جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا! 

شکیل رشید ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن
پانچ ریاستوں کے اسمبلی الیکشن نتائج دیکھ کر دو کہاوتیں یاد آگئی ہیں۔۔۔۔
’سچ کا بول بالا، جھوٹے کا منہ کالا‘ اور ’غرور کا سرنیچا‘ ۔۔۔تلنگانہ اسمبلی الیکشن کانتیجہ سامنے آنے سے کوئی ۴۸ گھنٹے قبل بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے بڑے ہی غرور کے ساتھ کہا تھا کہ ’ہم تلنگانہ راشٹر یہ سمیتی (ٹی آر ایس) کی حمایت کرنے کو تیار ہیں بشرطیکہ وہ اویسی کو چھوڑ دے اور ہم سے عوامی سطح پر حمایت طلب کرے‘۔ انہوں نے انتہائی فخر کے ساتھ ایک جھوٹ بولا تھا ’بی جے پی کی حمایت کے بغیر کوئی بھی سیاسی پارٹی تلنگانہ میں حکومت سازی نہیں کرسکتی‘ ۔ نتیجہ یہ سامنے آیا کہ تلنگانہ میں امیت شاہ بھی غرق ہوگئے اور اپنے ساتھ بی جے پی کو بھی لے ڈوبے۔ وہاں کی مجموعی ۱۱۹ سیٹوں میں سے بی جے پی کو صرف ایک ہی سیٹ پر کامیابی مل سکی ہے۔ یہ بڑ بولنے پن، غرور وگھمنڈ اور جھوٹ وکذب بیانی کا خمیازہ ہے۔ اور امیت شاہ و بی جے پی۔۔۔اور وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی۔۔۔باقی کی چار ریاستوں میںبھی اپنے جھوٹ او رگھمنڈ کے نتیجے میں منہ کی کھانی پڑی ہے۔ مدھیہ پردیش اس کےلیے ’سونے کی مرغی‘ تھی۔ ’سونے کی مرغی‘ اس لیے کہ وہاں پندرہ برسوںسے بی جے پی کا راج تھا، شیوراج چوہان عوام کے ذریعے منتخب وزیر اعلیٰ تھے مگر وہ خود کو ریاست کا مہاراجہ سمجھتے تھے۔ ویاپم تو سامنے آیا پر نہ جانے ’ویاپم‘ جیسے کتنے گھوٹالے منظر عام پر آنے کے منتظر ہیں۔ ایم پی میں ایک لوٹ مچی تھی، من مانے کام کیے جارہے تھے، اور وہی عوام جس نے تخت پر بٹھایا تھا اسی کو ’احمق‘ بلکہ ’بے وقوف‘ سمجھنے کی ’بے وقوفی‘ کی جارہی تھی۔ عوام حیران، پریشان اور لاچار تھے۔لہذا انہوں نے پہلے تو بی جے پی کو اس کے وعدے یاد دلانے کی کوشش کی، یہ یاد دلایا کہ ریاست ہی نہیں مرکز میں بھی بی جے پی کو اس لیے تخت پر بٹھایاگیا ہے کہ ’وکاس‘ ہو۔ لیکن ’دروغ گورا حافظ نباشد‘ کے مصداق ساری بی جے پی ، سارے بھاجپائی، بی جے پی کی ساری اعلیٰ قیادت وعدوں کو بھلائے رہی، ’وناش‘ ہوتارہا، کسان مرتے رہے، عوام کبھی نوٹ بندی، کبھی جی ایس ٹی کے نام پر اور کبھی بڑھتی مہنگائی سے تنگ ہوتی رہی۔ لہذا’تنگ آمد بجنگ آمد‘ اس نے ایم پی میں بی جے پی کو اُلٹا دیا! کانگریس وہاں پھر واپس آئی۔ حالانکہ کانگریس کو واضح اکثریت نہیں ملی ہے اس لیے یہ خطرہ ہے کہ کہیں بی جے پی ’توڑ جوڑ‘ کرکے وہاں حکومت نہ بنالے۔ او راگر ایسا بھی ہوا تب بھی یہ خوب صاف ہے کہ ایم پی میں بی جے پی کو عوام نے ٹھکرا دیا ہے۔ اب وہاں اس کا زوال شروع ہوچکا ہے۔ چھتیس گڑھ کے بارے میں دعویٰ تھا کہ وزیر اعلیٰ رمن سنگھ نے ایسے ’کام‘ کیے ہیں کہ وہاں کے لوگ ا ُنہیں کبھی بھی نہیںہارنے دیں گے۔ پر بھلا وہ ’کام‘ کیا ہیں؟ اس سوال کا جواب عوام نے دے دیا ہے۔ رمن سنگھ ناکام وزیر اعلیٰ تھے، ان کا نام بھی گھپلے بازوں کی فہرست میں آچکا ہے۔ انہوں نے جو بھی ’کام‘ کیا ہوگا وہ یقینا عوام کےلیے نہیں، اپنے اور بی جے پی کےلیے کیا ہوگا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ سارے ملک میں بی جے پی کوئی کام عوام کےلیے نہیں کررہی ہے۔ جھوٹے وعدوں کے چار ساڑھے چار سال پورے ہورہے ہیں، زہریلے بیانات نے سارے ملک کی فضا کو مسموم کردیا ہے، لوگ بیزار ہیں، یہ جو پانچ ریاستوں کے اسمبلی الیکشن ہوئے ہیں ان کے نتائج عوامی بیزاری کا ثبوت ہیں۔ گھمنڈ دم توڑ رہا ہے؎
یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
اب ۲۰۱۹ کا انتظار ہے۔ بی جے پی لوک سبھا جیتنے کےلیے فرقہ پرستی کے جن کو آزاد کرسکتی ہے۔ تانڈو مچ سکتا ہے، اس لیے بے حد احتیاط کی ضرورت ہے۔ اشتعال میں آنے سے لازمی بچنا ہوگا۔ ہاں، کانگریس کا واپسی کا سفر شروع ہوچکا ہے پر اسے یاد رکھنا ہوگا کہ اس کی جیت اس کی ’نرم ہندو توا‘ پالیسی کی وجہ سے نہیں ہوئی ہے بلکہ عوام نے ’ہندو توا‘ کو ٹھکرا کر اسے منتخب کیا ہے۔ ان میں ہندو عوام کی بڑی تعداد ہے ۔اسے مذکورہ ریاستوں میں بھی او رملک میں بھی امن وامان لانا ہوگا، ماب لنچنگ کے متاثرین کو انصاف دلانا ہوگا اور ایک ایساماحول بنانا ہوگا کہ ۲۰۱۹ میں بی جے پی کی فرقہ پرستی کا جنازہ نکالنے میں سارا ملک بلالحاظ مذہب اس کے ساتھ کھڑا ہوجائے۔
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker