نبوتِ محمدی ﷺاور اُمت کی ذمہ داریاں

نبوتِ محمدی ﷺاور اُمت کی ذمہ داریاں

فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
(ترجمان وسکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)
ربیع الاول کا مہینہ گذر رہا ہے اور ہر طرف جلسۂ سیرت النبیﷺکی دھوم دھام ہے ، سیرت کے بہت سے پہلو ہیں ، ہر پہلو قلب و نگاہ کے لئے جذب و کشش کا سامان اور ایمان ویقین کے لئے اضافہ و طمانیت کا باعث ہے ؛ لیکن حضورﷺکے فضائل و احسانات کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ خود ہم پر آپﷺکے تئیں کیا حقوق عائد ہوتے ہیں ؟ اور کیا ہم واقعی ان حقوق کو ادا کررہے ہیں ؟
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پہلا حق آپﷺکی نبوت پر ایمان لانا ہے ، ایمان محض زبان کے بول کا نام نہیں ہے ؛بلکہ قلب و نظر کے یقین سے عبارت ہے ، آپﷺپر ایمان لانے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آپﷺکے بتائے ہوئے احکام پر بھی ہمارا پورا ایقان ہو ، ہماری سوچ یہ ہو کہ ہماری آنکھیں غلط دیکھ سکتی ہیں ، ہمارے کان غلط سن سکتے ہیں ، ہماری زبان غلط چکھ سکتی ہے ، ہمارے ہاتھ چھونے اور محسوس کرنے میں غلطی کرسکتے ہیں ؛ لیکن جو بات صحیح اور مستند طریقہ پر آپﷺسے ثابت ہو وہ غلط نہیں ہوسکتی ، اگر دل میں یہ یقین گھر کرلے تو انسان کی عملی زندگی میں ایسا انقلاب آجائے کہ اس کے روز و شب اور شام و سحر بدل جائیں ؛ مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہے ، مثلاً رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعلیمات ہمیں بتاتی ہے کہ صدقہ برکت کا باعث ہے اور سود بے برکتی کا سبب ، اب جو شخص آپ پر کامل ایمان و ایقان رکھتا ہو ، اس کا قلب و ذہن یقینا اس پر مطمئن ہوگا اور جس شخص کا ایمان آپ کی تعلیمات پر کھوکھلا ہو ، وہ تو یہی سونچے گا کہ صدقہ سے مال کم ہوتا ہے اور سود سے بڑھتاہے ۔
نبوت محمدی پر ایمان کا اہم پہلو یہ ہے کہ آپ صرف نبی نہیںہیں ؛ بلکہ خاتم النبیین ہیں ، آپ کے بعد کسی طرح کی کوئی نبوت باقی نہیں رہی ، آپ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہ بالیقین مرتد ہے اور اس کو قبول کرنے والے بھی دائرہ اسلام سے باہر ہیں ، یہ ختم نبوت کا عین تقاضہ ہے ، — اس وقت ہندوستان کے مختلف علاقوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ختم نبوت کے باغی ہیں اور جو پنجاب کے ایک مدعی نبوت کی طرف لوگوں کو دعوت دے رہے ہیں ، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر سچا اور پکا ایمان ایک مسلمان کو تڑپا دے گا اور وہ اس فتنۂ کبریٰ کے استیصال کے لئے اُٹھ کھڑا ہوگا ، اگر یہ بات ہماری غیرت کو جنبش نہیں دے تو یہ یقینا ہمارے ایمان کی صداقت اور اس پر استقامت کے لئے ایک سوالیہ نشان ہوگی ، ہمیں اس فتنہ کی بیخ کنی کے لئے قریہ قریہ پہنچنا اور اپنے بھولے بھالے ناواقف اور سادہ ذہن مسلمان بھائیوں کو صحیح صورت حال سمجھانا ہوگا اور اس طرح ہم عمل و قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے نبوت محمدی کے خلاف اس بغاوت کا مقابلہ کرسکیں گے ۔
نبی کا اُمت پر دوسرا حق نبی سے محبت ہے ، نبی سے اُمت کا تعلق محض قانونی اطاعت اور آئینی احترام کا نہیں ؛ بلکہ ایسی اطاعت مطلوب ہے ، جس کے پیچھے بے پناہ محبت کار فرما ہو ، ایسی محبت کہ انسان لٹ کر محسوس کرے کہ اس نے پایا ہے ، ایسی محبت کہ انسان کو کھو کر سمجھے کہ اس نے حاصل کیا ہے ، ایسی محبت جس میں کانٹوں کا بستر پھولوں کی ’’ سیج ‘‘ کا لطف دے اور جس راہ میں شعلہ و آتش میں انسان شبنم کی خنکی محسوس کرے ، جنون کو چھوتی ہوئی محبت اور فدا کاری کے جذبہ سے معمور اتھاہ چاہت ، یہی محبت آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے حضرات صحابہؓکی تھی ، کہ انھیں جان دینا گوارہ تھا اور یہ بات بھی برداشت نہ تھی کہ ان کی جان بچ جائے اور آپ کے تلووں میں ایک کانٹا بھی چبھے ۔
یہ حب نبویﷺایمان کی حفاظت کا بہت بڑا اثاثہ ہے ، اﷲ کا شکر ہے کہ مسلمان کتنا بھی گیا گذرا ہو ، بے نمازی ہو ، فرائض سے غافل ہو ، شراب و کباب جیسی بری عادتوں میں مبتلا ہو ، دین سے نابلد اور احکام شریعت سے ناواقف ہو ؛ لیکن اس کے سینے میں حب نبوی کی چنگاری ضرور موجود ہوتی ہے ، جو وقت پڑنے پر شعلہ ٔ و آتش بلکہ آتش فشاں بن جاتی ہے ، اس جذبۂ محبت کو حقیر نہ سمجھنا چاہئے ؛ بلکہ اس کی لَو کو اور بڑھانا اور تیز کرنا چاہئے اور ہمیں اپنے آباء واجداد سے حاصل ہونے والی اس امانت کو اگلی نسلوں تک پہنچانا چاہئے ، یہ محبت اسی وقت پروان چڑھے گی ، جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پہچان ان میں پیدا ہو اور یہ پہچان کیوںکر پیدا ہوگی اگر وہ سیرت نبوی سے آگاہ نہ ہوں ؟ مقام افسوس ہے کہ ہمارے بچے نہروجی اورگاندھی جی کی سیرت سے تو واقف ہوں — اور یقینا اپنے وطن کی تاریخ سے آگاہ ہونا بھی ضروری ہے ، — لیکن وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں بنیادی باتوں سے بھی واقف نہ ہوں ، انھیں صحیح طورپر آپ کا اور آپ کے قریبی متعلقین کا نام تک معلوم نہ ہو ، کیا اپنے بچوں کو سیرت محمدی سے واقف کرانے میں بھی ہمارے لئے کوئی رکاوٹ ہے ؟ — حق محبت کا ایک ادنیٰ حصہ بھی اسی وقت ادا ہوگا جب ہم محبت کی اس امانت کو اپنی نسلوں تک پہنچائیں گے ۔
رسول اﷲﷺ سے محبت کا ایک تقاضہ یہ بھی ہے کہ ہمیں آپ کی اُمت سے محبت ہو ، رسول اﷲﷺنے اپنی اُمت کو اپنی اولاد کا درجہ دیا ہے ، آپ نہ صرف اُمت کے صالح اورنیک لوگ بلکہ گنہگاروں سے بھی محبت فرمایا کرتے تھے ، آپ کو گناہ سے نفرت ضرور تھی ؛ لیکن گنہگاروں سے نفرت نہیں تھی ، دیہات و قریہ جات کے لوگ جو مقام نبوت سے کماحقہ واقف نہ تھے اور اسی سادگی اور سادہ لوحی میں آپ کا ادب و احترام کما حقہ ملحوظ نہیں رکھتے تھے ، آپ کا رویہ ان کے ساتھ بھی شفقت و رافت کا ہوتا تھا ، آپ ان کی غلطیوں کو معاف کرتے ، ان کی کوتاہیوں سے درگزر کرتے ، ان کی تند خوئی پر تحمل اور بردباری سے کام لیتے ، اُمت کے ایک ایک فرد کا دکھ خود محسوس کرتے اور ایک ایک انسان کی فلاح و ہدایت کے لئے بے چین رہتے ، غرض یہ پوری اُمت آپ کی شفقت و محبت کے زیر سایہ ہے ، جیسے کسی شخص کی محبت اس کی اولاد سے محبت کا باعث ہوتی ہے اور اس کے پورے کنبہ و خاندان سے انسان انس محسوس کرتا ہے، اسی طرح رسول اﷲﷺسے محبت کا لازمی تقاضہ یہ ہے کہ آپ کے اس پورے روحانی کنبہ سے ہمیں محبت ہو ، ان کے زخم کو ہم اپنے سینہ پر محسوس کریں اور ان کی تکلیف ہم کو بے چین و بے قرار کر دے ؛ اسی لئے رسول اﷲﷺاﷲ اور اﷲ کے رسول کے ساتھ ساتھ مسلمان کے ساتھ بھی خیر خواہی کی بیعت لیا کرتے تھے —- آج اُمت میں فرقہ بندی و پراگندگی کی صورت ہے ، ہمارے دل ایک دوسرے سے ٹوٹے ہوئے ہیں اورہماری صفیں بکھری ہوئی ہیں ، غور کیجئے کیا حضورﷺسے محبت کا تقاضہ یہی ہے ؟
رسول اﷲﷺکا تیسرا حق آپ کا احترام اور آپ کی عظمت ہے ، اﷲ تعالیٰ نے اس بات سے بھی منع فرمایا کہ آپﷺسے ہم کلام ہوتے ہوئے کسی مسلمان کی آواز آپ کی آواز سے بلند ہوجائے ، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ بحیثیت مسلمان ہم پر آپ کا کس قدر احترام واجب ہے ؟ صحابہ کرام نے اس طرح احترام کا حق ادا کیا کہ آپ جب کوئی بات ارشاد فرماتے تو وہ اس طرح گوش بر آواز ہوکر آپ کے گرد بیٹھے کہ جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں ، مبادا اڑ نہ جائیں ، جب آپ کلی کرتے تو صحابہ پانی کو زمین پر نہ گرنے دیتے ؛ بلکہ ہاتھوں ، چہروں اور سینوں پرمَل لیتے —- آج عظمت رسول کا تقاضہ یہ ہے کہ ہمارے سینے سنتوں کی عظمت سے معمور ہوں اور رسول اﷲﷺکی ایک ایک سنت کا ہم احترام کریں ، کوئی بھی سنت جو آپ سے ثابت ہو گو اس پر عمل کرنا واجب نہ ہو ؛ لیکن یہ ضروری ہے کہ اس کا احترام ہمارے دلوں میں بھی ہو اور زبان پر بھی ، اگر کسی ایسی سنت کا مذاق اُڑایا جائے جو صحیح روایتو ںسے ثابت ہو تو یاد رکھئے کہ یہ کفر ہے ؛ کیوںکہ کوئی معمولی عمل بھی جب رسول اﷲﷺکی طرف منسوب ہو تو یہ نسبت اُسے عظمت عطا کرتی ہے اور اس کو واجب الاحترام بنادیتی ہے ۔
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا چوتھا حق اطاعت و فرماںبرداری ہے ، آپ جن باتوں کا حکم دیں ان کی تعمیل واجب ہے اور آپ جن باتو ںسے منع فرمادیں ، ان سے رکنا واجب ہے ، اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’ جو شخص اپنے باہمی اختلاف میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے فیصلہ پر راضی نہ ہو اور اس کے سامنے سرتسلیم خم نہ کردے وہ مؤمن ہی نہیں ہے ‘‘ فلاو ربک لایؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم (النساء : ۶۵) کیوںکہ آپ کی اطاعت دراصل اﷲ کی اطاعت ہے ، من یطع الرسول فقد اطاع اﷲ ۔
اطاعت و فرماںبرداری اور تسلیم و رضا کا امتحان اس وقت ہوتا ہے ، جب کوئی حکم انسان کے مفاد ، اس کے جذبات اور اس کی خواہشات کے خلاف سامنے آئے ، وہاں اپنے وقتی مفاد اور نفس کی خواہش پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کو غالب رکھنا رسول کے حکم کی اطاعت ہے ، —- آج ہم اپنی عملی زندگی کا جائزہ لیں کہ نکاح ، شادی بیاہ کی تقریبات ، ازدواجی زندگی کے اختلافات ، میراث کی تقسیم ، کاروبار و و معاملات اور نہ جانے کتنے مواقع ہیں کہ تھوڑے سے مفاد کے لئے بھی احکام نبوی کو پامال اور نظر انداز کرنے میں نہ کوئی تکلف ہوتا ہے اور نہ کوئی تأمل ۔
رسول اﷲﷺکا پانچواں حق آپ کی ’ اتباع و پیروی ‘ ہے ، یعنی آپﷺکے نقش قدم پر چلنا ہے ، آپ کے ایک ایک عمل پر اپنے عمل کی بنیاد رکھنا اور آپ کی زندگی کو اپنے لئے اُسوہ و نمونہ بنانا ، قرآن میں ایک سے زیادہ مواقع پر آپ کی اتباع و پیروی کا حکم دیا گیا ہے ؛ کیوںکہ آپ کی حیات طیبہ منشاء ربانی کا مظہر ہے ، آپ کا اُٹھنا اور بیٹھنا ، سونا اور جاگنا ، کھانا وپینا ، جلوت و خلوت ، لوگوں کے ساتھ تعلقات ، دوستوں اور دشمنوں کے ساتھ سلوک ، وضع و قطع اور لباس و پوشاک ، غرض آپ کا ایک ایک عمل انسان کی عملی زندگی کے لئے نمونہ کا درجہ رکھتی ہے ، جس کی روشنی میں انسان اپنے خدوخال درست کرسکتا ہے یہی اتباعِ سنت اسلام کا خلاصہ ہے ۔
اور یہ انسانیت پراﷲ کا احسان ہے کہ آپ کی سنت اس طرح محفوظ کردی گئی ہے کہ آ پ کی پوری زندگی ایک کھلی کتاب ہے ، جو آپ پر ایمان رکھتا ہو اس کو عمل اور برتاؤ کے لئے کسی اور طرف دیکھنے اور کسی اور کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی حاجت نہیں ، مذاہب عالم میں کوئی مذہب ایسا نہیں جس میں اس کے پیشوا اور اس مذہب کی آئیڈیل شخصیت کی زندگی اس قدر رونق اور تابناک ہو اور وہ تمام نشیب و فراز میں انسان کے لئے نقش راہ کا کام کرسکے —- پس رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر ایمان ، آپ سے بے پناہ محبت ، آپ کا احترام ، آپ کی اطاعت وفرماںبرداری اور آپ کی اتباع و پیروی اُمت پر آپ کے حقوق ہیں ،ہم اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں کہ کیا ہم ان حقوق کو ادا کررہے ہیں ، کہیں روز محشر میں ہمارا اس طرح رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے سامنا نہ ہو کہ ہم آپﷺکی حق تلفی کے مجرم ٹھہرائے جائیں !
(بصیرت فیچرس)