جہان بصیرتحق گوئیمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

بلند شہر میں گئو رکشک دہشت گردوں کی دہشت گردی

نازش ہما قاسمی
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ محترمہ سشما سوراج نے پاکستان پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ” ہم نے ملک کو ترقی و روزگار دیا، سائنس داں پیدا کئے ہیں؛ جبکہ پڑوسی ملک پاکستان نے دہشت گردی کو فروغ دیاہے”۔ محترمہ سشما سوراج کی اس بات کو کسی حد تک سچ مانا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کو فروغ دیا ہے اور ہندوستان نے ملک کو سائنسداں دئے ہیں؛ لیکن محترمہ کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ سائنسداں تو کانگریس نے دئے ہیں ہم نے اپنے ساڑھے چار سالہ دور اقتدار میں پاکستان ہی کی طرح ملک میں دہشت گردی کو فروغ دیا ہے اور گئو رکشک دہشت گرد پیدا کیے ہیں، گائے کے نام پر انسانوں کا خون کرنا آسان کردیا ہے، گائے کے نام پر مارنے والوں کو اعزاز واکرام سے نوازا ہے، ان کی ہمت افزائی کی ہے۔ اگر محترمہ یہ باتیں کہتیں تو سچ ہوتا کیونکہ آج پاکستان اور ہندوستان دونوں دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں؛ لیکن دونوں کی دہشت گردی میں تھوڑا فرق ہے، پاکستان اقدام کرتا ہے اور ہندوستان دفاع، پاکستان دراندازی کرتا ہے اور ہندوستان دراندازی کو روکنے کی کوشش کرتا ہے؛ لیکن اپنے ہی ملک میں اپنے ہی شہریوں کی گئو رکشک دہشت گردوں کے ذریعے مارے جانے والی اقلیت کی نہ تو دادرسی کرتا ہے اور نہ ہی ان پر ہورہے مظالم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اور نہ ہی روکنے کی کوشش کرتا ہے۔گئو رکشک دہشت گردوں کی دادری کے اخلاق سے شروع ہونے والا دہشت گردی کایہ سلسلہ جنید، علیم، پہلو اور اکبر خان سے ہوتے ہوئے اب پولس انسپکٹر سبودھ کمار تک پہنچ گیا ہے اگر ان دہشت گردوں پر اب بھی لگام نہ کسی گئی تو دیکھئے کتنے سبودھ کمار بھینٹ چڑھتے ہیں۔
۳دسمبر کا دن تھا بلند شہرمیں لاکھوں کی تعداد میں مسلمان جمع تھے، اجتماع کا آخری دن ہے پلاننگ کے تحت سینکڑوں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کی سازش کی جاچکی تھی، گئو رکشک دہشت گرد صبح دس بجے کے قریب انفارم کرتے ہیں کہ وہاں گئو کشی کی گئی ہے اس کے بعد خود ہی قانون ہاتھ میں لے کر احتجاج کرتے ہوئے سیانہ پولس اسٹیشن کے قریب آگئے اور اپنے احتجاج میں شدت لاتے ہوئے لاء اینڈ آرڈر کو سبوتاز کرتے ہوئے پولس پر پتھراو کردیا اور اسے مجبور کرنے لگے کہ ہمیں ادھر کا رخ کرنے دیا جائے جہاں مسلمان بڑی تعداد میں موجود ہیں؛ لیکن قربان جاؤں کرکرے صفت جری و باہمت پولس انسپکٹر سبودھ کمار پر کہ انہوں نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے اور بھیڑ کو ادھر کے رخ سے بچانے کے لیے خود کی بلی چڑھادی، اگر پولس اس وقت اس پر کنٹرول نہیں کرتی اور بھیڑ ادھر کا رخ کرلیتی جیسا کہ ان کی پلاننگ تھی تو آج ہم لاشوں کی تعداد گن رہے ہوتے، مائیں بے تحاشہ چیخ رہی ہوتیں، بہنیں اجتماع گاہ میں گئے بھائیوں کا انتظار کرتی رہ جاتیں؛ لیکن بھائی نہیں آپاتے، وہ فرقہ پرستی کی بھینٹ چڑھ چکے ہوتے؛ لیکن پولس انسپکٹر سبودھ کمار نے اپنی جان قربان کر کے نفرت کے سوداگروں کو منہ توڑ جواب دے دیا۔ اسی پر بس نہیں ہوا، فرقہ پرست اور دہشت گردی کو فروغ دینے والے چینلوں نے نفرت انگیز و اشتعال انگیز سرخیاں لگا کر سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار گرم کیا؛ تاکہ وہ کام جو گئو رکشک دہشت گردوں سے انسپکٹر سبودھ کمار کی موت کے بعد معلق ہوگئے اس افواہ پر کھڑے ہوکر موت کا تانڈو کریں، لاشوں کے انبار لگائیں، کشت و خون کی ندیاں بہائیں؛ لیکن ان افواہ بازوں کو بھی ہزیمت سے دو چار ہونا پڑا جب پولس نے خود اس بات کا نوٹس لیتے ہوئے افواہ پھیلانے والوں پر لگام کسی اور بروقت ان کا جواب دیا- ویسے سوچنے کی بات ہے کہ نفرت کا بیج اب تناور درخت بن گیا ہے سبودھ کمار کی موت اس بات پر مشیر ہے کہ نفرت کے سوداگروں کے بیچ اب جو بھی حائل ہوگا اسے ٹھکانے لگا دیا جائے گا، سبودھ کمار کی غلطی یہ تھی کہ وہ اخلاق کے دادری کیس کی منصفانہ چھان بھی کررہے تھے جیسا کہ مارتے وقت کی وائرل ویڈیو سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے جب مارنے والے دہشت گرد کہتے ہیں یہ وہی ہے جو دادری والا کیس دیکھ رہا تھا – مطلب یہ ہے کہ اب ایماندار پولس افسر بھی نہیں بچیں گے، اے ٹی ایس چیف شہید ہیمنت کرکرے کی طرح پولس انسپکٹر سبودھ کمار کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور یہ سب منظم پلاننگ کے تحت تھا، سوشل میڈیا پر وائرل میسج کہ ہندو دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے ایک دن پہلے ہی خفیہ میٹنگ کا انعقاد کیا گیا تھا اور یہ خونی کھیل کھیلنے کا پلان کیا گیا۔
اس خونی پلاننگ کی تصدیق ڈی جی پی اوپی سنگھ نے بھی کی ہے انہوں نے کھلے لفظوں میں کہا ہے کہ میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ “یہ سب نظام قانون کے تحت نہیں ہے؛ بلکہ اس کے پیچھے منظم سازش تھی” – اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس سازش کا پردہ فاش ہوگا یا سیاسی آقاوں کے دباو میں آکر سبودھ کمار کی موت کاالزام کسی اور کے سر تھوپ کر اصل مجرم کو بچالیا جائے گا۔ امید تو اچھی نہیں ہے، فی الحال اترپردیش کے جو وزیر اعلیٰ ہیں وہ بھی کبھی ان ہی تنظیموں کے رکن رہے ہیں اور ہیں جو ملک میں نفرت پھیلا رہی ہیں- ہندو یوا واہنی، بجرنگ دل، آر ایس ایس، سناتن سنستھا ابھینو بھارت وغیرہ کیا یہ سب قانون سے بالا تر ہیں ساڑھے چار سال کے دوران ان کے ذریعے اتنے خون خرابہ کیے جانے کے باوجود اب تک ان پر کوئی کارروائی کیوں نہیں؟ اگر یہی کوئی مسلم تنظیم ہوتی تو اس کا مسئلہ ہی کچھ اور ہوتا لیکن ان دہشت گردوں پر کوئی لگام نہیں لگاتا، کیا ملک کے سیکولرازم پسند عوام یہ سمجھ لیں کہ آئین و قوانین کی کھلے عام دھجیاں اڑانے والوں کو اس لیے چھوٹ دی جارہی ہے کہ انہیں استعمال کرکے عظیم ہندوراشٹر کی راہ ہموارکرنا ہے اور یہ بتانا ہے کہ ہم اتنے جری و بہادر ہوچکے ہیں جن کے نزدیک نہ آئین کا کوئی پاس ہے نہ عدالت کا لحاظ۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker