جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

تو کیا ۲۰۱۹ میں مودی پر کانگریس بازی مارلے گی؟ 

ملک کی پانچ ریاستوں کے اسمبلی الیکشن کے ایگزٹ پول نتائج کا تجزیہ
شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
راجستھان میں بی جے پی غرق ہو رہی ہے…..
ایم پی اورچھتیس گڑھ میں بی جے پی کے لیے جیت آسان نہیں ہے۔
اگر’ایگزٹ پولوں‘کی مذکورہ پیشین گوئیاں12؍دسمبر کو سچ ثابت ہوجاتی ہیں تواس کا سیدھا سا مطلب یہی نکلے گا کہ2019ء کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کی نیّاڈانواڈول ہے….اور2014ء کی تاریخی جیت کے بعدایک تاریخی ہار بی جے پی کی سمت بڑی تیزی سے بڑھتی چلی آرہی ہے۔
آخروہ کیا وجوہات ہیں جو بی جے پی کے زوال کاسبب بن رہی ہیں؟بھلا کیوں وزیر اعظم نریندرمودی کی’لہر‘دَم توڑتی جا رہی ہے؟راجستھان ،ایم پی اورچھتیس گڑھ میں ایسا کیا ہوگیا کہ بی جے پی شکست کے دہانے پر آکھڑی ہوئی ہے؟اوران سوالوں سے بھی اہم سوال کہ صرف چار ساڑھے چار سال کی مدت میں ہی بی جے پی ،مودی اور بی جے پی اورسنگھ کی اعلیٰ قیادت نے کون سے ایسے ’کارنامے‘کر دکھائے ہیں کہ ملک کی آئندہ کی حکمرانی اس کے ہاتھ سے جاتی نظرآرہی ہے،صرف چار ساڑھے چار سال کی مدت میں عروج کیسے زوال میں تبدیل ہونے کے قریب ہے؟
مذکورہ سوالوں پر غورکرنے سے قبل’ایگزٹ پولوں‘کے نتائج یا پیشین گوئیوں پر ایک نظرڈالنا ضروری ہے۔ٹائمزناؤ۔سی این ایکس،سی ووٹر،انڈیا ٹوڈے ،مائی ایکسیزاوراے بی پی نیوز،لوک نیتی،سی ایس ڈی ایس نے حالانکہ اپنے اپنے ’ایگزٹ پولوں‘میں اپنی قربت والی سیاسی جماعتوں سے اپنی’چاہت‘کا اظہار توکیا ہے لیکن ان سب ہی نے صاف صا ف یہ پیشین گوئی کی ہے کہ راجستھان میں وسندھرا راجے سندھیا کی بی جے پی سرکا رکابیڑا غرق ہورہاہے،وہاں کانگریس کی حکومت بن رہی ہے۔انہوں نے یہ بھی پیشین گوئی کی ہے کہ ایم پی یعنی شیوراج سنگھ چوہان کی حکومت والی ریاست میں بھی بی جے پی مشکل میں ہے،وہاں بھی کانگریس پہلے کے مقابلے کافی فائدے میں ہے۔اوراسی طرح سے چھتیس گڑھ میں بھی بی جے پی کی سرکار کے لیے پریشانیاں ہی پریشانیاں ہیں اوروہاں بھی کانگریس کوپہلے کے مقابلے زیادہ سیٹیں مل رہی ہیں۔باالفاظ دیگر یہ کہ ایم پی اورچھتیس گڑھ میں بی جے پی کے لیے حکومت سازی آسان نہیں ہوگی ۔ممکن ہے کہ دونوں ہی جگہوں پر کانگریس برسراقتدار آجائے یا دونو ںہی اسمبلیاں معلق ہو جائیں۔’ایگزٹ پولوں‘میں تلنگانہ اورمیزورم کے بارے میں بھی پیشین گوئیاں کی گئی ہیںجوملک کے آج کے سیاسی پس منظر میں اہم توہیں لیکن اتنی اہم نہیں جتنی کہ’راجستھان‘ایم پی اورچھیس گڑھ کی پیشین گوئیاں…. میزورم میں کانگریس کی حکومت بن سکتی ہےحالانکہ ایم این ایف کو اس کے مقابلے دو سیٹیں زیادہ مل رہی ہے۔میزورم میں کانگریس کے کھاتے میں اگر16سیٹیں جارہی ہیں توایم این ایف کے کھاتے میں18لیکن 6سیٹیں ’دیگر‘کو بھی مل رہی ہیں۔یہ ’دیگر‘جس طر ف جائیں گے سرکاراسی کی بنے گی ۔چونکہ بی جے پی کو میزورم میں ایک بھی سیٹ نہیں مل رہی ہے اس لیے اندازہ ہے کہ وہ حکومت سازی کے’تماشے‘سے دورہی رہے گی۔سیاسی پنڈتوں کایہ ماننا ہے کہ ’دیگر‘کی مد دسے میزورم میں کانگریس کی حکومت بننے کا زیادہ امکان ہے۔رہی بات تلنگانہ کی توحالانکہ صدرکانگریس راہل گاندھی نے بڑی محنت کی‘تیلگودیشم پارٹی(ٹی ڈی پی)کے ساتھ انہوں نے اتحاد کیا،آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرابابونائیڈو ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے۔کانگریس اورٹی ڈی پی نے ’مسلم ووٹوں‘میں بھی سیندھ لگانے کے لیے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اوراویسی برادران پر زبردست نکتہ چینیاں کیں،ہندوووٹوں کے لیے راہل گاندھی نے مندروں میں جا کر خوب ماتھے بھی ٹیکے لیکن تیلگوراشٹریہ سمیتی(ٹی آرایس)اورتلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندرشیکھر راؤکوبہت زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکے۔تلنگانہ اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے60سیٹیں لازمی ہیں،ٹی آرایس 68سیٹوں پر جیت رہی ہے۔سات پر’دیگر‘کامیاب ہو رہے ہیں ‘کانگریس کو 39 سیٹیں مل رہی ہیں۔اگرکانگریس دیگر کی سات سیٹیں بھی اپنے ساتھ ملالیتی ہے توبھی اس کی سیٹیں 46ہی ہوتی ہیں،اکثریت سے کافی دور….. بی جے پی کو 6سیٹیں مل رہی ہیں۔اول توکانگریس ، بی جے پی کو ساتھ نہیں ملائے گی،دوم بی جے پی بھی کانگریس کے ساتھ نہیں جائے گی‘لیکن اگرکسی طرح دونوں کاملاپ ہو بھی گیا توبھی سیٹوں کی مجموعی تعداد 52ہی ہوگی،اکثریت آٹھ سیٹ پیچھے۔لہٰذا‘بہت ساری وعدہ خلافیوں کے باوجودتلنگانہ ایک بارپھر سے کے چندرشیکھرراؤکے ہاتھ میں جارہا ہے۔حالانکہ عوام اس حکومت سے ناراض تھے،کسانوں میں بے چینی تھی‘مسلمانوں میں بھی ناراضگی تھی کیونکہ وزیر اعلیٰ نے 12فیصدمسلم ریزرویشن کا جواعلان کیاتھا اس پر ہنوز عملدرآمدنہیں ہوسکاہے۔اویسی برادران کے خلاف بھی ایک لہر چل رہی تھی‘لیکن ان تمام وجوہات کے باوجود ووٹروں نے بشمول مسلم ووٹر ‘کانگریس اورٹی ڈی پی کے مقابلے کے چندرشیکھر راؤاوراویسی برادران پربھروسہ کرنا زیادہ بہترسمجھا۔شاید اس کی ایک وجہ کانگریس کا چندرابابونائیڈو کے ساتھ گٹھ جوڑہو،وہ ابھی کچھ پہلے تک بی جے پی کاہاتھ تھامے ہوئے تھے۔شاید لوگوں نے یہ سوچا ہو کہ چندرابابونائیڈو آئندہ پھر کبھی پالابدل سکتے ہیں۔
تلنگانہ اورمیزورم کے مقابلے راجستھان،ایم پی اورچھتیس گڑھ کے’ایگزٹ پولوں‘کی اہمیت زیادہ ہے بلکہ اگریہ کہا جائےتوزیادہ درست ہوگا کہ 2019ء کے لوک سبھا الیکشن کے تناظر میں اسمبلی کے حقیقی انتخابات مذکورہ تینوں ریاستوں میں ہی ہوئے ہیں۔تینوں جگہ بی جے پی کی سرکاریں ہیں،تینوں ہی ’ہندی بیلیٹ‘والی ریاستیں ہیں۔اوران تینوں ہی کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا رہاہے کہ یہاں سے کبھی بھی کوئی طاقت بی جے پی کو ہٹانہیں سکتی ہے۔ایم پی اسمبلی میں بی جے پی کو2013میں165سیٹوںپر کامیابی ملی تھی‘کانگریس کے کھاتے میں58سیٹیں آئی تھیں۔’ایگزٹ پولوں‘کے مطابق اس بار کانگریس کی سیٹیں دوگنی ہو رہی ہیں۔سوائے ’ٹائمزناؤ۔سی این ایکس‘کے،جس نے بی جے پی کو 126اورکانگریس کو89 سیٹیں دی ہیں،باقی کے چار’ایگزٹ پولوں‘میں کانگریس،بی جے پی سے آگے ہے۔سی ووٹر نے بی جے پی کو صرف98سیٹیں دی ہیں اورکانگریس کو118،اے بی پی اورٹوڈیزچانکیہ کے ’ایگزٹ پولوں‘میں کانگریس کوبالترتیب 126اور125سیٹیں مل رہی ہیں۔اگریہ پیشین گوئی سچ ثابت ہوتی ہے توکانگریس ملک کے منظرنامے پر ایک بڑی سیاسی طاقت کے طورپر ابھرے گی۔راجستھان میں تمام ’ایگزٹ پولوں‘نے اسے کامیاب بتایاہے۔اسے فی الحال وہاں21سیٹیں حاصل تھیں جس میں تین گنااضافہ ہورہاہے!چھتیس گڑھ میں اس کے پاس39سیٹیں تھیں اس میں تقریباً20سیٹوں کااضافہ ہو رہاہے۔تلنگانہ میں بھی اس کی چند سیٹیں بڑھ رہی ہیں۔لہٰذا اگریہ کہاجائے کہ راہل گاندھی کی قیادت میں جنہیں کہ بی جے پی اورمودی’پپّو‘کہا کرتے ہیں،کانگریس ایک لمبی جست لگانے کے قریب ہے‘توغلط نہیں ہوگا۔اب سوال یہ ہے کہ بی جے پی نے2014ء میں جو عروج پایاتھا چند برسوں کے اندرہی کیسے وہ زوال پذیرہوگیا ؟مودی کی’لہر‘کیسے دم توڑنے لگی؟
مذکورہ سوالوں کے جواب مشکل نہیں ہیں
مودی سرکا رنے جو شروعات کی تھی وہ مثبت بنیادو ں پر تھی’سب کا ساتھ سب کاوکاس ‘ کانعرہ بڑا دلکش تھا‘یہ امید بندھی تھی کہ مودی ذات پات،دھرم اورمذہب کی سیاست کوٹھکانے لگا کر ملک کو ترقی کی اس چوٹی پر پہنچا دیں گے جس کا اب تک صرف تصورہی کیا جاتاتھا۔مودی کی2014کی کامیابی کی وجوہات پر اگرنظرڈالی جائے تویہ اندازہ لگا نے میں مشکل نہیں ہوگی کہ انہیں’وکاس‘کے نام پر ووٹ ملے تھے۔ذات پات اوردھرم ومذہب کے نام پر نہیں۔اس وقت بابری مسجدبی جے پی کے ایجنڈے میں نہیں تھی‘اس وقت’گھر واپسی‘اور’گئورکشک‘کے’آتنک وادی‘سرگرم نہیں تھے۔مسلمانوں کو بھی یہ لگ رہا تھا کہ مودی2002كے گجرات کے بھوت سے نجات چاہتے ہیں‘اسی لیے انہوں نے پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو بھی اپنی’تاج پوشی‘میں مدعوکیاہے۔اسی لیے انہوں نے جمہوریت کی‘سیکولرازم کی اورآئین کی باتیں کی ہیں۔نوجوان ووٹروں کی ایک بہت بڑی تعداد نے مودی کے ’وعدوں‘پرانہیں ووٹ دئیے تھے۔وہ سب کانگریس اوراس کے’گھوٹالوں‘و’گھپلوں‘سے نالاں تھے۔وہ سب اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کی’چپّی‘پرحیران تھے۔ان کے لیے بی جے پی ایک متبادل تھی‘لیکن ہوا یہ کہ بی جے پی متبادل بننے کی بجائے کانگریس ہی کے نقش قدم پرچلنے لگی۔وزیر اعظم نریندرمودی نے منموہن سنگھ کی تقلید میں’خاموش‘رہناسیکھ لیا۔گھپلے اورگھوٹالے سامنے آنے لگے…..اوریرقانی آتنک وادی سارے ملک میں سرگرم ہوگئے۔’وکاس‘کا نعرہ کہیں پیچھے چھوٹ گیا،مذہب ،دھرم اورذا ت پات کی سیاست واپس لوٹ آئی۔’گھرواپسی‘پر زوردینے والے عناصربے لگام ہوگئے۔گئو رکشکوں کی دہشت گردی اتنی بڑھ گئی کہ پولس افسران اس کی زدمیں آنے لگے۔بلندشہرمیں ایک پولس افسرمارا گیا۔بابری مسجدکے نام پر پھر سے کشیدگی اورتشددکی ’لہر‘اٹھنے لگی۔غرضیکہ مودی کی وہ سرکار جس نے’سب کا ساتھ سب کاوکاس‘کانعرہ لگایاتھا انتہائی فرقہ پرست اورمتعصب روپ میں سامنے آگئی’وکاس‘کی جگہ’وناش‘نے لے لی اور’سب کاساتھ‘کی جگہ ’ہندوتوادیوں کا ساتھ ‘نے لے لی۔کسان مرتے رہے،نوجوان بے روزگاری کاعذاب جھیلتے رہے۔مہنگائی بڑھتی رہی۔نوٹ بندی کی مارشہریوں پرپڑی۔جی ایس ٹی کے کھیل نے لوگوں کی معاشی طورپرکمرتوڑدی۔چھوٹی بڑی فیکٹریاں بند ہوئیں،گھریلو کارخانے بند ہوئے،بڑی کمپنیوں نے لوگوں کو ملازمتیں دینے سے انکار کردیا۔ظاہر ہے کہ ایسے میں’ڈائن مہنگائی‘سب کومارتی رہی‘اوراب بھی ماررہی ہے۔راجستھان میں یہی ہوا‘ایم پی میںیہی ہوا اورچھتیس گڑھ بلکہ پورے ملک میں یہی ہوا اوریہی ہو رہاہے۔ایک جانب توملک ’زوال پذیر‘ہے اوردوسری جانب مودی کے ہوائی سفر معمول بن گئے ہیں۔سیاست دانوں کی چاندی ہے۔رافیل کابھوت بھگانے کے لیے’ایودھیا‘کے نام پر ’ہون‘جاری ہے۔ظاہر ہے کہ عوام’بے وقوف سہی‘پر اتنی بے وقوف نہیں ہے کہ پھندے میں بار بارپھنستی رہے۔’ایگزٹ پولوں‘نے مستقبل کی تصویر دکھا دی ہے۔مودی کی یہ حکومت 2019ء میں شکست کھاسکتی ہے۔کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ’ایگزٹ پولوں‘پر اتنا بھروسہ نہیں کیاجاسکتا‘اوریہ سچ بھی ہے،ممکن ہے یہ پیشین گوئیاں حرف بحرف درست نہ ثابت ہوں لیکن اتنا توطے ہے کہ بی جے پی کی پیش قدمی میں ایک روکاوٹ آگئی ہے۔آئندہ کے لوک سبھا الیکشن میں مکمل نہ سہی پر نصف سیٹیں توبی جے پی کے ہاتھ سے نکل ہی سکتی ہیں …..اوریہی اس کی ہار کے لیے کافی ہے۔
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker