سیرت النبیسیرت وشخصیاتمضامین ومقالات

ہم نے ہر دور میں ناموس رسالت کے لئے

محمد افروز سلیمیؔ القاسمی
اس چرخ نیلی فام کے نیجے عرش اعظم سے بھی کہیں زیادہ نازک ترین ایک مقام ’’ مقامِ ادب ‘‘ ہے ، جہاںپر حضرت جنید بغدادی ؒ جیسے عارف باللہ اور دوسری شخصیتیں بھی مارے ادب کے سانس روک لیا کرتے ہیں، اور اس بات کوبھی اپنے ذہن ودماغ میں جگہ دیجئے کہ خزانہ خداوندی کے سب سے قیمتی جوہر نایاب، کہ گلاب نے جس کے پسینے کی خوشبو چرائی ہو، بہاروں نے جن سے شادابی پائی ہو، پہاڑوں نے جن سے استقامت کی بھیک مانگی ہو، شمس وقمر نے جن سے چمکنے کا سلیقہ سیکھاہو، اور جس کی صورت وحسن کو معیار ِکمالات بناکر مصور نے دانستہ قلم توڑدیا ہو، جس کا رخ ِزیبا ایسا بے مثال آئینہ ہو، جو نہ آئینہ ساز کی دوکان میں ہواور نہ کسی کی بزم خیال میں ہو، جن کے دربار میں اونچی آواز سے بولنا بھی حبطِ اعمال کا سبب ہو، اور قرآن مقد س کی آیت ’’ لاترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ‘‘ کے ذریعہ وارننگ بھی دیدیا گیاہو، اور جس مقد س قدم پر اونٹ جیسا کینہ پرور جانور بھی فریاد ی بن کر آئے ہو،اور مارے ادب کے سرجھکادئیے ہو، تو ایسی مجمع الکمالات شخصیت کی شان میں گستاخی کر نے والا اونٹ جیسے کینہ پرور جانورسے بدترین جانور نہ ہوگاتوپھراور کیاہوگا؟
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ ؒ نے اپنی منفرد اور معرکۃ الآری کتاب ’’ علی شاتم الرسول‘‘ میں قاضی عیاض اسحاق بن راہوؒیہ و علامہ خطابی اور دیگر محقیقین کے حوالے سے نقل کیاہے کہ حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین وتابعین اور ائمہ اربعہ ؒ بلکہ پوری امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ گستاخ رسول وشاتم نبی ملعون، مرتد اور کائنات کا بد ترین غلیظ ترین کافر ہے، اور ساتھ ہی اسلامی عدالت ایسے بد بختوں کے لئے سزائے موت سناتی ہے، اورتختہ دار پر لٹکانے کا حکم دیتی ہے، ’’ اجمع العلماء ان شاتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم کافر وحکمہ عند الائمۃ القتل ومن شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ‘‘ [ حوالہ علی شاتم الرسول ] اور یہ آج سے نہیں بلکہ ۱۴۳۶ سال قبل ہی ایک عصماء نامی یہودیہ خبیثہ عورت نے توہین ِرسالت کا ارتکاب کیا تو ۲۵/ رمضان ۲؁ھ میں ایک نابینا صحابی حضرت عمر بن عدی ؓ نے اس کو کفرکردار تک پہونچاکر اپنی نذر پوری کی، ان کے اس کارنامہ کو دیکھ کر ، تاجدار ِعدالت سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ نے رشک کرتے ہوئے فرمایا : انظروا الی ھذاالاعمیٰ تسرق فی طاعۃ اللہ ، ذرا اس نابینا کو دیکھو نا، کیسے چپکے سے اللہ کی اطاعت کرگذرا، آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ؓ ! اس کو اندھا مت کہو، اس کے دل کی آنکھ بڑی تیز ہے [ حوالہ ابو دائود ] ایک سو بیس سال کاخرانٹ بڈھا ابو عفک نامی یہودی نے بدبختی کا ثبوت پیش کیا تو ماہ شوال ۲؁ھ میں حضرت سالم بن عمیر ؓ نے اس کاسر قلم کر نے کی سعادت حاصل کی، اسی طر ح غزوہ بدر سے واپسی کے وقت ماہ رمضان ۲؁ھ میں درباررسالت کے مجرم نضر بن حارث کو شیر خدا حضرت علی ؓ نے جہنم رسیدکیا، اپنے دور کے ملعون اکبر ، گستاخ رسول عقبہ بن ای معیط نے حالت نماز میں پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے پشت ِمبارکہ پر اونٹ کی اوجھڑی ڈالنے اور گلے میں چادر کے پھندے پھسانے والے کو حضرت عاصم ابن ثابت ؓ نے قتل کیا، یہودیوں کا سرغنہ ، بدنام زمانہ گساخ ِرسول کعب ابن اشرف نے جب درندہ د ہنی کامظاہر ہ کیا تو بنی اکرم صلی اللہ وسلم نے فرمایا: من قتل کعب ابن اشرف فانہ اذی اللہ ورسولہ، کعب بن اشرف کوکون قتل کرے گا؟ اس بدبخت نے اللہ اور اس کے رسول کی شان میں گستاخی کی ہے، تو حضرت محمد ابن مسلم ؓ نے اس خدمت جلیلہ کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا، چنانچہ ۱۴/ ربیع الاول ۳؁ھ میں انہوں نے اس پاپی بلکہ مہا پاپی کا سرتن سے جداکرکے اللہ کی دھرتی کو اس گندے حیوان کی گندگی سے پاک کردیا [ حوالہ بخاری شریف ] یہود ِخیبر کاخود ساختہ سردار ، خبیث النفس ، ابو رافع نے جب ناموس رسالت کی آ ہنی دیوار سے ٹکرانے کی ناکام کوششیں کی تو اس کے کالے کرتوت کی سزا سنانے کو حضرت عبداللہ بن عتیک ؓ نے۱۵/ جمادی الثانی ۳؁ھ میں اس کے پاس پیغام ِموت لے کر پہونچا اورچشم زدن میں جہنم کا راستہ دکھادیا، [ حوالہ الصارم المسلول] ۔
آج پوری شیطانی دنیا زن اور زر کاحربہ استعمال کر کے شاتمین ِرسول وگستاخانِ نبی کی ٹیم تیار کر رہی ہے، آج پورپ گستاخانِ رسول کا محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے، چنانچہ آج سے تقریباََ ۳۰ سال قبل ابلیس کے اشارے پر رقص کرنے والابدبخت سلمان رشدی بلکہ یہ کہدوں کہ شیطان رشدی نے اپنے ناپاک قلم سے ، ناپاک ہاتھوں سے ، ناپاک ذہنیت کے ساتھ ، ناپاک کاغذ پر، اورناپاک الفاظ میں ، پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اپنے دل کی گندی سیاہی سے ۵۴۷/ صفحات کو سیاہ کردیا اور ۲۶ / دسمبر ۱۹۸۸؁ء میں لندن سے اس گندی لٹریچر کی اشاعت ہوئی جو ۵۴۷ / صفحات پر مشتمل ہے، اس کتاب کانام ہی ناپاک ہے ’’ The Shatanic Verses ‘‘ یعنی شیطانی آیات، کتاب کا نام ہی بتا رہاہے کہ اس کے تیار کردہ واقعی شیطان لعین کانہایت وفادار شاگرد ہے، کیوں کہ بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کی اہانت کر نا شیطانی ٹریننگ کے بغیر ہوہی نہیں سکتا، آج وہ کمینہ لندن کی سرزمین پر یہودیوں کے ٹکڑوں پر پل رہا ہے، مگر ہم تو افسوس کررہے ہیں ، ۵۱ مسلم ممالک کی بے حسی پر ، اور ماتم کررہے ہیں ان کی ضعفِ ایماں پر کہ کم وبیش ڈیڑھ ارب کی مسلم آبادی اس شیطان ملعون کو سزا دینے سے قاصر ہے، لیکن سلمان رشدی مردود، وتسلیمہ نسرین جیسی بے غیرت خاتون اور وقت کے ہر کملیش تیواری کو میں وارننگ دیتا ہوں کہ اللہ اپنے نبی کے بارے میں بڑا ہی غیور ہے، تم یہ مت سمجھنا کہ ہم نے گوشہ عافیت تلاش کرلی ہے، تمہارے دن گنے جاچکے ہیں ، اور تمہاری الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے، اور ہم پوری ذمہ داری کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ جب خدائی وارنٹ جاری ہوتا ہے نا، تو اللہ کا مجرم خود ہی مقتل میں حاضر ہو جاتا ہے۔
چنانچہ ابو لہب کا بیٹا عتبہ یعنی بد نصیب باپ کا بدنصیب بیٹا نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معصوم چہرہ پر تھوکا تھا تو زبانِ نبوت سے ایک آہ نکلی پھر فرمایا: اللہم سلط علیہ کلبا من کلابک ، یا اللہ اس پر اپنا کوئی درندہ مسلط کردے ، چنانچہ مجرم خود ہی مقتل میں حاضر ہوگیا اورملک شام کے سفرمیں مقام ’’ زرقاء ‘‘ پر ایک جنگلی شیر نے اس کو چیر پھاڑ کر ٹکرے ٹکرے کردیا۔بدبخت عبداللہ بن قمیہ نے غزوہ احد میں رخ ِ انور کو زخمی کیا تھا تو رب ذو الجلال نے اس کے چند ہی دنوں کے بعد ایک پہاڑی بکرا ، اس پر مسلط کردیا جس نے سینگ مارمار کر اس کے پر خچے اڑادیئے، جانور کے اس کارنامے سے بھی یہ معلوم ہو تاہے کہ وہ بے زبان جانور بھی یہی سمجھتا ہے کہ گستاخِ رسول واجب القتل ہے۔
ابھی چند سال قبل ڈنمارک کا گستاخ ایڈیٹر اپنے گھر میں آرام کی نیند سوررہا تھا، اچانک گھر میں آگ لگی اور اس کاخواب گاہ قبر گاہ میں تبدیل ہوگیا،اورابھی حا ل ہی میں چند ماہ قبل پیرس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی گئی اور وہ معاملہ چل ہی رہا تھا کہ غلامان ِنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے دفتر میں تمام گستاخان نبی کو گولیوں سے بھون ڈالا، اور دنیا کویہ کہنے پر مجبور کردیا کہ ۔۔۔۔۔
ہم نے ہر دور میں ناموس رسالت کے لئے
و قت کی تند ہوائوں سے بغاوت کی ہے
اور آج اس کملیش تیواری نے جو اپنی ناپاک زبان سے پاک نبی کی شان میں گستاخی کی ہے، اور پوری عالم ِ انسانیت کے دل میں ایک چبھن پیدا کیا ہے، جس کو خود اس کے اراکین بھی اچھی طر ح محسوس کر رہے ہیں، آج یہ کمینہ جیل کی سلاخوں میں ہے اور یاد رکھو دنیا والو! پروردگار عالم اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بڑے ہی غیور ہے، جس طر ح ماقبل میں گستاخانِ رسول وشاتمینِ نبی کاانجام بد تر ہوا ، اس سے کہیں زیادہ بدترین انجام اس گستاخِ رسول کملیش تیواری کا ہوگا، ان شاء اللہ ثم ان شاء اللہ ،اور اس پر ہم تمام غلامان ِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایمان و یقین بھی ہے،اس لئے اے مسلمانوں ! اگر ہم واقعی اپنے نبی کے وفادار ہیں توغدار رسول کے خلاف ا ٓ ہنی دیوار بن جائیں، اورہماری ہر ادا سے یہ صدا آنے لگے کہ۔۔۔۔۔
جان مانگو تو جان دیددوں مال مانگو تومال دیدوں
مگر ہم سے یہ نہ ہوسکے گا کہ نبی جاہ وجلال دیدوں
(بصیرت فیچرس)
*معاون دار القضاء امارت شرعیہ جمشیدپور
9534741637

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker