تلنگانہ اسمبلی انتخابات کیلئے آج پولنگ

تلنگانہ اسمبلی انتخابات کیلئے آج پولنگ

سخت مقابلہ آرائی بڑے پیمانے پر سیکوریٹی بندوبست ۱۱؍ دسمبر کو نتائج
حیدرآباد6دسمبر(یواین آئی)تلنگانہ اسمبلی انتخابات کے لئے میدان تیار ہے ۔7دسمبر کو سیاسی جماعتوں کی قسمت کا فیصلہ ووٹنگ مشینوں میں بند ہوجائے گا اور سیاسی اکھاڑے میں کون فاتح بن کر ابھرے گا اس بات کافیصلہ 11دسمبر کو ووٹوں کی گنتی کے دن ہوگا ۔ایک طرف جہاں اپنے اقتدا ر کو بچانے کے لئے حکمران جماعت ٹی آرایس ہے تو دوسری طرف اصل اپوزیشن کانگریس کی زیرقیادت تلگودیشم ، تلنگانہ جناسمیتی اور سی پی آئی پر مشتمل عوامی محاذ انتخابی میدان میں ہے۔بی جے پی اور دیگر جماعتوں پر مشتمل بہوجن لفٹ فرنٹ بھی انتخابی اکھاڑے میں ہے۔یہ انتخابات ، سیاسی جماعتوں کے لئے اپنے تسلط کی لڑائی بن گئے ہیں۔ملک کی 29ویں ریاست تلنگانہ جس کے قیام کے بعد پہلی مرتبہ نئی ریاست میں انتخابات ہونے جارہے ہیں،کے رائے دہندے ایک نئی تاریخ رقم کرسکتے ہیں کیونکہ ان انتخابات میں بڑے ہی سخت مقابلہ کا امکان ہے۔تلنگانہ میں بی جے پی تیسری متبادل طاقت ضرور ہے تاہم اس کی طاقت چندحلقوں تک ہی محدود ہے۔کل 119حلقوں کے 1821امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ 2.80کروڑ رائے دہندے کریں گے۔ٹی آرایس ترقی اور فلاحی اسکیمات کی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لے رہی ہے ۔اس نے انتخابی تشہیری مہم میں تلنگانہ عزت نفس کا بھی نعرہ لگایا ہے۔ٹی آرایس کو عوامی اتحاد سے سخت مقابلہ درپیش ہے ۔ان انتخابات میں کانگریس اور تلگودیشم میں نئی دوستی دیکھنے کو ملی۔تلگودیشم پارٹی جس کا قیام کانگریس کے خلا ف عمل میں آیا تھا نے اس پارٹی کے خلاف اپنی 37سالہ مخالفت کو ختم کرتے ہوئے اس سے ہاتھ ملا لیا۔کانگریس 94حلقوں پر انتخابات کا سامنا کر رہی ہے۔اے پی کے وزیراعلی چندرابابونائیڈو کی تلگودیشم پارٹی 13حلقوں پر مقابلہ کر رہی ہے ۔توقع ہے کہ اس اتحا د کا نتیجہ قومی سطح پر مخالف بی جے پی محاذ بنانے کے سلسلہ میں چندرابابو نائیڈو کی مساعی کا امتحان ہوگا۔جنوبی ہند کی اس ریاست کے لئے یہ انتخابات کافی اہمیت کے حامل ہیں، ان انتخابات کے نتائج کا اثر قومی سیاست پر پڑنے کا امکان ہے۔ انتخابی دوڑ میں جملہ 1821 امیدوار شامل ہیں جب کہ حیدرآباد کے حلقے ملکاجگری میں سب سے زیادہ 42 امیدواراور ضلع کاما ریڈی کے حلقہ بانسواڑہ میں سب سے کم 6 امیدوار مقابلہ کر رہے ہیں۔