پھر بنے گی بابری مسجد، پھر بنے گا ہندوستان

پھر بنے گی بابری مسجد، پھر بنے گا ہندوستان

بابری مسجد کی تعمیر نو کےلیے ایس ڈی پی آئی سمیت متعدد ملی وسماجی تنظیموں کا جنترمنتر پراحتجاج

نئی دہلی ۔۶؍دسمبر: ( پریس ریلیز)۔ بابری مسجد کی شہادت کی 26ویں برسی پر سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ، نئی دہلی شاخ نے نئی دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ پر ’پھر بنے گی بابری مسجد، پھر بنے گا ہندوستان‘ کے نعرے کے ساتھ بابری مسجدکو دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کرنے کے مطالبے کو لیکر ایک زبردست احتجاجی دھرنا منعقد کیا ۔ ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری محمد شفیع نےکہا کہ آزاد ہندوستان میں دو عظیم سانحے پیش آئے تھے جس میں ایک گاندھی جی کاقتل ہے اور دوسرا بابری مسجد کا انہدام ہے۔ بابری مسجد کی تعمیر نوسے ہی ملک کی آئین کی حفاظت ہوگی۔ احتجاجی مظاہرے میں” لبراہن کمیشن لاگو کرو ” اورـ” بابری مسجد منہدم کرنے کے ذمہ دار مجرموں کو سزا دو “کے نعرے لگائے گئے۔اس احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے قومی صدر ایم کے فیضی نے کہا کہ بابری مسجد کی تعمیر نو سے ہی ہندوستانی جمہوریت اور سیکولرزم اور عدلیہ کی عظمت برقرار ہوسکتی ہے۔آج ملک کی کئی سیکولر پارٹیاں ہندو ووٹ بٹورنے کے لالچ میں بابری مسجد معاملہ پر اپنی مجرمانہ خاموشی توڑنے کو تیار نہیں ہیں، اس سے واضح طور پر ان سیکولر پارٹیوں پر بھی ہندوتوا کا اثر پڑتا نظر آ رہا ہے۔ایسی صورت میں ایس ڈی پی آئی کا یقین ہے کہ اگر ملک کو فاشزم سے محفوظ رکھنا ہے تو بابری مسجد کی تعمیر نو ناگزیر ہے اور تبھی ملک اپنے آئینی اقدار کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے۔ ہم ملک کے تمام ذمہ دار باشندگان سے اپیل کرتے ہیں کہ ہماری اس تشویش اور فکر کو گھر گھر تک پہنچایا جائے جس سے ملک کے سیکولر عوام میں ’’آزاد ہندوستان‘‘ کے وجود کو جمہوریت اور سیکولرزم کے تحت قائم ، دائم و تابندہ رکھنے کا عزم پیدا ہوسکے۔Rehabانڈیا فائونڈیشن کے چیئرمین ای ایم عبدالرحمن نے کہا کہ 1992میں بابری مسجد کی شہادت کے اسی د اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا رائونے ملک کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ بابری مسجد کو اسی جگہ دوبارہ تعمیرکرکے دیا جائے گا۔ لیکن آج بابری مسجد کے 26سال گذر جانے کے بعد بھی بابری مسجد معاملے میں اس ملک کے سب سے بڑی اقلیتی طبقے کو انصاف نہیں ملا ہے۔ آر ایس ایس، بجرنگ دل، وشوا ہندو پریشد، شیو سینا جیسی ہندو توا طاقتیں متنازعہ مقام پر مندر تعمیر کرنے کیلئے عوام کو بھڑکا رہی ہیں لیکن دوسری طرف مسلمان اس ملک کے عدلیہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے عدلیہ کے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں۔سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ بابری مسجد منہدم کرنے کیلئے بھیڑ کو اکسانے والے ایل کے اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی جیسے مجرموں کو ابھی تک سزا بھی نہیں دی گئی ہے۔ ایس ڈی پی آئی نے اس سے قبل منڈی ہائوس سے جنتر منتر تک مارچ کیا۔ اس کے علاوہ سی پی آئی، جماعت اسلامی ہند، پاپولر فرنٹ آف انڈیا، آل انڈیا مجلس مشاورت، لوک راج سنگھٹن، جن سمان پارٹی، ویلفیئر پارٹی، مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا، وویمن انڈیا موومنٹ سمیت متعدد ملی وسماجی تنظیموں نے احتجاج میں حصہ لیا۔ احتجاج میں بنداکرات بھی شامل تھیں۔ احتجاجی مظاہرے میں ایس ڈی پی آئی کے قومی نائب صدر دہلان باقوی،آر پی پانڈیا،قومی سکریٹریان الفانسو فرانکو،محترمہ یاسمین فاروقی، سیتارام کھوئیوال،ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی، پارٹی قومی خازن اڈوکیٹ ساجد صدیقی،ویمن انڈیا موئومنٹ(WIM) کی قومی صدر محترمہ مہرالنساء خان،پارٹی قومی ورکنگ کمیٹی رکن پروفیسر کویا، پاپولرفرنٹ آف انڈیا کے قومی جنرل سکریٹری محمد علی جناح،پاپولرفرنٹ نئی دہلی صوبائی صدر پرویز احمد ، ایس اے ایچ آر ڈی سی کے ایگزکیوٹیو ڈائرکٹر روی نائر، جن سماج پارٹی کے صدر ایڈوکیٹ اشوک بھارتی، لوک راج سنگٹھن کے صدر ایس راگھون، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد اور سکریٹری جنرل مجتبیٰ فاروق،، ایڈوکیٹ این ڈی پنچولی اور ایڈوکیٹ اے سی مائیکل نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ کچھ صوبوں میں اسمبلی انتخابات اور ۲۰۱۹ کے عام انتخابات کے پیش نظر بی جے پی نے فرقہ واریت کا گندہ کارڈ کھیلنا شروع کر دیا ہے تاکہ مرکزی حکومت کی ناکامیوں ، بدعنوانیوں اور حکومت کی کارپوریٹ نوازی کو چھپانے کیلئے عوام کی آنکھوں پر فرقہ واریت کا پردہ ڈال دیا جائے ، ہندوتوا ماسٹر مائنڈ اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ عوامی توجہ کو جذباتی مذہبی ہیجان پیدا کر کے ہی انہیں ایک بار پھر بہکایا جا سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سنگھ پریوار اچانک رام مندر کی تعمیر کو لے کر زوروشور سے عوام کو گمراہ کرنے میں اپنی تمام طاقت جھونک رہاہے۔ مذہب اور رام مندر کی تعمیر کے نام پر ملک میں نفرت کا بازار گرم کیا جا رہا ہے ۔بابری مسجد ۱۵۲۸ء میں تعمیر ہوئی تھی اور تبھی سے مسلمان اس مسجد میں نماز ادا کرتے چلے آ رہے تھے،جب تک کہ کچھ شرپسند جنونیوں کے ذریعہ ۲۲؍دسمبر ۱۹۴۹ کی رات میں بابری مسجد میں رام کی مورتیاں رکھوا کر مسلمانوں کو وہاں نماز پڑھنے سے جبراً روک دیا گیا اور بالآخر ۱۹۹۲ء میں ۶؍دسمبر کو سنگھ پریوار نے اپنے منصوبے کے تحت بابری مسجد کو مسمار کر ڈالا۔ بابری مسجد کا انہدام صرف مسلمانوں کی ایک عبادت گاہ کی مسماری نہیں تھی بلکہ ملک کے آئین کا بھی قتل تھا ۔