افسانہ: ’’شب ہجراں‘‘

افسانہ: ’’شب ہجراں‘‘

۔۔۔شہلا کلیم
جھلملاتے ستاروں سے جڑے سیاہ لباس میں ملبوس شب وصل کے ماتھے پر ’پُرن ماسی ‘کے چاند کی بندیا جڑ گئ تھی۔۔۔چاندنی رات کہکشاں کی چمک دمک سے اس قدر لدی پھندی اور مسرور و شاداں تھی گویا یہ بھی خوشیوں میں اس وصل کی گواہ بن کر ’سولہ سنگار ‘ کیے کھڑکی میں پاؤں پسارے بیٹھی ہو۔۔۔’حجلہ عروسی ‘ کے عین سامنے جالی نما کھڑکی سے چھن چھن کر پھولوں کی سیج پر پڑنے والی چاند کی کرنیں یہ احساس دلا رہی تھیں جیسے پھولوں، برقی قمقموں اور الیکٹرانک کی سجاوٹ کے ساتھ ساتھ قدرت سے بھی اس رات کے لیے سودا طے پایا ہو اور ملن کے یہ لمحات قمری گھڑیوں کے مطابق رکھے گئے ہوں۔۔۔’حجلہ عروسی ‘ تروتازہ گلاب اور چمیلی کے ساتھ ساتھ ہاتھوں میں رچی حنا کی خوشبوئوں سے معطر تھا—- ہلکی ٹمٹماتی رنگین روشنیاں کسی حسین خواب کا سماں باندھے ہوئے تھیں۔۔۔جگہ جگہ رکھی موم بتیوں سے اٹھنے والی مدھم لو اپنے سحر میں جکڑنے کے لیے کافی تھیں۔۔۔stones اور beads سے جڑے اطلسی جوڑے اور سنہرے زیورات پر جب یہ چمک پڑتی تو رنگ برنگی شعائیں پھوٹ پڑتیں۔۔۔بے شکن بستر پر بکھرے پھولوں کے درمیان وہ ’پری زاد ‘ حسین لڑکی چمچماتے سرخ جوڑے اور مرصع طلائی زیورات سے سجی شرماتی ، لجاتی گھونگھٹ کئے کسی کے قدموں کی آہٹ کی منتظر تھی۔۔۔لان کی جانب کھلنے والی کھڑکی کے کھلے پٹ سے رات رانی کی خوشبو لیے خُنک ہوا کا کوئی جھونکا اسکے اطراف میں عطر بیز پھولوں کی لڑیوں سے بنے پردے کو چھو کر گزرتا تو پورا کمرہ بے شمار مختلف قسم کی خوشبوؤں سے مہک اٹھتا۔۔۔ شوریدہ خواب جوان ہو اٹھتے اور مسرور کن انگڑائیاں جنم لینے لگتیں۔۔۔دل میں شوق کے اُمڈتے طوفان لئے وہ اس سحر زدہ ماحول کے طلسم میں گرفتار ہوتی چلی جاتی۔۔۔رات کے اس پہر کمرے کے باہر کا شور شرابا خاصہ کم ہو چکا تھا لیکن خوشی کے اس موقع کا فائدہ اٹھا کر نوجوان لڑکے لڑکیوں نے نیند کو الوداع کہہ دیا تھا اور اب ہلکی دھنوں پر صوفیانہ کلام بجا کر مترنم سا شور فضا میں بکھیر دیا تھا۔۔۔
“شب وصل بھی ہے حجاب اس قدر کیوں۔۔۔
ذرا رخ سے آنچل اٹھا کر تو دیکھو۔۔۔
ایک پل کو لگا کہ نصرت فتح علی خان کی آواز نہ ہو کر اسکے قریب سے کوئی سرگوشی سنائی دی ہو۔۔۔ وہ بہک سی گئ اور جب بے خیالی کا احساس ہوا تو جھینپ کر گھونگھٹ اور نیچے سرکا لیا۔۔۔ذرا آنچل سنبھالنے کو ہاتھ متحرک ہوئے تو کلائیوں میں بھری چوڑیوں کی چھن چھن سے شہنائیاں سی بج اٹھیں۔۔۔وہ ان قدموں کی چاپ کی شدت سے منتظر تھی جنکی آمد پر مسرور کن جذبات کا اظہار ہونا تھا۔۔۔
آخر وہ ان کیفیات سے دوچار کیوں نہ ہوتی۔۔۔؟؟
یہی تو وہ رات تھی جس کے اس نے ان گنت خواب بُنے تھے۔۔۔
وہ رات جو ایک لڑکی کی دو زندگیوں کے درمیان حد فاصل ہے۔۔۔
وہ رات جہاں سے ایک نئ زندگی کا جنم ہونا تھا۔۔۔
اور وہ رات جس کا اس نے مدتوں انتظار کیا تھا۔۔۔
رات ڈھلتی رہی کئی پہر بیت گئے مگر بند دروازے پہ دستک نہ ہوئی ـ کوئی آہٹ، کوئی آواز، کوئی چاپ سنائی نہ دی۔۔۔تھکن سے بدن ٹوٹنے لگا۔۔۔ وہ تھکن جس کو ابھی تک جوش مارتے جذبات کے سیلاب نے اسکے قریب نہ بھٹکنے دیا تھا۔۔۔ ساز خاموش ہو چکے تھے شاید نوجوان وجود بھی تھک کر نیند کی وادیوں میں پناہ ڈھونڈنے نکل گئے تھے۔۔۔
بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائے بستر پر نیم دراز وہ اپنی ہتھیلیوں میں کھو گئ جہاں اس شخص کا نام لکھا تھا جو اسکی زندگی کا حاصل تھا۔۔۔اور پھر کچھ دیر پہلے کہا جانے والا جملہ اسکی سماعت سے ٹکرایا۔۔۔
“دلہن کے ہاتھوں پر رنگ حنا خوب چڑھا ہے مہندی کا گہرا رنگ شریک سفر کی بے پناہ چاہتوں کی علامت ہوا کرتا ہے۔۔۔
“ہاں مگر اب تو کیمیکل سے بنی مصنوعی مہندیوں کا زمانہ ہے بی بی۔۔۔جتنی تیزی سے رچتی ہیں اتنی تیزی سے پھیکی پڑ جاتی ہیں۔۔۔
اسکے ارد گرد لگی بھیڑ سے کسی عورت کا یہ دوسرا جملہ اسکو بھی ناگوار گزرا تھا۔۔۔کچھ دیر پہلے اس قدر شور ہنگاما برپا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی شوق وصل کی بیتابی میں پاس بیٹھی سہیلیوں کی ہنسی ٹھٹھولیاں بھی اس پر گراں گزر رہی تھیں— مگر اب یہ سکوت اسے نگل رہا تھا۔۔
رات کا آخری پہر ہو چلا تھا گھونگھٹ کے پیچھے گردن جھکا کر بیٹھے بیٹھے جسم منجمد ہونے لگا تو وہ اٹھ کر کھڑکی پر چلی آئی رات بھی شاید تھک چکی تھی تبھی تو سحر اس پر غالب آنے لگی تھی… اس سے پہلے کہ وہ کھڑکی بند کرکے واپس پلٹتی لان سے آنے والی سرگوشی نے اسکے قدم جکڑ لیے…. سو فیصدی یہ آواز دانیال کی ہی تھی…..
“میرے گھر والوں نے اگر میرے جذبات کو سرسری نہ لیا ہوتا تو تین زندگیاں برباد ہونے سے بچ جاتیں…. خاندان کی عظمتوں کی خاطر آخر کب تک نوجوان دل قربانیاں دیتے رہیں۔۔۔؟؟”
وہ فون پر کسی سے گفتگو میں مگن تھا۔۔۔
“چلا جاؤنگا کیا جلدی ہے ایک رسم ہی تو ادا کرنی ہے۔۔۔!!”
غالباً دوسری جانب سے اسکی زندگی کی اہم رات کا احساس دلایا گیا تھا۔۔۔
“میری زندگی کا حصہ اور میری محبت کی حقدار ہوتے ہوئے کسی اور کے پہلو میں چلے جانے کا مشورہ دیتے ہوئے تمہارے ہونٹ نہیں کانپے۔۔۔؟؟ زبان نہیں لڑکھڑائی۔۔۔؟؟؟ ذرا بھی درد نہیں ہوا۔۔۔؟؟؟”
اس نے تمام تر محبتیں اپنے لہجے میں سمیٹ کر مخاطب سے یہ سوال کیا تھا۔۔۔
اور پھر اسکی زندگی کا حاصل شخص کسی غیر پر چاہتیں لٹانے میں مصروف ہو گیا۔۔۔
وہ نہ جانے اور کیا کیا کہتا چلا گیا جسے سننے کی سکت اب اسمیں باقی نہ تھی۔۔۔بے ساختہ اسکے منھ سے نکلا۔۔۔
“یا خدا یہ خاموش لوگ اپنی ذات میں کس قدر گہرے سمندر سموئے رکھتے ہیں….. یعنی وہ جذبات کی پردہ پوشی کرنے والا شخص چھپ چھپا کر ایک گھر بسائے بیٹھا ہے۔۔۔؟؟”
دانیال عرفان اور رامین حیات کے درمیان عمر کے اس دور میں یہ ڈور باندھی گئ تھی جب انکے اپنے نہ کچھ خیالات تھے نہ جذبات تھے اور نہ پسند اور ناپسند کی سمجھ۔۔۔
دانیال ہمیشہ کا سخت، سنجیدہ اور خاموش مزاج واقع ہوا تھا…. اس قدر کم گو کہ اپنےاحساسات کی ترجمانی نہ کر پانے کی صورت میں جذبات کی پردہ پوشی کر جایا کرتا تھا۔۔۔
بچپن سے جوانی تک کا سفر طے کر لینے کے باوجود عزیز و اقارب ابھی تک اسکی پسند ناپسند سے لاعلم تھے…. اطراف سے بے خبر اپنی دنیا میں مگن رہنے والے دانیال نے شعور بیدار ہونے کے بعد جب پہلی مرتبہ اس رشتے کی دبی دبی مخالفت کی تو قیامت ٹوٹ پڑی تھی…. زبان کی پاسداری کا لحاظ رکھنے والے خاندان کی ناک کا واسطہ دیکر اسکے سرابھارتے جذبوں کو کچل دیا گیا… اور اس طرح اسکے احساسات کی بلی چڑھا کر اس بغاوت کی بھی پردہ پوشی کر دی گئ…..
لیکن اس سب سے بے خبر رامین حیات تو جیسے اپنے اس مغرور کزن کی دیوانی تھی…. اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے دانیال کے سپنے دیکھتی اس کے سوا کبھی کسی دوسرے مرد کو دل تک راہ نہ دی… شباب اس پر بھی ٹوٹ کر آیا تھا اس قدر حسین جو دیکھے پہلی نظر میں مر مٹے…. مگر وہ اس پر مر مٹی تھی جو کسی اور کا تھا….
کچھ تھا جو بڑی بے دردی سے اسکے اندر ٹوٹا تھا۔۔۔کیا نہیں تھا اسکے پاس حسن صورت کے ساتھ ساتھ حسن سیرت کی دولت سے مالا مال تھی اعلی تعلیم کے زیور سے آراستہ و پیراستہ تھی۔۔۔اس تہجد کی پابند تھی جسمیں اس شخص کو شدت سے مانگا تھا۔۔۔مگر شاید وہ اُسکی محبت مانگنا بھول گئ تھی۔۔۔رامین حیات محبت میں ناکام ہو گئ تھی۔۔۔وہ ہمیشہ اس گمان میں جیتی رہی تھی کہ اسکا کم گو اور سنجیدہ مزاج کزن اس سے پوشیدہ محبت رکھتا ہے۔۔۔کیا وہ لڑکی اس سے بھی زیادہ حسین ہے جس کے بالمقابل وہ اس شخص کے جذبات کے تار نہ چھیڑ سکی تھی۔۔۔؟؟
ایک اور آواز نے اسے چونکا دیا….
“چبھتی ہے قلب و جاں میں ستاروں کی روشنی۔۔۔
اے چاند ڈوب جا کہ طبیعت اداس ہے۔۔۔”
شاید کوئی سر پھرا جوان کمخوابی سے تنگ آ کر رتجگے پر تُلا تھا۔۔۔اور درد غم فراق کے ماروں کو غلام علی کے ساز بڑی راحت بخشتے ہیں۔۔۔
اس نے آسمان کی جانب نگاہ اٹھائی رات نے اپنے لباس سے ستارے نوچ ڈالے تھے چاند پھیکا پڑ چکا تھا۔۔۔اور یہ گزرنے والی شب “وصلِ رائیگاں” کی گواہ بنی تھی۔۔۔”شب وصل” “شب ہجراں” میں تبدیل ہو چکی تھی۔۔۔!
رامین حیات کی زندگی کی نئ صبح ایک نیا بکھیڑا لیکر نمودار ہوئی تھی۔۔۔شادی کی آخری رسم ولیمہ کی تقریب کے لیے دلہن کو ایک بار پھر از سر نو سجایا جانا تھا چوڑیاں بدلتے وقت جب ہاتھوں پر نظر پڑی تو لڑکیاں اچھل پڑیں۔۔۔ہتھیلیوں پر جہاں جہاں مہندی سے پھول پتیاں بنی تھیں وہ زخم بن کر ابھر آئی تھیں….. جدید طرز کی مہندیوں سے اسکی نرم و ملائم اسکین کو الرجی تھی مگر اپنی زندگی کے اتنے اہم موقع پر غیر ضروری بات کا بتنگڑ بنانا اس نے گوارہ نہ کیا تھا نتیجتاً کیمیکل سے بنی آرٹیفیشیل مہندی ری ایکشن کر گئی تھی لوگوں کے آرٹیفیشیل جذبوں کی طرح۔۔۔!!!