شعر و ادبشعروادب

قائد و رہبر تھا جو اسرار وہ جاتا رہا

حضرت مولانا اسرارالحق صاحب قاسمی رحمہ اللہ تعالیٰ کے انتقال پُر ملال پر تعزیتی نظم احباب کی خدمت میں پیش ہے

بتاریخ 7 دسمبر 2018 بروز جمعہ

از قلم محمد رحیق حنفی سیتاپوری

متعلم دارالعلوم دیوبند

 

قائد و رہبر تھا جو اسرار وہ جاتا رہا

قوم و ملت کا تھا جو غمخوار وہ جاتا رہا

 

نازِشِ اہلِ سیاست، پیکرِ علم و عمل

قوم و ملت کو تھا جس سے پیار وہ جاتا رہا

 

جانثاری سے پیامِ امن و دیں دیتا تھا جو

عالمِ دیں، غازئ کردار وہ جاتا رہا

 

اپنی تحریروں سے تقریروں سے ملت کو سدا

دے کے راہِ حق کا اک معیار وہ جاتا رہا

 

رکنیت حاصل تھی شوریٰ کی اسے دیوبند میں

تھا جو سب کا فخر اور پندار وہ جاتا رہا

 

بے کسوں کے کام آنا مَنْشۂ اسرار تھا

ہم کو دے کر جذبۂ ایثار وہ جاتا رہا

 

ہرکسی کےرنج و غم،دکھ میں جو رہتاتھا شریک

آج سب کا مُونس و دلدار وہ جاتا رہا

 

آج ہیں مغموم سارے رحلتِ اسرار پر

تھا جو ہر اک قوم کا سالار وہ جاتا رہا

 

ہر کسی سے جو بلا تفریقِ مذہب تھا ملا

آج وحدت کا علمبردار وہ جاتا رہا

 

یاد رکھیں گے سبھی اہلِ وطن خدمات کو

چھوڑ کر اپنا حسیں کردار وہ جاتا رہا

 

فرقتِ اسرارِ حق پر صبر کیسے ہو رحیق

ہم سبھی کو کر کے محوِ زار وہ جاتا رہا

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker