بجنور بم دھماکہ مقدمہ میںبارہواں گواہ راکیش پالیوال کی گواہی مکمل

بجنور بم دھماکہ مقدمہ میںبارہواں گواہ راکیش پالیوال کی گواہی مکمل

استغاثہ ملزمین کے خلاف عدالت میں ثبوت پیش کرنے میں پوری طرح نا کام
ممبئی۔۶؍ دسمبر(پریس ریلیز) اتر پر دیش کے شہربجنور میں بم دھماکہ کرنے کے الزام میں گرفتار رئیس ،عبد اللہ ،فرحان ،ندیم اور حسنہ نامی خاتون کے مقدمہ کی سماعت لکھنؤ کی خصوصی این آئی اے عدالت میں جاری ہے اور استغاثہ کی جا نب سے عدالت میں گواہوں کو پیش کیا جا رہا ہے آج یہاں عدالت میں پیش کردہ بارہویں گواہ راکیش پالیوال کی گواہی اور جرح مکمل ہو چکی ہے ۔استغاثہ، ملز مین کے خلاف کسی بھی طرح کا ثبوت پیش کرنے میں پوری طرح نا کام ہے اور یہ حقیقت سامنے آنے لگی ہے کہ بجنور بم دھماکہ مقدمہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے وہ بے قصور ہیں، اور ملز مین کے خلاف جو ثبوت وشواہد عدالت کے روبرو پیش کئے گئے ہیں وہ من گھڑت اور فرضی ہیں۔ اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو مفت قا نونی فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے ۔
بجنور دھماکہ کیس میں عدالت میں پیش کردہ با رہویںگواہ راکیش پالیوال نے بتایا کہ پہلے حسنی کے بھائی ندیم کو ۲۸؍ نومبر ۲۰۱۴ کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے دوسرے دن فرقان کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان دو نوں کے پاس سے پیسوں کی بر آمدگی کے ساتھ ساتھ ایک ہی آدمی کا ڈرائیور لائنس بھی ضبط کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ اس کیس میں کل تین ایف آئی آر درج کئے گئے ہیں پہلے ایف آئی آر میں راکیش والیوال تفتیسی افسر ہیں ،دوسری اور تیسری ایف آئی آر میں یہ شکایت کنندہ ہیں ،یہ تینوں ایف آئی آر یو اے پی اے کے تحت درج کئے گئے ہیں ،انہوںنے عدالت کے رو برو یہ بھی کہا کہ ملز مین کو گرفتار کرکے ان پر جو دفعات لگائے گئی ہیںاس کا مجھے علم نہیں ہے کہ کون سی دفعات ہیں،اس گواہی سے استغاثہ کا مو قف خود کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
واضح رہے کہ بجنور( اتر پر دیش) میں ۱۲؍ستمبر ۲۰۱۴ میں ایک دھماکہ ہو ا تھا ، جس کے بعد یوپی ایس ٹی ایف نے رئیس ،عبد اللہ ،فرحان ،ندیم اور حسنہ نامی ایک خاتون کو گرفتار کرتے ہوئے ان پر ملک کے خلاف جنگ ،سازش اور غیرقانونی ہتھیاررکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا اور اسی کے مطابق ان کے خلاف فرد جرم بھی عائد کیا۔اس کیس کی سماعت پہلے بجنور کی ضلع عدالت میں ہو ئی، اس کے بعد حکومت ہند نے جب یہ مقدمہ این آئی اے کے حوالے کر دیا تواس کی سماعت بجنور ضلع عدالت سے لکھنئواین آئی اے کی خصوصی عدالت میں منتقل ہو گئی ہے اور وہیں پر زیر سماعت ہے ۔
اس مقدمے کی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹر کررہی ہے،جمعیۃ لیگل سیل کے سکریٹری ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان اس کی نگرانی کررہے ہیں جبکہ ایڈوکیٹ ابوبکر سباق سبحانی عدالت میں اس کی قانونی پیروی کررہے ہیں۔ ایڈوکیٹ ابوبکر سباق سبحانی کے مطابق قانونی نکات پر یہ مقدمہ نہایت ہی کمزور ہے، دفاع کی جا نب سے دائر شدہ دستاویزوں میں یہ بات وا ضح کی جا چکی ہے کہ جھوٹے گواہ تیار کئے گئے ہیں اور جھوٹے و من گھڑت پنچ ناموں کے تحت کیس کو کھڑا کرنے کی کو شش کی گئی ہے ،عدالت میںاستغاثہ کی جا نب سے اس کیس کو جا ن بو جھ کر طول دیا جا رہا ہے جس کی واضح مثال یہ ہے کہ پانچ سالوں سے سے زائد عرصہ گذرنے کے بعد بھی ابھی تک ۱۷۷؍ گواہوں میں سے صرف ۱۲ گواہیاں مکمل ہوئی ہیں بقیہ ڈیڑ ھ سو سے زائد گواہان کی گواہی ابھی باقی ہے نہ جانے یہ کیس ابھی کب تک چلے گا ۔
اس موقع پرمولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے کہا کہ ملک کی بیشتر تحقیقاتی ایجنسیا ں اصل مجرم کو گرفتار نہ کر تے ہو ئے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بے قصور مسلم نوجوانو ں کو فرضی اورجھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے بر سو ں سے سلا خوں کے پیچھے رہنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ اس معاملے میں بھی گرفتار شدہ پانچوں افراد بے قصوور ہیں ان کو جان بو جھ کر پھنسایا گیا ہے جمعیۃ کے وکلاء اس کیس کی مضبوط طریقے پر پیروی کرہے ہیں انشاء اللہ دیگر مقدمات کی طرح اس کیس میں بھی ملز مین کو اانصاف ملے گا اور انہیں رہائی نصیب ہوگی ۔