مالیگاؤں ۲۰۰۸ء بم دھماکہ معاملہ

مالیگاؤں ۲۰۰۸ء بم دھماکہ معاملہ

ڈاکٹر سعید فارانی کی گواہی عملی آئی جنہوں ۶۵؍ زخمیوں کا علاج کیا تھا
بھگواء ملزم کے وکیل نے بے بنیاد الزام عائید کیا، کارروائی کل تک کے لیئے ملتوی
ممبئی ۶؍ دسمبر (پریس ریلیز) مالیگاؤں ۸۰۰۸ بم دھماکہ معاملے میں آج چوتھے سرکاری گواہ کی گواہی عمل میں آئی جس کے دوران گنجان مسلم آبادی والے شہر مالیگاؤں کے مشہور سرجن ڈاکٹر سعید فارانی جنہوں نے ان بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے ۵۶؍ معصوم افراد کا علاج کیا تھا نے عدالت کو بتایاکہ انہوں نے زخمیوں کی رپورٹ ان کے زخموں کے اور ان کی طبی حالت کی مناسبت سے تیار کی تھی جس سے ظاہر ہوتا ہیکہ زخم بم دھماکوں کے ہی تھے۔خصوصی عدالت میں آج دوران گواہی ڈاکٹر سعید فارنی نے عدالت کو بتایا کہ ابتک وہ ۲۲۶؍ ایسے افراد کا علاج کرچکے ہیں جو بم دھماکوں میں زخمی ہوئے تھے جس میں مالیگاؤں ۲۰۰۸ اور مالیگاؤں ۲۰۰۶ بم دھماکے شامل ہیں۔ ڈاکٹر سعید فارانی نے مزید بتایا کہ ۲۰۰۶ء مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے میں۱۷۰؍ زخمیوں کا انہوں نے مفت علاج کیا تھا جبکہ مالیگاؤں ۲۰۰۸ ء بم دھماکہ معاملے میں انہیں ۵۶؍ زخمیوں کے علاج کے عوض میں حکومت کی جانب سے چند ہزار روپیئے ملے تھے جو انہیں آج یاد بھی نہیں ہے۔ڈاکٹر سعید فارانی نے عدالت کو بتایا کہ بم دھماکوں میں زخمی ہونیوالوں کی عیادت کرنے کے لیئے جب سونیا گاندھی اور ان کے رفقاء نے ان کے اسپتال کا دورہ کیا تھا اس وقت انہوں نے سونیا گاندھی سے کہا تھا کہ انہیں کسی معاوضہ کی ضرروت نہیں بلکہ ان کی یہ خواہش ہیکہ حکومت مالیگاؤں میں ایک اعلی درجے کا اسپتال تعمیر کرے۔خصوصی این آئے جج نود پڈالکر اور عدالت میں موجود وکلاء نے ان کے اس اقدام کی سراہنا کی ہے اوران کا شکریہ ادا کیا۔اسی درمیان وکیل استغاثہ اویناس رسال نے ڈاکٹر سعید فارانی سے زخمیوں کے متعلق ان کے ذریعہ مرتب کی گئی میڈیکل رپورٹ کے تعلق سے تفصیلات طلب کی جسے ڈاکٹر سعید فارانی نے بتاتے ہو ئے عدالت کو بتایا کہ بم دھماکوں کے والی شب وہ ان کے اسپتال میں تھے جب زخمیوں کو ان کے اہل خانہ، رشتہ اور عوام نے علاج کے لیئے ان کو ’’فاران اسپتال‘‘ میں بھرتی کیا تھا جن کا انہوں نے علاج کیا اور اور سنگین زخمیوں کو دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا تھا۔ڈاکٹر سعید فارانی ۶۵؍ زخمی افراد کی تفصیل پیش کرنے کے ساتھ ساتھ عدالت میں ان کے اور ان کے معاونین کے ذریعہ مرتب کیئے گئے میڈیکل سرٹیفیکٹ عدالت میں پیش کیئے جسے عدالت نے اپنے ریکارڈ پر درج کیا۔اس معاملے کا سامنے کررہے ۷؍ میں سے۶ ؍ ملزمین نے ڈاکٹر سعید فارانی کے ذریعہ مرتب کی گئی میڈیکل رپورٹ پر اعتراض نہیں کیا اور اسے قبول کرلیا جبکہ ایک ملزم سوامی دھر دویدی کے وکیل نے ڈاکٹر سعید فارانی سے دوران جرح ان پر یہ الزام عائد کیا کہ انہوں نے این آئی اے کے دباؤ میں مریضوں کی جعلی طبی رپورٹ مرتب کی ہے نیز ان کے اسپتال میں کبھی کوئی مریض علاج کے لیئے لایا ہی نہیں گیا تھا جس پر ڈاکٹر سعید فارانی نے مسکراتے ہو ئے انہیں جواب دیا کہ ان کا یہ سوال نہایت بے بنیاد ہے ۔ آج ڈاکٹر سعید فارانی کی گواہی مکمل ہوئی جس کے بعد عدالت نے گواہی کے لیئے دیگر ڈاکٹروں کو حاضر کرنے کا استغاثہ کو حکم دیا۔دوران کارروائی عدالت میں متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علما ء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکلاء شاہد ندیم، ابھیشک پانڈے اور ڈاکٹر سعید فارانی کے معاونین ڈاکٹر الطاف اور شاہد فٹر موجود تھے ۔فوٹوں کیپشن:۔ ممبئی سیشن عدالت میں گواہی دین کے بعد ڈاکٹر سعید فارانی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم دیکھے جاسکتے ہیں۔