شعر و ادبمیزان بصیرت

معاش اور رشتہ ازدواج ، مسائل اور حل:تعارف وتبصرہ

نورالسلام ندوی،پٹنہ
E-mail:nsnadvi@gmail.com
زیر تبصرہ کتاب ’’ معاش اور رشتہ ازدواج ، مسائل اور حل‘‘ سرفراز عالم صاحب کی پہلی عمدہ کاوش ہے ،اس کتاب میں معاش اور نکاح کے موضوع پر بحث کی گئی ہے ، پوری کتاب انہیں دو بنیادی موضوع کے گرد گردش کر تی ہے ۔ مصنف نے معاش اور معاشرت کی بنیاد پر نکاح کا بطور خاص جائزہ لیا ہے اور دونوں کے آپس میں ربط و تعلق کو بتاتے ہوئے دونوں کی جداگانہ اور الگ الگ اہمیت بیان کی ہے ۔ پھر دونوں موضوع کے تعلق سے بارہ بارہ نکات پر بحث کی ہے ۔ معاش اور نکاح کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا حل اور تدابیر بھی بتائے گئے ہیں ۔ اس ضمن میں سماجی اور معاشرتی سطح پر پائی جانے والی چھوٹی چھوٹی کمزوریوں اور برائیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس سے بچنے ، شریعت کے مطابق زندگی گذارنے اور بہتر سماج اور صالح معاشرہ کی تعمیر و تشکیل پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔
مصنف کا احساس ہے کہ آج معاش کے مسئلہ کو سب سے بڑا مسئلہ بنا دیا گیا ہے ،اور نکاح کا مسئلہ جو معاش سے کم اہم نہیں ہے اس کو حل کرنے کی طرف ہمارا رجحان بہت کم ہے ۔ یہ امر واقعہ ہے کہ فی زمانہ معاش کے مسئلہ پر پوری سنجیدگی اور فکر مندی کے ساتھ توجہ دی جاتی ہے ، جبکہ نکاح جیسی اہم عبادت کو معمولی سمجھ کر کم توجہ دی جاتی ہے ۔ مصنف نے معاش کی تعریف کرتے ہوئے اس کے متعلقات پر روشنی ڈالی ہے اور معاشی مسائل کے تحت حلال ، حرام ، اخلاق ، رشوت ، تجارت، تعلیم ، رزق ، جھوٹ، نفس پرستی ، فضول خرچی ، قرض، وراثت ، صبر ، شکر اور زکوٰۃ جیسے موضوع پر کارآمد بحث کی ہے ۔ معاشی مسائل کی نشان دہی کرتے ہوئے اس کا ممکنہ حل اور علاج بھی بتایا گیا ہے ۔ تجارت اختیار کرنے اور حرام خوری ، رشوت ، فضول خرچی جیسی مہلک چیزوں سے بچنے پر زور دیا گیا ہے ۔ تعلیم اور رزق کے فرق کو واضح کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ تعلیم اور رزق دونوں بالکل علحدہ اور الگ چیز ہے ۔ تعلیم کا مقصد خداکو پہچاننا ، اللہ کی معرفت حاصل کرنا ہے ۔ اس کے ذریعہ اخلاق و کردار میں بہتری لائی جاتی ہے ،تعلیم کا مقصد محض رزق کا حصول نہیں بلکہ بہتر زندگی گذارنا ، مہذب اور باادب بننا ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ بہت سے لوگ اپنی تعلیم اور علم و ہنر کی بنیاد پر پسندیدہ روزگار حاصل کرلیتے ہیں اور اس کے ذریعہ بہت یا کم مال و دولت کمالیتے ہیں ۔
نکاح کے مسائل کے ضمن میں بھی بارہ نکات پر گفتگو کی گئی ہے ۔ مناسب عمر میں نکاح کرنے پر زور دیتے ہوئے نکاح کو آسان بنانے اور شادی بیاہ میں دولت کے بے جا اصراف سے بچنے اوربہتر سیرت و سلوک کو ترجیح دینے کی تلقین کی گئی ہے ۔ مصنف نے ایسے والدین کی بھی خبر لی ہے جو بلاوجہ اپنے بیٹوں کی شادی میں تاخیر کرتے ہیں ۔ وہ تحریر کرتے ہیں:’’ اگر کسی والدین کو تین بیٹے ہیں اور پھر بیٹیاں ہیں تو انہیں پہلے بیٹوں کی شادی کی فکر ہو تی ہے ، بھلے ہی ان کا بڑا بیٹا اپنی عمر کی شباب کو پار کر چکا ہو، اور بے بس نوجوان بھی اسی فکر میں مبتلا ہے کہ پہلے بہن کی شادی کرنی ہے، ورنہ دنیا کیا کہے گی ، بھلے ہی چھوٹی بہن کی شادی کروانے کے لئے اس عمر میں بڑا بھائی غلط راستوں سے اپنی شہوانی خواہشات پوری کرتا رہے اور خدا ناخوش ہوتا ہے تو ہوتا رہے ‘‘۔واقعی یہ آج کے مہذب سماج کا بڑا المیہ ہے ۔ نکاح اور معاش کے حوالہ سے پیدا ہونے والی پے چیدگیوں اور دشواریوں پر سر حاصل گفتگو کی گئی ہے اور اس کے سدباب کے لئے مفید مشورہ بھی دیئے گئے ہیں ۔ مصنف نے ان مسائل پر اظہار خیال کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ من پسند نوکری اور رزق میں کمی نکاح کے لئے رکاوٹ کا سبب نہیں بننا چاہئے بلکہ نکاح کے ذریعہ رزق میں کشادگی پیدا ہوتی ہے اور اس سے روزی کے دروازے وا ہوتے ہیں۔
اسلام صالح قدروں کا امین ہے ۔ سماج کو مہذب اور معاشرہ کو صالح بنانے کے لئے اسلام نے نہ صرف نکاح کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ نکاح کو عبادت قرار دیا ہے تاکہ خاندان و سماج خوشگوار طریقے پر چلے اور سماج و معاشرت میں جنسی بے راہ روی ، بے حیائی ، عریانیت ، بد کرداری نہ پنپے۔ کیونکہ یہ چیز یں پاکیزہ معاشرہ کو داغدار بنادیتی ہیں ، معاشرہ کی صالح قدروں کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ آپ ﷺ نے امت کو نکاح کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی صلاحیت رکھتا ہو ، وہ نکاح کرے ، اس سے نگاہ اور شرمگاہ کی حفاظت ہوتی ہے اور اگر نکاح کی استطاعت نہ ہو تو روزے رکھو ، کیونکہ روزہ شہوت کو دبانے والا ہے ۔ اس لئے حدیث میں نکاح کو نصف ایمان سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ لیکن آج نکاح اور متعلقات نکاح میں غیر ضروری تاخیر ، بے جا اصراف ،بے اعتدالی اور قسم قسم کے خرافات کو رواج دے کر مشکل سے مشکل تر بنادیا گیاہے ۔
مصنف کتاب سرفراز عالم صاحب پیشہ کے اعتبار سے ایک مدرس اور منتظم کارہیں ،لیکن کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ سماجی مصلح اور قوم کے ہمدرد ہیں۔ موصوف غورو فکر کرنے والا دماغ اور تڑپنے والا دل رکھتے ہیں ، سماج و معاشرت پر ان کی نظر گہری ہے ،وہ معاشرہ میں پائی جانے والی ناہمواریوں ، کمزوریوں ، برائیوں ، بے حیائیوں اور جدیدیت یا فیشن کے نام آنے والی عر یا نیت کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں اور اس کے مثبت و منفی پہلوؤں پر غور و فکر کرتے ہیں ۔ سرفراز عالم مدرسہ کے باضابطہ تعلیم یافتہ تو نہیں ہیں ،تا ہم ان کی دینی معلومات بھی اچھی ہے ۔ وہ اپنی باتوں کو منطقی طرز استدلال سیسمجھاتے ہیں، اور قرآن و حدیث اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ پیش کرتے ہیں ۔
مذکورہ بالا کتاب عصر حاضر کے اہم موضوع پر تحریر کی گئی ہے ، اور بڑے غور و خوض اور محنت کے ساتھ تیار کی گئی ہے ۔ جس کے لئے مصنف سرفراز عالم صاحب بلاشبہ مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ لیکن تھوڑی اور محنت سے کتاب کو مزید مفید تر بنایا جا سکتا تھا ۔ مسائل اور حل آپس میں گڈ مڈہو گئے ہیں ، کیا ہی بہتر ہوتا کہ مصنف پہلے معاش کے مسئلہ پر ترتیب وار ایک ایک نکتہ پر بحث کرتے پھر اس کے تدراک اور تدبیر پر روشنی ڈالتے ،اسی طرح نکاح کے بنیادی مسائل پر بحث کرتے اور پھر اس کے حل وتدابیر پر اظہار خیال کرتے۔مثلاً معاش کے مسئلہ پر رشوت خور ی ، حرام خوری ، جھوٹ ، فریب، فضول خرچی جیسے مسائل کا ذکر کرتے اور پھر اس کے حل پر حلال روزی ، اخلاق ، سچ ، صبر و شکر اور زکوٰۃ و دیگر نکات پر قلم چلاتے ۔ خطابیہ انداز مثلاً حلال و حرام کا فرق سمجھنا ہوگا ، رشوت خوری سے بچنا ہوگا ،تجارت کو تر جیح دینا ہ ہوگا،سے احتراز کیا جانا چاہیے تھا۔
کتاب 184 صفحات پر مشتمل ہے ۔ ص 10سے 36 تک اہل علم و قلم کے تاثرات ہیں , ص 38 سے 66 تک ابتدائیہ کے طور پر جو کچھ لکھا گیا ہے وہ بھی بڑے کام کی باتیں ہیں ۔ اخیر کے چند صفحات میں علامات قیامت اور فتنہ دجال سے متعلق احادیث نقل کی گئی ہیں ۔ من حیث المجموع مصنف کی کوشش لائق ستائش ہے ۔ کتاب موضوع اور مواد کے اعتبار سے جتنی اہم اور وقیع ہے اس کی طباعت اتنی معیاری اور پر کشش نہیں ہے ۔ کتاب کی قیمت کم تو نہیں تا ہم بہت زیادہ بھی نہیں ہے ۔ امید ہے کہ عوام و خواص اس کتاب کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھیں گے ،اور اس سے استفادہ کرتے ہوئے اصلاح کی کوشش کریں گے۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker