ہیں۔۔۔یا پھر ’جبراً‘ یہ فرقہ پرست جو چاہتے ہیں کرلیں۔۔۔مسلمان ’تفرقہ‘ نہیں چا ہتے۔ وہ کسی دوسرے کی عبادت گاہ پر نظر بھی نہیں رکھتے۔ اس ملک میں آئین نے انہیں عبادت کی او راپنے مذہب پر چلنے وعمل کرنے کی آزادی دی ہے، حق دیا ہے، بس وہ چاہتے ہیں کہ انہیں وہ حق حاصل رہے۔
وہ جو ’گنگا جمنی تہذیب‘ کی بات کرتے ہیں انہیں یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ تہذیب ہے کیا! یہ تہذیب کسی کی عبادت گاہ پر قبضہ کا درس نہیں دیتی، یہ تہذیب عبادت گاہوں کی ادلابدلی کا بھی درس نہیں دیتی، یہ تہذیب درس دیتی ہے کہ ہر مذہب کا ماننے والا اپنی عبادت گاہ میں جاکر عبادت کرے، اس کی جان ومال کو کوئی خطرہ نہ ہو۔ یہ تہذیب یہ درس دیتی ہے کہ ہر مذہب کے لوگ مل جل کر رہیں، ان میں آپسی محبت اور بھائی چارہ ہو، ایک دوسرے کے تہواروں پر یہ نکتہ چینی نہ کریںبلکہ تہواروں پر ایک دوسرے سے ملیں، خوشی کا اظہار کریں۔ اس ملک میں یہی ’گنگا جمنی تہذیب‘ رہی ہے۔ افسوس کہ فرقہ پرستوں نے بھی اور انہوں نے بھی جو اس تہذیب کے معنی مطلب نہیں سمجھتے، اسے ملیا میٹ کردیا ہے! ہاں یہ مسلم گروپ سن لے کہ کیرالہ میں سبریمالا مندر پر فرقہ پرستی کا ماحول بنانے والی بی جے پی کو وہاں کے لوکل باڈیز الیکشن میں بدترین شکست ہوئی ہے۔ عوام نے اس کو ٹھکرا دیا ہے۔ اور ایودھیا کی ’دھرم سبھا‘ کا حال سب پہلے ہی دیکھ چکے ہیں!
(بصیرت فیچرس)