Baseerat Online News Portal

ایگزٹ پول: نتائج خوش کن بھی اور تشویشناک بھی! 

شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
راجستھان، ایم پی اور چھتیس گڑھ کی اسمبلیوں کے الیکشن میں پانچ ’ایگزٹ پولوں‘ نے بی جے پی کی ’درگت‘ کی جو خبر دی ہے وہ خوش کن تو ہے لیکن تشویش میں ڈالنے والی بھی ہے۔  خوش کن تو اس لیے ہے کہ بی جے پی نے اس ملک میں، ایک کے بعد ایک مختلف ریاستوں پر قبضے کرکے اپنی طاقت کچھ اس طرح بڑھائی ہے کہ دوسرے اس کے سامنے بونے بن گئے ہیں، اور یہ جو ’بے پناہ طاقت‘ ہے اس نے بی جے پی کو جمہوری قدروں سے، سیکولرازم پر عمل سے اور آئین کی قدر کرنے سے ’روک‘ دیا ہے۔ لہذا ملک ایک ایسی سمت بڑھتا چلا جارہا ہے جو اس کےلیے ’نقصاندہ‘ تو ہے ہی انتہائی ’مہلک‘ اور ’زہریلا‘ بھی ہے۔ کم از کم ’درگت‘ سے بی جے پی کی ’بے پناہ طاقت‘ میں کمی تو آئے گی اور وہ اپنے ز ہر کو پوری طرح سے پھیلانے میں کامیاب تو نہیں ہوسکے گی۔ یہ زہر اس ملک کی تہذیب ، سماج، ثقافت، تعلیم، روایت، بھائی چارہ اور گنگا جمنی تہذیب سب ہی کو چاٹ رہا ہے، اس لیے جب ’ایگزٹ پولوں‘ نے یہ خبر دی کہ راجستھان، ایم پی اور چھتیس گڑھ میں ، جو کہ بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستیں ہیں، کنول کا پھول کمہلانے پر ہے تو، اس پر مسرور ہونا فطری ہے۔ یہ مانا کہ بی جے پی جائے گی تو کانگریس آئے گی اور ہم سب ہی جانتے ہیں کہ آج کی کانگریس بھی بی جے پی سے کم نہیں ہے۔ اب یہی دیکھ لیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر کانگریس راہل گاندھی میں مقابلہ چل رہا ہے کہ دیکھیں کون مندروں میں سب سے زیادہ جاتا ہے اور ماتھا ٹیکتا ہے! یہ بھی مانا کہ بی جے پی کی طرح کھل کر نہ سہی پر کانگریس بہرحال فرقہ پرستی اور فرقہ پرستوں کو ہی بڑھا وادیتی ہے، اس کے باوجود بھی بی جے پی کی جگہ ہمیں کانگریس کا آنا گوارا ہے۔ گوارا اس لیے بھی ہے کہ مسلمان بہت بھٹکے، سماج وادی پارٹی، بی ایس پی، این سی پی، مجلس اتحادالمسلمین وغیرہ وغیرہ کوئی بھی پارٹی مسلمانوں کےلیے متبادل نہیں بن سکی۔ سب کے ہی ’اجلے‘ چہروں پر سے جب ’نقابیں‘ ہٹیں تو طرح طرح کے رنگ نظر آئے ، وہ رنگ جو خیر سے سیکولرازم کی علامت ہیں او رنہ ہی جمہوریت کی۔ جب کوئی نہیں تو کانگریس ہی سہی۔ ہاں تب تک ایسے متبادل کا انتظار ضروری ہے جو واقعی اس ملک کو جمہوری انداز میں لے کر چل سکے۔
بات ہورہی تھی ’خوش کن‘ خبر کی، پر اس کے ساتھ یہ بھی کہاگیا ہے کہ خبر ’تشویش میں ڈالنے والی ہے‘۔ جی! اس لیے کہ بی جے پی ہرحال میں اس ملک پر اقتدار قائم رکھناچاہتی ہے۔ راجستھان، ایم پی اور چھتیس گڑھ کی خراب کارکردگی سے وہ نئے نئے حیلے اور بہانے ووٹروں کو رجھانے کےلیے گڑھ سکتی ہے اور یقیناً گڑھے گی۔ یہ حیلے، بہانے اور طریقے اقلیت بالخصوص مسلم اقلیت کے لیے ضرر رساں ہوسکتے ہیں۔ فسادات کی آگ بھڑکائی جاسکتی ہے، لوٹ پاٹ کا بازار گرم کیاجاسکتا ہے۔ بھائی چارہ اگر کہیں نظر آتا ہے تو وہاں دراڑ ڈالنے اور خلیج حائل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ لہذا ۲۰۱۹ کے الیکشن تک بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ احتیاط کی، صبر کی اور اشتعال دلائے جانے کے باوجود ضبط سے کام لینے کی۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like