توکیا اب فڈنویس سرکار سناتن سنستھا پر پابندی لگائےگی؟

توکیا اب فڈنویس سرکار سناتن سنستھا پر پابندی لگائےگی؟

شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوزسرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
پردے ایک ایک کرکے اٹھ رہے ہیں۔
سناتن سنستھا کا دہشت گردانہ چہرہ اجاگر ہوتا جارہاہے ۔ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے وہ کام کر دکھایا ہے کہ اے ٹی ایس کے آنجہانی سربراہ ہیمنت کرکرے کی یاد تازہ ہوگئی ہے۔ ابھی کل ہی اے ٹی ایس نے سناتن سنستھا اور ہندوجن جاگروتی سمیتی، ان دو انتہا پسند بلکہ دہشت گرد ہندوتووادی تنظیموں کے بارہ کارکنان کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کی ہے اور اس میںبہت صاف لفظوں میں کہا ہےکہ مذکورہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ان تمام کے تمام افراد نے اسلحہ جات جمع کررکھے تھے جن میں بم بھی شامل تھے۔ بموں اور اسلحوں کے رکھنے سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ سناتن سنستھا اور ہندو جن جاگروتی سمیتی، یہ دونوں ہی تنظیمیں اس ملک بالخصوص مہاراشٹر اور گوا میں دہشت گردانہ کا روائیوں میں شامل رہی ہیں۔ ایسی کاروائیاں جن میںبے قصور وں کی جانیں بھی گئیں اور دہشت گردی کے الزامات بھی بے قصورورں پر ہی لگے۔ اے ٹی ایس کے ساتھ ہی کل سی بی آئی نے بھی عدالت میں دونوں مذکورہ تنظیموں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔ سی بی آئی کی چارج شیٹ میںبڑی ہی تفصیل کے ساتھ سناتن سنستھا اور ہندو جن جاگروتی سمیتی کے کالے کارناموں ،کاپردہ فاش کیا گیا ہے۔ مثلاً یہ بتایا گیا ہے کہ یہ تنظیمیں ملک کو پرتشدد طور پر ’ہندو راشٹر‘میں تبدیل کرنے کےلیے سرگرم رہی ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب یہ نکلتا ہے کہ ان تنظیموں کا، ان کی دہشت گردانہ کا رروائیوں کا اورا ن کے نریندر دابھولکر، گووند پنسرے اور کلبرگی وگوری لنکیش کے قتل میں شریک ہونے کا، کچھ نہ کچھ’رشتہ‘ آر ایس ایس سے ہے۔ملک کو ’ہندوراشٹر‘ میں تبدیل کرنے کا ایجنڈا تو سنگھ کاہی ہے اور سنگھ کے ایجنڈے پر جو بھی عمل کرے گاوہ سنگھی ہی ہوگا۔
اے ٹی ایس او ر سی بی آئی کی چارج شیٹوں پرایک طرح سے حیرت ہورہی ہے۔کیوں کہ صوبہ مہاراشٹر میںبی جے پی کی سرکار ہے، دیویندر فڈنویس وزیر اعلیٰ ہیں اور آر ایس ایس میں انتہائی سرگرم رہے ہیں؛ یہ سوال اُٹھتا ہے کہ کیسے اے ٹی ایس اور سی بی آئی نے ایک سنگھی حکومت میں سناتن سنستھا اور ہندوجن جاگروتی سمیتی کے خلاف چارج شیٹیں پیش کیں، اور وہ بھی ایسی جو انہیں پوری طرح دہشت گردی سے بھی جوڑتی ہیںاور سنگھ کے ساتھ ان کے تعلقات کو بھی عیاں کرتی ہیں ! یہ کام تو کانگریس کی سرکار میں بھی نہیں ہوا تھا۔ ہیمنت کرکرے نے ایک کوشش تو کی تھی، پر وہ شہید کردئیے گئے، پھر کانگریس کی سرکار نے ان کے کام کو آگے بڑھانے سے عملاً ہاتھ روک لیے۔ کرکرے نے جو نشانات طے کئے تھے وہ مٹا دئیے گئے۔۔۔تو کم از کم اس معاملے میں بی جے پی کی فڈنویس سرکار سابقہ کانگریس سرکار کے مقابلے تو اچھی ہی نظر آرہی ہے۔ کم از کم وہ اے ٹی ایس اور سی بی آئی پر کوئی روک تو نہیں لگا رہی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے، واقعی فڈنویس سرکار نے اےٹی ایس اور سی بی آئی کو دہشت گردوں کی سرکوبی کےلیئے مکمل چھوٹ دے دی ہے تو اس کےلیے وہ واقعی سراہے جانے کی حقدار ہے۔ لیکن اس سے قبل اسے ایک کام او رکرنا ہوگا، وہ کام جو کانگریس کی سیکولر سرکار نہیں کرسکی تھی، اسے سناتن سنستھا پر بھی اور ہندو جن جاگروتی سمیتی پر بھی پابندی عائد کرنا ہوگی۔
(بصیرت فیچرس)