بابری مسجد کی شہادت کا غم ہمیشہ تازہ ہی رہے گا!

بابری مسجد کی شہادت کا غم ہمیشہ تازہ ہی رہے گا!

شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوزسرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
بابری مسجد کی ۲۶؍ویں برسی کا دن بھی گزر گیا۔
ایسے ہی نہ جانے کتنے اور دن گزر جائیں گے پر ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ کے روز اس ملک کے مسلمانوں کو جو ایک گہرا زخم لگا تھا یقیناً وہ مندمل نہیں ہوگا۔ ۲۶؍ویں برسی کے روز ملک بھر میں مسلمانوں نے ’یوم سیاہ‘ منا کر ’اذانیں‘ دے کر اور ’احتجاج‘ کرکے اپنے کرب والم کا اظہار کردیا ہے او ریہ بھی بتادیا ہے کہ بابری مسجد کی شہات ان کےلیے کوئی ایسا عمل قطعی نہیں ہے جسے فراموش کردیاجائے، جسے بھلا دیاجائے۔ اس ملک میں تو جنونیوں نے پہلے بھی عبادت گاہوں پر حملے کیے ہیں، ملک کے طول وعرض میں نہ جانے کتنے فسادات ہوئے ہیں جن میں مسجد یںبھی شہید گئی ہیں، مکانات بھی تباہ وبرباد کیے گئے ہیںاور ز ندگیاں بھی برباد کی گئی ہیں، پھر بھلا وہ کیا بات ہے کہ مسلمان ۔۔۔اور اس ملک کے سیکولر عناصر بھی۔۔۔بابری مسجد کی شہادت کا غم، رنج، کرب والم بھولنے کے لیے، اور اس ’شرمناک ترین ظلم‘ کے’ مجرموں ‘کو معاف کرنےکےلیے تیار نہیں ہیں؟ اس کی ایک بڑی وجہ وہ ’فریب‘ اور ’دھوکہ‘ تھا جو مسلمانوں کو سیکولرازم اور جمہوریت کے نام پر دیاگیا تھا۔ ۔۔اور آج یہ دھوکہ دیاجارہا ہے۔۔۔وہ سیاست داں ، وہ سیاسی پارٹیاں، وہ جماعتیں اور تنظیمیں اور وہ عدلیہ ، وہ انتظامیہ جس پر اس ملک کے مسلمان، لاکھوں فسادات میں لٹنے پٹنے کے باوجود ،اعتبار اور بھروسہ کرتے چلے آئے تھے، انہوں نے سارے مکروہ عمل سے، کارسیوکوں کی ساری خباثت سے، فرقہ پرستوں کی ساری عیاریوں سے آنکھیں پھیر لی تھیں اور ایک ایسے وقت میں جب مسلمانوں کو سہارے کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، اسے بے سہارا اور بے یارومددگار چھوڑ دیاتھا۔ دھوکہ دینے وا لوں میں’اپنے‘ بھی تھے اس لیے زخم گہرے سے بھی گہرا لگا۔
۲۶؍سال قبل بابری مسجد کی شہادت کی تصویریں جنہوں نے دیکھی ہیں، یا خبریں جنہوں نے پڑھی ہیں، یا جو موقع پر موجود رہے اور اپنی آنکھوں سے ساڑھے چار سو سالہ قدیم تاریخی بابری مسجد کو شہید کیے جاتے دیکھا ہے، ان سے اگر آج بھی پوچھا جائے کہ وہ اب کیسا محسوس کرتے ہیں، تو اگر وہ فرقہ پرست نہیں دیانتدار ہیں تو یہی کہیں گے کہ آج بھی وہ ’شرمناک لمحہ‘ ان کے دل ودماغ پر کچوکے لگا رہا ہے۔ سارا منظر قدیم دور کے کسی جنگ جیسا تھا جب فتح کے نشے میں چور کوئی حکمراں مفتوح قوم کےسارے آثار اور ساری نشانیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانےکےلیے اپنی فوج کو بے لگام کردیا کرتا تھا۔ ’کارسیوک‘ اس روز فتح کے نشے میں ہی چور تھے۔ مسلمان بے بس تھے، وہ اپنی آنکھوں سے اپنی تاریخ کو اور تاریخ کے ساتھ اپنی تہذیب اور شناخت کو مٹتے ہوئے دیکھتے رہے۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ سارے سیکولر عناصر، کیا اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا رائو اور کیا اس وقت کی کانگریس کی کھویاّ سونیا گاندھی سب کے سب خاموشی کی تصویر بنے اس ’شرمناک گھنائونے عمل‘ کو دیکھتے رہے۔ بی جے پی تو قابل معافی ہے ہی نہیں، کانگریس بھی معافی کے قابل نہیں ہے۔ اور عدلیہ ، اس نے یوپی کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کو ’حلف نامے‘ کی خلاف ورزی کی ’سزا‘ دی تو کیا دی، ایک دن کی قید!عدلیہ کا یہ ’انصاف‘ مسلمانوں کے لیے زخموں پر نمک ہی کی طرح تھا۔
یہ سچ ہے کہ آج ملک پر بابری مسجد کے قصور واروں کی حکومت ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ’تاریخ‘ نے اس ’گھنائونے عمل‘ کے قصور واروں کو ’مجرم‘ قرار دے دیا ہے۔ صرف لبراہن کمیشن ہی نہیں ہے جس نے اڈوانی اینڈ کمپنی کو مجرم ٹھہرایا ہے ، ساری دنیا انہیں مجرم سمجھتی ہے اور سمجھتی رہے گی۔ نہ ’تاریخ‘ ان مجرموں کو معاف کرے گی نہ ہی اس ملک کے مسلمان اور سیکولر عناصر۔ ۲۶؍ویں برسی گزرنے پر ’یوم سیاہ‘ منانے والے تمام مسلمانوں اور اس ملک کے سیکولر عناصر کو یہ یقین ہے کہ آئین سے کھلواڑ کرنے والوں اور جمہوریت اور سیکولر اقتدار کو ملیامیٹ کرنے والوں کو سزا ایک نہ ایک دن تو ملنا ہی ہے۔ سزا چاہے ملک کا قانون دے یا قدرت۔ مسلمان اور انصاف پسند تشدد نہیں چاہتے، وہ خاموشی سے انصاف کے منتظر ہیں اور پرامن طریقے پر احتجاج کرتے چلے آرہے ہیں۔ اب ۶؍دسمبر کا دن آئندہ سال آئے گا، مسلمان اور انصاف پسند سیکولر عناصر یاد رہے کہ آئندہ سال بھی ’یوم سیاہ‘ کا عمل جاری رہے، ’اذانیں‘ دی جائیں اور ’احتجاج‘ نہ رکے تاکہ بابری مسجد کی شہادت کا غم تازہ بنا رہے ، ہمیشہ ۔
(بصیرت فیچرس)