شخصیاتمضامین ومقالات

آہ! حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی رحمۃ اللہ علیہ

جمشید جوہر

غالباً دو دہائی قبل کی بات ہے وطنِ عزیز کی راجدھانی کا مشہور علاقہ نبی کریم دھلی میں ایک سیرت کے جلسے میں احقر مدعو تھا

محترم مولانا مہدی حسن قاسمی صاحب نیپالی مصنف طریقہءنظامت جلسے کی نظامت کے فرائض انجام دے رہے تھے. پروگرام کا آغاز ہوچکا تھا، تلاوت قرآنِ کریم کے بعد ناچيز کو دعوت نعت خوانی دی گئی

مجھے اچھی طرح یاد ہے ان دنوں میرا تازه لکھا ہوا کلام مسدس جس کے بول تھے ورفعنا لک ذکرک مرا مولا بولے زبان زد خاص وعام تھا اور خوب پسند کیا جا رہا تھا،

چنانچہ میں نے اسی کلام سے اپنی حاْضری درج کرانا مناسب سمجھا

اور شروع ہوگیا تھوڑی ہی دیر میں سماں بندھ گیا،

ابھی اک آدھ ہی بند پڑھا تھا کہ کسی مہمان ذی وقار کی آمد کی ہنگامی حالت ،اس پر نقیب جلسہ کی نعرہءتکبیر کی صدائیں (جو رائج ہیں )

برسر مائک خطیب یا شاعر کو کن حالتوں سے گذارتی ہیں وہ کہنے کی بات نہیں، یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا

ذہن کا سب تانا بانا بکھر کر رہ گیا

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے.

جس شخصیت کا والہانہ اور شاہانہ استقبال نعروں کے ساتھ کیا جارہا تھا وہ اب اسٹیج کے بالکل قریب آچکی تھی.

نعرے ہنوز لگ رہے تھے اور میں سوچ رہا تھا یااللہ کیا یہ آسمانی مخلوق ہے یا اسی زمین میں رہتی ہے ابھی میں اسی ادھيڑ بن میں تھا کہ نعروں ہی کے ہجوم میں ایک نعرہ بلند ہوا۔۔۔

حضرت مولانا اسرارالحق صاحبِ

معاً سامعین نےکہا زندہ باد،

تب مجھے سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ یہی مولانا اسرارلحق صاحب ہیں،جنکی ایک دنیا دیوانی ہے، جنکی مخلصانہ خدمات سے ہر دلعزیزی جیسی دولت سے بہرہ ورہیں

قوم وملت کے لۓ اپنے آپ کو مٹاۓ ہوۓ ہیں، کچھ تو ہنگامی حالت اور کچھ موصوف کی شخصیت نے مرعوب کیا،

بس میں نے مائک سے ہٹنے میں ہی عافیت سمجھی، اور پیچھے مڑکر بیٹھنے والا تھا کہ دفعتاً اپنے شانے پر کسی کا ہاتھ پڑتا محسوس ہوا، جو مڑکر دیکھا تو کوئی اور نہیں یہ ہاتھ مولانا اسرارلحق صاحبِ کا تھا جووالہانہ استقبال سے بےپروا ہوکر ازراہِ شفقت یوں گویا ہوۓ

جوہر صاحب آپ نے نعت شریف ادھوری کیوں چھوڑدی ؟

آپ بہت اچھا پڑھ رہے ہیں پڑھتے رہئے،

اللہ اکبر یہ الفاظ تھے حضرت موصوف کے ۔

کتنا پیارتھا اس بول میں، کس قدر ذرہ نوازی اور خوردنوازی تھی آپکے اندر، پھر مجھے حوصلہ ہوا، اس بار جو پڑھا تازہ دم ہوکر پڑھا پھر کتنا پڑھا یہ یاد نہیں ۔

یہ حضرت والا سے ناچيز کی پہلی ملاقات تھی، پھر اجلاس ہی کے ذریعے ملاقاتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ چل پڑا

خصوصا سیمانچل کے علاقے میں عموما ملاقات ہوتی رہتی ۔

ابھی حال ہی میں 2نومبر 2018کو بسہاری پورنیہ کے مظاہرہ قرءت کے جلسے میں حضرت سے ملاقات ہوئی کون جانتا تھا کہ یہ آخری ملاقات ہے

موصوف کی تقریر میں ایک بات میں خاص طور سے نوٹ کرتا تھا کہ حضرت کے اندر جہاں ہمہ جہت قابلیت اور مختلف النوع نسبتوں کا لاحقہ لگتا تھا وہیں ایک سیاسی لاحقہ بھی تھا باوجود اس کے کبھی کسی جلسے میں سیاسی پہلو پر تقریر کرتے نہیں سنا.

حضرت موصوف کی ذات ستودہ صفات گوناگوں صلاحیتوں کی حامل تھی آپ ایک بہترین واعظ ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے صحافی ،کالم نگار ، سیاست داں ،قدآورلیڈر ،قلندر صفت درویش ،اور سیدالقوم خادمہم کی زندہ مثال تھے ۔

آپ سے مل کر ہر ملنے والا یہ محسوس کرتا کہ میں ان کا جیسے پرانا شناسا ہوں، معاشرہ اور سماج کی خدمت کرنا آپ کی فطرت ِثانیہ بن چکا تھا.

شمالی بہار میں باڑھ کے زمانے میں سیلاب زدہ علاقے کا دورہ گھٹنوں تک پائنچااٹھاۓ کیچڑ ،دلدل اور پانی اور دونوں بازو میں سکیوریٹی گارڈز کے چلنے کا منظر واقعی اسلام کی عظمت رفتہ کی تاریخ یاد دلا دیتا ہے ۔

اب حضرت سے ملاقات تونہیں ہوگی

البتہ حضرت کا شگفتہ چہرا ضرور یاد آئیگا،

ویسے آنکھ بند کرتا ہوں تو لگتا ہے آپ حاضر ہیں.

(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker