بابری مسجد کی شہادت کی برسی کے موقع پر

بابری مسجد کی شہادت کی برسی کے موقع پر

ناندیڑ میں رضاکارانہ بند صد فی صد کامیاب
مسلم متحدہ محاذ کی جانب سے عظیم الشان احتجاجی جلسہ کا انعقاد مسلمانوں نے دوکانوں اور مکانوں پر سیاہ پرچم لگائے
ناندیڑ:6/ دسمبر (محمد شاہد) بابری مسجد کی یوم شہادت کے 26 ویں برسی کے موقع پر شہر اور ضلع میں رضاکارانہ بند صد فی صد کامیاب رہا۔ آج ناندیڑ شہر میں مسلم سماج کی جانب سے یوم سیاہ منایاگیا۔ اس کے علاوہ مسلم متحدہ محاذ کی جانب سے شہر کے دیگلور ناکہ علاقہ میں قباء مسجد کے روبرو ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔ مولانا مفتی خلیل الرحمٰن قاسمی کی صدارت میں منعقدہ اس جلسہ میں شہر کے تمام سماجی اور ملی تنظیموں کے ذمہ داران موجود تھے۔ اس موقع پر احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے محاذ کے صدر ایڈوکیٹ ایم ۔زیڈ ۔صدیقی نے کہا کہ آج کا یہ احتجاجی جلسہ ایک تاریخی جلسہ ہے۔ انہو ں نے کہا کہ اس ملک میں فرقہ پرستوں کی جانب سے 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد شہید کی گئی اور جمہوریت کا گلا گھونٹا گیا۔ دن کے اجالے میں یہ سارا واقعہ ہوتا رہا اور اس وقت کی حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی تھی ۔لیکن اس ملک کے مسلمان نے ہمیشہ صبر اور تحمل سے کام لیا ہے اور مسلمانوں کو عدلیہ پر پورا یقین ہے۔ چند فرقہ پرست ملک کی فضاءکو بگاڑنا چاہتے ہیں لیکن اسلام امن اور شانتی کا پیغام دیتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ انشاءاللہ بابری مسجد کی اسی مقام پر دوبارہ تعمیر نو ہوگی ۔ناندیڑ کا یہ احتجاجی جلسہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آج کا نوجوان 6 دسمبر کی اہمیت کو جان چکا ہے اور مجھے خوشی ہے کہ ہمارے اس اپیل پر آج یہاں پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ شامل ہوئے ہیں ۔صدارتی خطاب کرتے ہوئے مفتی خلیل الرحمٰن قاسمی نے کہا کہ نوجوان نسل دین کی طرف راغب ہو اور اپنا وقت فضول کی باتوں میں خرچ نہ کریں ۔بابری مسجد کی شہادت مسلمانوں کے دل پر ٹھینس پہنچانے والی ہے۔ لیکن مسلم نوجوان جوش سے کام نہ لیتے ہوئے ہوش سے کام لیں کثرت سے عبادت کریں اور مسجدوں کو آباد کریں ۔انہوں نے کہا کہ جس مقام پر مسجد کو شہیدکیا گیا اس مقام پر بابری مسجد قائم تھی ،آج بھی ہے اور انشاءاللہ تعالیٰ قیامت تک بھی اسی مقام پر قائم رہے گی ۔اس احتجاجی جلسہ سے صفاءبیت المال کے مولانا سرور قاسمی، جمعیة العلماءشہر صدر مولانا آصف ندوی، مولانا ایوب قاسمی، قاضی رفیق، مولانا عبدالعظیم رضوی، ناصر خطیب نے بھی خطاب کیا۔ آج یہ احتجاجی دھرنا در اصل دفتر ضلع کلکٹر کے روبرو منعقد ہونا تھا لیکن ضلع انتظامیہ کی جانب سے لاءاینڈ آرڈر کو دیکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے اس کی اجازت نہ دی جس کی وجہہ سے محاذ کو دیگلور ناکہ علاقہ میں احتجاجی دھرنا کے بجائے احتجاجی جلسہ منعقد کرنا پڑا۔ جلسہ کے اختتام پر ایڈیشنل کلکٹر اور ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ سنجے جادھو دیگلور ناکہ علاقہ پہنچے اور اتوارہ پولیس چوکی میں محاذ کی جانب سے انہوں نے میمورنڈم کو قبول کیا ۔ یہ میمورنڈم محاذ کے صدر ایڈوکیٹ ایم۔ زیڈ۔ صدیقی ،سابقہ مئیر عبدالستار، اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیر مین شمیم عبداللہ، مولانا سرور قاسمی، مولانا آصف ندوی ،مولانا سلیم ملی، مولانا ایوب قاسمی، کارپوریٹر س عبدالرشید، عبدالطیف، بابو بھائی گتہ دار، محمد ناصر، سید شیر علی نے دیا۔ مسلم متحدہ محاذ کی جانب سے منعقدہ اس احتجاجی جلسہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کر اس احتجاج کو میاب بنایا۔ اس احتجاجی جلسہ کی نظامت ایڈوکیٹ نصیر الدین فاروقی نے کی ۔اس کے علاوہ آج سماجی، ملی تنظیموں کے علاوہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے ضلع کلکٹر کو میمورنڈم پیش کئے گئے ۔آج ضلع کلکٹر کو بابری مسجد کی بازیابی اسی مقام پر دوبارہ تعمیر کرنے کے مطالبہ کو لے کر مجلس اتحاد المسلمین کے ضلع صدر فیروز لالہ کی قیادت میں ایک وفد نے ضلع کلکٹر سے ملاقات کر انہیں میمورنڈم پیش کیا۔ سماج وادی پارٹی کے ضلع صدر الطاف سر کی قیادت میں وفد نے بھی ضلع کلکٹر دفتر پہنچ کر اپنا مطالباتی محضر پیش کیا۔ اس کے علاوہ امامس کونسل، پاپولر فرنٹ آف انڈیا، سنی علماءکونسل، مسلم لائیرس اسو سی ایشن و دیگر ملی و سماجی تنظیموں کی جانب سے اپنا احتجاج درج کراکر میمو رنڈم پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ آج ناندیڑ شہر کے مسلم علاقوں میں مکمل طور پر کاروباری ادارے بند رہے۔ جن میں پیر برہان نگر، شری نگر، پھلے مارکیٹ ،مخدوم نگر، نئی آبادی ،مولانا آزاد نگر، کلاءمندر ،مل گیٹ ،کھڑکپورہ ،واگھی روڈ، برکت پورہ ،سیلانی نگر، فاروق نگر، بافنا، ہنگولی گیٹ، دیگلور ناکہ ،منیار گلی ،عید گاہ چوراہ، چوپالہ، منڈھائی، ہتائی، کربلاء،چوک بازار، پرانا مونڈھا، قدیم شہر و دیگر علاقوں کے مسلم تاجران نے اپنے کاروبار بند رکھ کر بابری مسجد کی شہادت پر غم و غصہ کا اظہار کیا ۔کاروبار بند رکھتے ہوئے مسلمانوں نے بیشتر علاقوں میں اپنے اپنے مکانوں اور دوکانوں پر کالے جھنڈے لگاکر بابری مسجد کی یاد کی ۔ بند کو لے کر محکمہ پولیس کی جانب سے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ۔رات دیر گئے سے ہی مختلف حساس علاقوں مسلم اکثریتی علاقوں ،عبادت گاہوں کے روبرو فکس پوائنٹ تعینات کردئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ عام دنوں کے مقابلہ پولیس گشت میں اضافہ کرتے ہوئے شر پسند عناصر پر نظر رکھی گئی۔