خطرہ ابھی ٹلا نہیں ۔۔۔!

خطرہ ابھی ٹلا نہیں ۔۔۔!

نازش ہما قاسمی
(ممبئی اردو نیوز؍بصیرت آن لائن)
گودی میڈیا نے وی ایچ پی کی نام نہاد دھرم سبھا کو لے کر جس طرح پورے ملک کا ماحول گرم کیا تھا اب سبھا کے اختتام کے بعد منہ چھپاتی نظر آرہی ہے۔ ۲۵ نومبر کو منعقد ہونے والی وی ایچ پی کی دھرم سبھا آپسی سرپھٹول ، کھینچا تانی اور رسہ کشی کی نذر ہوگئی ۔۔۔دھرم سبھا جس مقصد کے لیے بلائی گئی تھی وہ مقصد ہی فوت ہوگیا ۔۔۔شیوسینا بی جے پی کو لتاڑ رہی تھی ، سادھو بی جے پی، آرایس ایس اور شیوسینا پر سوال کھڑا کررہے تھے ، مقامی عوام شیوسینا کو ننگا کررہے تھے کہ تم لوگ وہی ہو جو ہمیں ممبئی سے مار بھگاتے ہو کہ ہم اتر بھارتیہ ہیں، تم بھی بھاگ جاو یہاں سے تمہارا بھی کوئی کام نہیں۔۔۔گودی میڈیا نے کچھ خبروں کو ضرور کووریج دی ، ادھو ٹھاکرے کو ہیرو بھی بنایا ، سنجے راوت کے اقبالیہ بیان کو اہمیت بھی دی جسے بھکتوں نے ہمت و جواں مردی کی مثال قرار دیا ۔۔۔؛ لیکن ۲۵ نومبر کو جو سبھا منعقد ہوئی جس پر پورے ملک کی نظر ٹکی ہوئی تھی، ملک کے سیکولرازم پسند عوام خوف و دہشت میں تھے کہ پتہ نہیں کیا ہو ، انجانا خوف ستا رہا تھا کہ کہیں بابری مسجد کی شہادت کے بعد تاریخ ہند کا تاریک دن واپس نہ لوٹ آئے؛ لیکن الحمدللہ ایسا کچھ نہ ہوا۔۔۔ وہ اس دھرم سبھا کے ذریعے ملک کا سیاسی ماحول گرم کرنا چاہ رہے تھے۔۔۔مرکزی حکومت سمیت دیگر بھگوا جماعتوں کی رام بھروسے ایک بار پھر اقتدار میں آنے کی کوشش ہے ۔ اس سبھا کا مقصد تو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار نہ رکھنے دینا تھا ، جیسا کہ ان کے لیڈران کے بیانوں سے واضح ہورہا تھا ۔۔۔ایودھیا جہاں یودھ نہ ہو جیسی مقدس جگہ پر فسادکرکے پورے ملک کو آگ و خون میں ڈھکیل دیا جائے اور اسی نفرت کی بنیاد پر الیکشن میں کامیابی حاصل کی جائے ، جس طرح ۱۹۹۲ سے پہلے خونی یاترا کے ذریعے ملک کا ماحول بگاڑا گیا تھا ویسے ہی یہاں اس دھرم سبھا سے مقصود تھا ، وہی ماحول بنانے کے لیے یہ تمام کوششیں کی گئیں؛ لیکن مسلم قیادت سمیت مسلمانوں کا صبر ، سیکولر برادران وطن کی مصلحت آمیز خاموشی نے ان کے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ وہ جس مقصد کیلیے آئے تھے وہ پورا نہ ہوا اور خود ہی آپس میں جھگڑ کر معینہ وقت سے پہلے ہی سبھا بلا کسی تجویز کے برخاست کرگئے ۔۔۔خیر! ان کے آپسی انتشار کی وجہ سے ان کو ناکامی اور ہماری حکمت و خاموشی کی وجہ سے ہمیں کامیابی حاصل ہوگئی؛ لیکن اب اس ناکامی کے بعد وہ خاموش نہیں رہنے والے ہیں، ان کا مقصدہرحال میں ۲۰۱۹ میں کامیابی حاصل کرنا ہے اس کے لیے وہ ملک میں نفرت کی فضا بنا رہے ہیں ، گری راج سنگھ کا دارالعلوم دیوبند کو دہشت گردی کا اڈہ کہنا، بغدادی و حافظ سعید جیسے دہشت گردوں کو اس سے جوڑنا، آر ایس ایس کی شاخ مسلم راشٹریہ منچ کے اندریش کمار کا عدالت عظمی پر انگلی اٹھانا اور یہ کہنا کہ آئین ہند ججوں کی میراث نہیں ہے یہ سب اسی سلسلے کی کڑی ہے، ان سب کے پیچھے ایک ہی مقصد کار فرما ہے کہ اشتعال انگیز بیانات جاری کرکے کسی طرح مسلمانوں کو مشتعل کیا جائے اور وہ آپے سے باہر ہوکر سڑکوں پر نکلیں، ہندو مسلم ایکتا کی فضا نفرت میں تبدیل ہوجائے اور ہندو مسلم فسادات کے ذریعے سرخروئی حاصل ہو۔ لیکن ہمیں اب انتہائی سمجھداری اور سوجھ بوجھ سے کام لینا ہے، ہرگز ہرگز مشتعل نہیں ہونا ہے ۔۔۔۔برادران وطن کی اکثریت موجودہ حکومت اور اس کی پالیسیوں سے نالاں ہے ۔۔۔وہ دوبارہ جملوں کی سرکار نہیں دیکھنا چاہتے ہیں، انہیں اس بات کا اندازہ ہوچکا ہے کہ ہمارے ساتھ بڑا فراڈ ہوا ہے ہم ٹھگے گئے ہیں اور یہ لوگ آئندہ بھی کچھ نہیں کرسکتے، بس ہمیں ایک دوسرے سے لڑا کر اپنی سیاست چلائیں گے؛ اس لیے وہ ہوشیار ہوچکے ہیں نفرت کی سیاست کے بھینٹ چڑھنے کو تیار نہیں ہیں، بی جے پی کی ہی پارٹی کے وزیر بی جے پی کے خلاف ہیں، رام کے بھکت ہی ان کی پالیسی پر انگلی اُٹھا رہے ہیں، اس لیے برادران وطن کے ساتھ مسلمانوں کو آگے آنا چاہیے اور اس حکومت کا قلع قمع کرنا چاہیے ان کا ہدف ۲۰۱۹ ہے، وہ اس کی مکمل تیاری کرچکے ہیں، فسادات کی بنا پر انہیں یہ الیکشن لڑنا ہے، بابری مسجد رام جنم بھومی کے نام پر ماحول خراب کرنا ہے، ہمیں ان کے جھانسے میں نہ آتے ہوئے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا کو برقرار رکھ کر نفرت کے سوداگروں کو منہ توڑ جواب دینا ہے، تب ہی ہم اپنے اس عظیم ملک کو تباہی سے بچا سکتے ہیں اور ہنستا کھیلتا خوابوں کا ہندوستان دیکھ سکتے ہیں؛ ورنہ موجودہ حکومت کے ساڑھے چار سالہ دور اقتدار میں ہم نے جو پریشانیاں اٹھائی ہیں وہ ۲۰۱۹ کے بعد بڑی پریشانی میں بدل جائے گی اور جس سے نکلنا مشکل ترین امر ہوگا۔۔۔!
(بصیرت فیچرس)