خواتین واطفالگوشہ خواتینمضامین ومقالات

جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں !

قدسیہ صباحت
(جامعتہ البنات،حیدرآباد )
qudsiyasabahat@gmail.com
جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے،اُدھر نکلے ،اُدھر ڈوبے ،ادھر نکلے
شاعر مشرق علامہ اقبال رحمہ اللہ علیہ کے اس شعر میں جن اہل ایمان کا تذکرہ کیا گیا ہے ،وہ محض زبانی ایمان کا دعویٰ کرنے والے نہیں تھے۔یہ تو وہ اہل ایمان ہیں جنہوں نے مانند آفتاب اس دنیا میں اپنی زندگی بسر کی۔توحید رسالت و آخرت کے عقائد پر دل سے ایمان لائے۔اپنی زندگی کا ہر معاملہ اللہ کے سپرد کیا،اللہ کی محبت میں جان و مال کی قربانیاں پیش کیں،اپنوں کے لیے نرم دلی اور کفار پر سختی کے حکم پر عمل پیرا رہے،غرض کہ بیک وقت کئی صفات کے حامل قرار پائے۔یہی وہ اہل ایمان ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں متعدد جگہ کیا گیا ہے:انما المومنون الذین اذا ذکراللہ وجلت قلوبھم و اذا تلیت علیھم آیٰتہ زادتھم ایمانا وعلیٰ ربھم یتوکلون۔(سورہ انفال :2)
”ایمان والے تو وہی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے توان کے دل ڈ ر جاتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو قوی تر کردیتی ہیں اور وہ اپنے رب ہی پر توکل کرتے ہیں۔”
اسی طرح سورہ حجرات:15 میں فرمایا گیا ہے:
انماالمومنون الذین اٰمنوا با اللہ و رسولہ ثم لم یرتابوا۔”دراصل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر کسی شک میں مبتلا نہ ہوئے۔”
سورہ مومنون کی ابتدائی آیات بھی اہل ایمان کی نشاندہی کرنے کے لیے کافی ہیں جن میں نہ صرف مومنوں کو کامیابی کی نوید سنائی گئی ہے بلکہ ان کے اوصاف بھی اچھی طرح بیان کردیے گئے ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:خطاب کےبیٹے جاؤ،لوگوں میں یہ اعلان کردو کہ جنت میں صرف اہل ایمان ہی داخل ہوں گے۔(مسلم)
آخر ،وہ اہل ایمان کون ہیں ؟جنہیں فلاح وکامرانی کی خوش خبری سنائی جارہی ہے،جنہیں جنت کے اصل حقدار کہا گیا ہے ،رحمتیں اور نعمتیں جن پر نچھاور کی جارہی ہیں۔حقیقت میں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن کریم کی اس آیت کا مفہوم اچھی طرح جان لیا تھا کہ :”کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ محض یہ کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور انہیں آزمایا نہ جائے گا؟”
تاریخ کے اورا ق پلٹ کر دیکھیےتو سب سے پہلےپچھلی امتوں کے ان مومنوں پر نظر پڑے گی ، جن کو ایک اللہ پر ایمان لانے کی وجہ سے اذیتوں سے دوچار ہونا پڑا تھا ،وہ انبیاءکرام بھی دکھائی دیں گے جو ناحق اپنی قوم کی جانب سے قتل کیے گئے تھے ،وہ آگ بھی دکھائی دے گی جو ابراہیم ؑ کے لیے گلزار بن گئی تھی ،دربار فرعون میں جادوگروں کا ایمان و استقامت ،آرام و آسائش کو ٹھوکر مار جنت میں اپنے لیے مکان کی طلب کرنے والی بی بی آسیہ ،اپنے ایمان کی حفاظت کرتے اصحاب کہف اور وہ اصحاب الاخدود جو محض ایمان لانے پر آ گ میں ڈال دئیے گئے تھے ، غرض کہ اہل ا یمان کی طرف نظر کرتے کرتے آنکھیں تھک جا ئیں گی لیکن تاریخ کے اوراق کبھی ختم نہیں ہوں گے۔
ایمان انسان کے اندر اللہ کا خوف پید ا کرتا ہے ،جس انسان کے دل میں اللہ کا خوف اور اس پر یقین موجود ہوتا ہے وہ پوری دنیا سے بےخوف ہوجاتا ہے۔مکی زندگی میں بھی اہل ایمان کو کتنی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا ۔وہ کن کن ابتلاؤں سے نہیں گذرے لیکن ایمان کی طاقت نے ان کی استقامت میں تزلزل نہ آنے دیا۔
مکہ سے بے سروساماں ہوکر آئے مسلمانوں کو جب مدینے میں انصار کا ساتھ ملا تو دونوں نے مل کر اسلام کی سربلندی کا عزم کیا،پھر تاریخ بھی دیکھتی رہ گئی کہ کس طرح اللہ کے یہ مومن بندے فتح پر فتح پاتے گئے ،صرف تلواروں کے زور پر نہیں بلکہ اپنے اخلاق و کردار،ایثار و قربانی ،صبر و تحمل ،عفو در گزر ،اور اعلیٰ گفتار و اطوار کے ذریعہ انہوں نے لوگوں کے دل بھی جیت لیے۔
دنیا کی ساری طاقتیں بھی ان کے مقابلے کے لیے جمع ہوتیں ،تو ان کے لبوں پر” حسبنا اللہ ” کا ہی ورد جاری رہتا،اپنے رفقاء کی شہادت پر افسوس کرنے کی بجائے اسے ان کےلیے انعام تصور کرتے،کبھی حالات کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکتے بلکہ حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے،دشمنوں کے ہاتھوں ایمان کے سودے نہیں کرتے بلکہ ان ہاتھوں میں بھی ایمان کی شمعیں تھما دیتے ہر حال میں اپنے رب کی طرف ہی رجوع کرتے،نہ ان پر فتح کا غرور غالب آتا نہ ہی وقتی شکست انھیں پست ہمت بناتی۔یہ وہ مومن بندے تھے جو جہاں میں خورشید کی مانند جیتے تھے۔ بعد کے ادوار میں بھی دیکھتےجائیے،تاتاریوں نے جب عالم اسلام میں تباہی و بربادی کی ایک سنگین تاریخ رقم کی تو خود ان ہی میں سے چنگیز خاں کاپوتا ایمان کی آغوش میں چلا آیا،اور اسلام کے دشمن اسلام کے محافظ بن گئے۔ بوسنیا،چیچنیا،عراق و افغانستان،فلسطین و شام کے مسلمانو ں کو دیکھیے کہ کس طرح انسانیت سوز مظالم سہنے کے باوجود ایمان کو اپنے سینوں سے لگائے رکھتے ہیں،اور قدم قدم پر اللہ رب العزت انھیں فتح و نصرت سے ہمکنارکر رہا ہے۔تاریخ کے یہ تمام اوراق اس بات کا ثبوت ہیں کہ اہل ایمان کا یہ قافلہ کبھی رکنے والا نہیں ہے بلکہ تمام تر رکاوٹوں کے با وجود قافلے کا یہ سفر تا قیامت جاری رہے گا۔(انشاءاللہ)
سفر جو اپنا قدم قدم پر صعوبتوں سے بھرا ہوا ہے
مگر مبارک ہو سرفروشوں، یہی تو جنت کا راستہ ہے
عزیز قارئین!
بتائیے کیا اہل ایمان کے اس قافلے میں آج ہم بھی شریک ہیں ؟
کیا ہم بھی وہ خورشید ہیں جو ڈوب کر پھر اُبھر سکتے ہیں؟ کیا ہمارا ایمان اس حد تک پختہ ہے کہ ہم اپنے ہر معاملے میں اللہ کی مرضی کو شامل کرنا ضروری سمجھتے ہیں؟یا صرف زبانی ایمان کا دعویٰ کرنے والوں میں ہمارا شمار ہے؟کیا ہمارے اندر وہ جذبہء استقامت موجود ہے کہ اپنے ایمان کو بچانے کی خاطر ہم اپنی جان بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہوجائیں گے؟سوچیے اور غور کیجیے ! کیا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم محض ایمان لائے کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے اور ہمیں آزمایا نہ جائے گا؟حالانکہ ہم تو آزمائشوں میں صبر بھی نہیں کرتے ،ہمارا ایمان دشمنوں کے سامنے کمزور ہوجاتا ہے،اپنی عزت و شہرت کی خاطر ہم اپنے ایمان کو بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔مومنانہ صفات سے ہمارے دل خالی ہو چکے ہیں۔ ان تمام تر کوتاہیوں کا ازالہ کرنے کے لیے آئیے ،اپنے اندر ایمان کی مضبوطی قائم کریں،دنیا والوں سےخوفزدہ ہوکر گھروں میں بند ہوجانے کی بجائے ان سےمقابلہ کی ہمت پیدا کریں اور ایک حقیقی مومن بن کر اسلام کی سربلندی کا فریضہ انجام دیں کیونکہ ہمارے رب نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ” تم ہی سر بلند رہوگے اگر تم مومن ہو۔”
فضائے بدر پیدا کر ،فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
اللہ رب العزت ہم تمام کو اپنے حقیقی مومن بندوں میں شامل فرمائے۔آمین!
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker