جب نفرت کی کھیتی لگاتار ہوگی تو ہم سب ’سبودھ‘ ہوجائیں گے۔

جب نفرت کی کھیتی لگاتار ہوگی تو ہم سب ’سبودھ‘ ہوجائیں گے۔

تحریر: ابھیشیک پرکاش (ڈی ایس پی یوپی پولیس )
ترجمہ: نازش ہما قاسمی
آئین کی روح ایسے ہی نہیں نکلے گی۔ اس کےلیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے اور اس کےلیے ضروری ہے کہ ایک ایسی ہی بھیڑ، ایسا ہی ہجوم اور ایسی ہی سوچ کے بیج کو بو دیاجائے جو دھیرے دھیرے آئین کا قتل خود بخود کردے اور اسی کڑی میں سبودھ سنگھ کے قتل کو دیکھاجاناچاہئے ۔ خیر سبودھ سنگھ کوئی سیاسی لیڈر، کلاکار، صحافی انٹرپرائز نہیں تھے جن کےلیے کوئی ہائے توبہ مچے، وہ انسان تھے اور پولس افسر تھے اور میں جانتاہوں کہ سبھی بڑے اور اہم لوگوں کی نظروں میں پولس والا چور، بے ایمان، سیاسی لیڈروں کے تلوے چاٹنے والا ہی ہوتا ہے۔
خیر پولس کی قسمت ہی یہی ہے ، پولس اپنی کمزوری کے ساتھ ساتھ دوسرے محکمے کی ناکامیوں کے بوجھ کو بھی اپنے کندھے پر ڈھوتی ہے۔ پولس سبھی کی امیدوں کو کندھا دیتی ہے اور اس لیے اپنے کندھے تڑوا بیٹھتی ہے۔ آج کل پولس کے اقبال کی باتیں بہت ہورہی ہیں میں بھی مانتا ہوں کہ پولس کا اقبال کم ہوا ہے؛ لیکن مجھے یہ بھی بتا دیجئے کہ اتنے کم وسائل اور سیاسی دبائو کے درمیان کس تنظیم کا اقبال اس ملک میں مضبوط ہوا ہے۔ خواہ محکمہ تعلیم ہو، صحافت ہو، میڈیکل ہو، قانون سازی ہو یا کوئی بھی انسٹی ٹیوٹ سبھی اپنے مقاصد کی برآوری میں ناکام ثابت ہورہے ہیں۔
لیکن جو اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ پولس کو جہاں ڈیل کرنا ہوتا ہے اس کام کی نوعیت کچھ زیادہ ہی سنگین ہوتی ہے جس کا نتیجہ سبودھ سنگھ کے قتل کے طور پر بھی سامنے آتا ہے ۔ دوسرا کونسا محکمہ ہے جہاں پروفیشنل کو اس طرح اپنی جان گنوانی پڑتی ہے۔ سبودھ سنگھ کو مارنے کے پیچھے جو بھی اسکیم رہی ہو؛ لیکن اس طرح کے واردات کو ہمارے وقت کی تاریخ لکھ رہی ہے جو آگے چل کر ہمارے ملک کے نقشے کو بدلنے کا مدعا رکھتی ہے۔ جو سنجیدہ نہیں ہے وہ ملک کے اندرون کو غور سے دیکھیں کہ کون کہاں کس کے ساتھ کیا کررہا ہے۔
خیر ہم پولس والے ہیں جو وردی پہن لینے کے بعد ٹھلا، چور، بے ایمان اور تلوے چاٹنے والے ہوجاتے ہیں، لیکن ہم ہمیشہ ایسے ہی نہیں رہیں گے اس کےلیے عوام الناس کو آگے آنا ہوگا ، اس کےلیے مندر مسجد تعمیر سے زیادہ پولس سدھار کی باتیں کرنی ہوں گی، پولس ہی نہیں ہمارے فرضی آقائوں سے سوال کرنا ہوگا کہ پولس ریفارم کو آگے کیوں نہیں بڑھایاجارہا ہے۔ میں سلام کرتا ہوں ابھیشیک سنگھ کو جو اپنے والد کے مرنے کے بعد بھی تشدد و نفرت کی زبان نہیں بول رہے ہیں ۔ سچ کہوں تو تصویر میں بھی اس سے نطر نہیں ملا پارہا ہوں ، پولس ایک خاندان ہے اور ابھیشیک جیسے سبھی ہمارے اپنے ہیں۔
خیر بلند شہر کی خوفناکی کو میں صرف تھوڑا بہت ہی ذہن میں اتار پارہا ہوں؛ کیونکہ اس طرح کی واردات میرے علاقوں میں رونما ہوئی تھیں جب ایک گائے کو کاٹ کر پھینک دیاگیا تھا اس وقت بھیڑ کی ذہنی حالت کیا ہوتی ہے اس کا اندازہ ہمیں ہے؛ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جس بھیڑ کا سامنا میں نے کیا اس میں نفرت کا اسپیس اتنا نہیں تھا؛ لیکن نفرت کی کھیتی جب لگاتار ہوگی تو وہ بیج تناوردرخت بن جائے گا تب کوئی سبودھ سنگھ نہیں رہے گا، ہم سبھی ’سبودھ‘ ہوجائیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی گولی ہماری بھی منتظر ہو۔
(نوٹ: یہ تحریر انہوں نے اپنے فیس بک وال پر تحریر کی ہے)
(بصیرت فیچرس)