جہان بصیرتحق گوئیمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

ہاں میں انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ ہوں۔۔۔!

نازش ہما قاسمی
(ممبئی اردو نیوز؍بصیرت آن لائن)
جی ہاں شہید باپ کا شہید بیٹا انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ بہادر، جری، نڈر، بے باک، منصف، جانباز ہوں۔ میرے چہرے پر گھنی موچھ میری جوانمردی کی علامت تھی۔میری پیدائش یوپی کے ایٹہ ضلع کے جیتھرا تھانے کی حدود میں پرنگاواں گائوں میں پولس رام پرتاپ راٹھور کے گھر ۱۹۷۱نیں ہوئی۔اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے ۱۹۹۴میں اترپردیش پولس کی نوکری جوائن کی، اس کے بعد یوپی کے بندیل کھنڈ سے لے کر یوپی کے کئی اضلاع میں تعینات رہا جن میں خصوصی طور پر جھانسی، مظفر نگر، سہارنپور، میرٹھ، غازی آباد ، نوئیڈا اور بلند شہر شامل ہیں ۔ جہاں آج بھی تھانے میں میری جانبازی کے قصے معروف ہیں ۔میں جہاں گیا وہاں بہادری کے انمنٹ نقوش چھوڑ آیا، میں عوام دوست انسپکٹر تھا مجھ سے جہاں مجرم ڈرتے تھے وہیں عوام مجھ پر اعتماد وبھروسہ کرتے تھے۔ سنگھم اور دبنگ جیسی فلمیں بعد میں آئیں؛ لیکن میں پہلے سے ہی سنگھم ودبنگ تھا، میری جوانمردی کے قصے عوام الناس کی زبان پر تھے، وہ مجھے مسیحا سمجھتے تھے اور میں نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا، بدمعاشوں نے اگر عوام کو ہراساں کیا اور ستایا تو میں ان بدمعاشوں سے لوہا لینے میں سب سے آگے رہا اور ان کا قلع قمع کیا ان پر مقدمات کئے اور جیلوں کی سلاخوں میں ڈال کر عوام کو سکون بخشا۔ میں نے جو بھی کیس لیا اسے پورے خلوص کے ساتھ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کی۔ سیاسی دباؤ میں کبھی بھی نہیں آیا اور نہ ہی پولس کی جو بگڑی شبیہ ہے اس کے زیر اثر آیا، جہاں بھی جو ذمہ داری مجھے سونپی گئی پوری ایمانداری ودیانت داری سے اسے مکمل کرنے کی کوشش کی کبھی بھی اپنی پولیس کی وردی کا سودا نہیں کیا۔
ہاں میں وہی سبودھ کمار سنگھ ہوں جس کا باپ بھی بہادر تھا، نڈر تھا، جری وبے باک تھا، جن کی شہادت ٹرین میں بدمعاشوں سے مڈبھیڑ کے دوران ہوئی تھی۔ ہاں میں وہی سبودھ کمار ہوں جس نے میرٹھ کے سردھنہ میں تعینات رہتے وقت مشہور زمانہ بدمعاش سرجی سے لوہا لیا ، نوادہ گائوں کے جنگل کو سرجی اور اس کے گروہ نے اپنا ٹھکانہ بنالیا تھا، ان بدمعاشوں کو جنگل میں گھیرا، جب انہوں نے گولیاں چلانی شروع کردی تو ہم نے بھی پے درپے کئی فائر کئے اور وہاں میں بال بال مرتے بچا، ایک گولی میری گردن کو مس کرتی ہوئی چلی گئی، میں پھر بھی ہمت نہیں ہارا اور محاذ پر ڈٹا رہا ۔ ہاں میں وہی سبودھ کمار سنگھ ہوں جو ۲۳؍جنوری ۲۰۱۶ میں بدمعاشوں کے گروہ سے مڈبھیڑ کے دوران زخمی ہوا؛ لیکن ہمت وحوصلہ نہیں ہارا اور ان پر تابڑ توڑ گولیاں برساتا رہا۔ ہاں میں وہی سبودھ کمار سنگھ ہوں جس نے دادری کے اخلاق کے بہیمانہ قتل میں بطور تفتیشی افسر تھا، میں نے اخلاق کے قتل کے دوسرے ہی دن دس ملزمین کو گرفتار کرلیا تھا جس کے بعد یہ معاملہ سرخیوں میں آیا اور بی جے پی کے لیڈران نے اس پر سیاست کرنی شروع کردی۔میرا وارانسی ٹرانسفر کردیاگیا ۔ اخلاق قتل میں شریک غنڈوں کی حمایت کی گئی، انہیں عزت وتکریم کی نگاہوں سے دیکھاجانے لگا اور میں نشانے پر آگیا۔ شرپسند عناصر موقع تلاش کرتے رہے، میرے خلاف سازشیں ہوتی رہیں، مجھ سے خائف فرقہ پرست ہر آن و ہمہ وقت یہ سوچ رہے تھے کہ اگر یہ زندہ رہ گیا تو شاید کرکرے کی طرح دوسرے بہت سے رازہائے سربستہ سے بھی پردہ نہ اُٹھا دے اور ایک بار پھر ہندو دہشت گردوں کا چہرہ سامنے آجائے؛ اس لیے مجھے راہ سے ہٹانے کےلیے موقع اور وقت کا انتظارکرتے رہے۔ ۳؍دسمبر ۲۰۱۸ کو بلند شہر میں مسلمانوں کا بڑا اجتماع جاری تھا، جو انتہائی خوش اسلوبی سے چل رہا تھا۔ اس اجتماع میں جہاں ملک سے محبت ، آپسی بھائی چارے، ملک میں امن وامان اورگنگا جمنی تہذیب کی بقا ء کےلیے دعا کی جارہی تھی ، وہیں کچھ فرقہ پرست ، سماج دشمن عناصر، نفرت کے سودا گر اس اجتماع میں آئے لاکھوں معصوموں کے خون سے ہولی کھیلنے کا پلان بنارہے تھے ۔ ہمیں پیر ۳؍دسمبر کی صبح خبر ملی کہ چنگراوتی گاؤں میں گاؤکشی ہوئی ہے جس پر ہم نے فوری قدم اٹھایا۔ اس دوران چند نفرت کے سوداگروں نے روڈ بلاک کرنے کی کوشش کی اور اجتماع گاہ سے لوٹ رہے امن کے رکھوالوں کو نفرت کے سوداگروں نے نشانے پر لینا چاہا؛ لیکن میں نے روٹ تبدیل کردیا جس کے نتیجے میں شرپسندوں نے ہم پر پتھراؤ کردیا اور جب ہم نے طاقت کا استعمال کرکے نام نہاد گئو رکشک دہشت گردوں کو روکنا چاہا تو بھیڑ میں موجود دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کردی اور میں اس کی زَد میں آکر اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتا ہوا شہید ہوگیا۔ میری شہادت کے بعد وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے میٹنگ طلب کی، ملزمین کو کیفر کردار تک پہنچانے کا وعدہ کیا، وہ حکومت وانٹلی جینس جو واردات کے فوراً بعد القاعدہ، انڈین مجاہدین کو ڈھونڈ نکالتی ہے اس نے آج میرے قتل کے کئی دن گزر جانے کے باوجود بھی نامزد گئو رکشک کو پکڑنے میں ناکام رہے،اور کچھ معصوم وبے گناہ کمسن بچے جس کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں وہ نشانے پر آگئے ہیں اور اس کی زندگی سے کھلواڑ کرنے کی شروعات ہوچکی ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی نے اپنی میٹنگ میں گائے کا تو نام لیا؛ لیکن مجھ جیسے جوانمرد شہید افسر کی قربانی کو فراموش کردیا، جس سے یہ اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ ملک میں اب انسانی جانوں کی قیمت جانوروں کے مقابل کچھ بھی نہیں۔ خیر میں اپنے بیٹے کے روپ میں ایک سیکولر شہری چھوڑ آیا ہوں جسے میں نے ہندو مسلم میں الجھنے کی تعلیم نہیں دی ہے؛ بلکہ ایک سیکولر، محب وطن اور اچھا شہری بن کر جینے کا ہنر سکھایا ہے مجھے امید ہے کہ وہ مجھے مایوس نہیں کرے گا ۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker