تلنگانہ انتخاب : امن و خوشحالی کو ووٹ دیں

تلنگانہ انتخاب : امن و خوشحالی کو ووٹ دیں

خبر در خبر

غلام مصطفی عدیل قاسمی

ایسوسی ایٹ ایڈیٹر بصیرت آن لائن

ان دنوں شہر حیدرآباد جہاں سیاست دانوں سے بھرا ہوا ہے وہیں جھوٹ فریب جھوٹے وعدے اتہام و الزام سے یہاں کی فضا اٹی ہوئی ہے، کیونکہ محض ایک دن بعد یہاں ووٹ ڈالے جائیں گے، اور اگلے پانچ سال کے لئے یہاں کے باشندگان اپنا قائد منتخب کریں گے اس لیے بھی یہاں سیاسی گہماگہمی ہے، اب سوال یہ ہے کہ یہاں کس کی حکومت قائم ہو گی؟ یہ تو الیکشن کے بعد ہی پتا چلے گا کہ کون بازی مارتا ہے اس بات پر چرچا کرنا قبل از وقت ہوگا البتہ ابھی سب اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم کسے ووٹ دیں اور کس کو قیادت کی کرسی پر بٹھائیں؟ تو ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہمیں انتہائی سنجیدگی و باہمی مشورے سے غور و خوض کرنا ہوگا کہ ہم اگلے پانچ سال کے لئے اپنے اوپر کس طرح کے لوگوں کو مسلط کریں۔۔! کیونکہ جمہوری ملک میں ہمارے پاس یہی ایک حق رائے دہی ہی ہے جس کی طاقت سے ہم اچھے قائد کا انتخاب کر سکیں جو ہماری اور ملک کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن حد تک جا سکے، نیز ابھی ملکی حالات جس قدر تناؤ کا شکار ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری دوہری ذمہ داری بنتی ہے کہ ملک ہندوستان میں ایسے افراد کو قیادت سونپی جائے جو ملک کی سلامتی اور یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کی بقا کو یقینی بنا سکے، اور اپنے قیمتی ووٹ کا درست استعمال کر کے ایسے لوگوں کو سیاست سے بالکل بیدخل کر دیں جو ملک میں فرقہ پرستی اور آپسی ٹکراؤ کی فضا پیدا کرنے پر تلے ہوئے ہیں، اس لیے ووٹ ڈالنے سے پہلے ہمیں ہزار بار سوچنا چاہیے کہ ہمیں کن لوگوں کو ووٹ دینا چاہیے، اب آئیے ہم شہری حالات کا سرسری جائزہ لیتے ہیں تاکہ مستقبل کی قیادت کو سمجھنے میں آسانی ہو، تو آپ کے علم میں ہوگا کہ یہاں کی حکمراں جماعت راشٹریہ تلنگانہ سمیتی نے مدت پوری ہونے سے پہلے ہی اسمبلی کو تحلیل کر دیا تھا، اور ملکی سطح پر ہونے والے الیکشن سے پہلے ہی انتخابات کروانے کی مانگ کر دی تھی، اب ایسی کون سی وجہ تھی کہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو ایسا قدم اٹھانا پڑا؟ اب یہ تو وہی بتا پائیں گے اتنی بات تو صاف ہے کہ کوئی بھی اپنے مفاد کے لیے ہی قدم اٹھاتا ہے کانگریس اتحاد اور دیگر پارٹیوں کی مانیں تو ان کا کہنا ہے کہ ملکی الیکشن سے پہلے الیکشن کروانے سے مسٹر شیکھر راؤ کو کئی فائدے ہیں ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ مارچ سے پہلے انتخابات کروانے سے حکمراں جماعت کو جیتنے کی صورت میں دونوں ہاتھ میں لڈو آ جائیں گے، بایں طور کہ اگر کانگریس دہلی پر سکہ جماتی ہے تو پھر اسے کوئی نقصان ہی نہیں اور اگر بی جے پی اپنی کرسی بچا لیتی ہے تو مسٹر راؤ کو بی جے پی سے ہاتھ ملانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔۔! لوگوں(کانگریس اتحاد) نے کئی قرائن اس بات کا اندازہ لگایا ہے کہ “مسٹر شیکھر راؤ دل میں بی جے پی کی تئیں سافٹ کارنر رکھتے ہیں، خواہ بار بار دہلی کا چکر لگانا اور وزیر اعظم سے ملاقات ہو یا بھاجپائی قائدین سے خفیہ و علانیہ ملاقاتیں ہوں، یا پھر وزیر اعظم کے ہاتھوں نیم تیار شدہ میٹرو ریلوے کا ادگھاٹن ہو”، اس بات سے انکار نہیں کہ مسٹر شیکھر نے تلنگانہ کے لئے کچھ کام نہیں کیا ہے، انھوں نے بہت سی ایسی اسکیمیں چلائی ہیں جن سے عوام کا اعتماد ان پر بڑھا ہے، وہ اب تک سیکولرازم کے مضبوط ستون واقع ہوئے ہیں، لیکن کیا وہ آئندہ بھی عوام کے اعتماد کو باقی رکھ پائیں گے؟ یہ اپنے آپ میں بہت بڑا سوال ہے، اپوزیشن کی مانیں تو حالات تو کچھ اور ہی بتاتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بہت ممکن ہے “تلنگانہ میں بھی ایک “پلٹو رام” جنم لے لے اگر ایسا ہو جاتا ہے تو اس بار کوئی نتیش کمار نہیں ہونگے بلکہ مسٹر راؤ ہو سکتے ہیں اور دھوکہ کھانے والی جماعت راشٹریہ جنتا دل نہیں بلکہ مسٹر اویسی کی جماعت ایم آئی ایم ہو گی۔۔! خدا نہ کرے کہ مسٹر شیکھر راؤ ایسا قدم لینے پر مجبور ہو جائیں،  دوسری طرف کانگریس اتحاد بڑی مضبوطی سے الیکشن مہم میں سرگرداں ہے، تلگو دیشم پارٹی اور دیگر پارٹیوں سے گٹھ بندھن کے بعد تلنگانہ کی کرسی اتحاد کے پکش میں جاتی دکھائی دیتی ہے، کئی دانشور اور منجھے لوگوں سے بات کرنے پر معلوم ہوا کہ لوگوں کا رجحان کانگریس اتحاد کو ووٹ دینے کا ہے، لوگوں کا کہنا ہے کہ کانگریس اتحاد کو اقتدار میں لانے ہی میں ملک و ریاست کی سلامتی ہے، ان کا بھی کہنا کچھ حد تک درست ہے کہ موجودہ مرکزی حکومت کے دور اقتدار میں ملک بھر میں جتنی انارکی پھیلی ہوئی ہے یا پھیلائی گئی ہے یہاں تک کہ سیاسی لوگ کھلے عام قاتلوں کی طرفداری و حوصلہ افزائی کرتے دکھائی دیے ہیں، اس سے تو بہتر ہے کہ کانگریس اتحاد پر اعتماد کر کے اقتدار کی منتقلی کی جائے نہ کچھ تو کم از کم قاتلوں اور فرقہ پرستوں کا زورتو ہلکا ہوگا، عرض آخر یہ ہے کہ اس اہم گھڑی میں تلنگانہ کی انصاف پسند عوام اور بالخصوص  مسلمان سوچ سمجھ کر اپنی قیادت منتخب کریں، ایسی قیادت جو بابری مسجد کو انصاف دلوائے، جو مسلمانوں کو ریزرویشن دے، اقلیتوں پر ہورہے مظالم کے خلاف فرقہ پرستوں سے لوہا لے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے میں معاون و مددگار بنیں، متحد ہوکر حق رائے دہی کا استعمال کریں، آپ کا ایک ایک ووٹ قیمتی ہے اسے ضائع ہونے سے بچائیں اور فرقہ پرستی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں جبھی آپ خوشحال ترقی یافتہ اور بہترین تلنگانہ کی امید رکھ سکتے ہیں۔

(بصیرت فیچرس)

Gulalmmustafa9059@gmail.com