دارالعلوم دیوبند سے جڑا تھا قندھار طیارہ اغوا کا کنکشن

دارالعلوم دیوبند سے جڑا تھا قندھار طیارہ اغوا کا کنکشن

مسعود اظہر نے دارالعلوم دیوبند سے حاصل کی تعلیم:گجراج رانا
بی جے پی لیڈر دارالعلوم کے نام پر ماحول خراب کرنا چاہتے ہیں: مفتی شریف خان
دیوبند۔۶؍دسمبر(ایس۔چودھری)مرکزی وزیر گری راج سنگھ کے ذریعہ دارالعلوم دیوبند کا نام دہشت گرد حافظ سعید اور بغدادی سے جوڑنے والے متنازعہ بیان کے بعد اب بی جے پی شہر صدر نے ایک اور متنازعہ بیان دے کر معاملے کو پھر سے ہوا دینے کی کوشش کی ہے، بی جے پی کے شہر کے صدر نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند کوئی مذہبی ادارہ نہ ہوکر ایک تعلیم گاہ ہے ،قندھار طیارہ اغوا کے تارے بھی دارالعلوم دیوبند سے جڑے ہوئے تھے، جس کی مرکزی حکومت کو جانچ کرنی چاہئے۔ واضح رہے کہ جیسے ہی 2019ء کے انتخابات نزدیک آرہے ہیں ہندو تنظیموں کے لیڈر ماحول خراب کرنے کے لئے کوشاںہوگئے ہیں اور اس مرتبہ انہوںنے دارالعلوم دیوبندجیسے عظیم ادارہ کو نشانہ بناکر اس پر بیہودہ بیان بازی شروع کردی ہے ،جس کی ہندو مسلمانوںکی جانب مشترکہ طورپر مذمت کی جارہی ہے۔ آج بی جے پی شہر صدر کے ذریعہ ایک ٹی وی چینل کو دیئے گئے بیان میں کہاکہ مرکزی وزیر گری راج سنگھ کے بیان کی بی جے پی مکمل حمایت کرتی ہے۔گجراج رانا نے کہاکہ ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے خلاف انتہائی غیر ذمہ دارانہ ،بے بنیاد اور متنازعہ بیان دیاہے اور کہا کہ1998ء قندھار طیارہ کاہائی جیک کا سازشی مولانا مسعود اظہردارالعلوم دیوبند کا طالبعلم رہ چکاہے، جس کے سبب دیوبند کے اشارہ پر ہی قندھار طیارہ ہائی جیک جیسی سازش رونما ہوئی تھی۔ رانا نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند کوئی مذہبی ادارہ نہیں بلکہ ایک تعلیم ادارہ ہے، جبکہ کچھ لوگ دارالعلوم دیوبند کو دنیا بھر میں ایک مذہبی ادارہ پیش کررہے ہیں،دارالعلوم دیوبند کی حمایت کرنے والو پنڈت ستیندر شرما کے ذریعہ دارالعلوم دیوبند کی حمایت کرنے پر گجراج رانانے کہاکہ پنڈت ستیندر شرما جیسے لوگ ہندو مذہب کے لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں،ہندو سماج کو ان سے ہوشیار رہ کر ان کابائیکاٹ کرناچاہئے۔ادھر گجراج سنگھ کے بیان پر دارالعلوم زکریا دیوبند کے مہتمم مفتی شریف خان قاسمی نے کہاکہ بی جے پی کے لوگ ملک میںمنافرت پھیلانے اور دیوبند جیسے امن و شانتی کے گہوارہ کاماحول خراب کرنے کے لئے بے بنیاد بیان بازی کررہے ہیں اوردارالعلوم دیوبند جیسی عظیم الشان دینی درسگاہ کو نشانہ بنا رہے ہیں، جنہیں شرم آنی چاہئے۔انہوںنے گجراج سنگھ کے بیان کی شدید الفاظ میںمذمت کرتے ہوئے کہاکہ گجراج رانا دیوبند میں رہتے ہیں انہیں دارالعلوم دیوبند کے آکر دیکھنا چاہئے اور سمجھنا چاہئے کہ جب ان کی تنظیمیں انگریزی سے وفاداری ثابت کررہی تھی یہ عظیم الشان ادارہ اس وقت ہندوستان کی آزادی کا جھنڈا بلند کئے ہواتھا، انہوں نے کہاکہ گجراج رانا کو اپنا بیان واپس لیکر معافی مانگنی چاہئے اور دیوبند کی پر امن فضا کو زہر آلودہ نہیں بنانا چاہئے،ساتھ ہی اگر انہیں کچھ غلط لگتاہے تو حکومت ان کی ہے،جانچ ایجنسیاں ان کی ہے ،جانچ کرانی چاہئے بلاوجہ بیان بازی کرکے ماحول کو خراب نہیں کرنا چاہئے۔