ہندوستان

اردو کے مایۂ ناز شاعر اظفر جمیل کی کتاب شوق سفر کا اجراء

رانچی۔۱۶؍دسمبر: (احمدبن نذر)اردو کے کہنہ مشق شاعر اظفر جمیل کی شاعری کا پہلا مجموعہ ’’شوقِ سفر ،، کی رسم اجراء ایک شاندار محفل میں منعقد ہوا ۔اس مجموعہ کو علامہ اقبال فائونڈیشن رانچی نے شائع کیا ۔ اس پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے انجمن اسلامیہ کے صدر جناب ابرار احمد نے کہا کہ اظفر جمیل کی شاعری کا انداز اچھوتا ہے اور علامہ اقبال فائونڈیشن نے جس طرح ان کے کلام کو جمع کرنے کی کوشش کی ہے وہ لائق تحسین ہے میری خواہش ہے کہ ان کے بکھرے ہوئے دیگر بیش قیمتی کلام کو بھی جمع کرکے شائع کیا جائے ۔اس کے لیے ہم سب تن من سے تعاون کے لیے تیار ہیں انھوں نے اظفر کے شعری مجموعہ کو ادبی سرمایہ بتایا۔اس موقع پر مہمان خصوصی ابوعمران (آئی اے ایس ) سکریٹری جھارکھنڈ ریوینو بورڈ نے اپنے تأثرات کا آغاز اظفر جمیل کے ہی اشعار سے کیا انھوں نے کہا کہ زبان اور سماج کو اظفر جمیل جیسے لووں کی ضرورت ہے ۔ رانچی واطراف میںاتنا شاندار پروگرام اردو کے حوالے سے میں نے نہیں دیکھا ۔اردو رابطہ کی زبان ہے ،تفریح کی زبان ہے اخبار کی زبان ہے ، اور دنیا کے کونے کونے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔ اس زبان کی پیدائش گنگا جمنی تہذیب سے ہوئی اس لیے اس کو کسی ایک طبقے سے جوڑنا مناسب نہیں ہے ۔رانچی یونی ورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر اور ایسوسئیٹ پروفیسر ڈاکٹر منظر حسین نے ’’ شوقِ سفر ‘‘ کو نئے شاعروں کے لیے مشعل راہ بتایا ۔اظفر کے کی شاعری میں تفکر بھی ہے تحیر بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ سوز وگداز بھی ، عہد کی ترجمانی بھی اور تصوف کے رموز ونکات بھی ہیں ۔آخر میں انھوں نے کہا کہ کتاب کی طباعت نہایت عمدہ ہے اور علامہ اقبال فائونڈیشن کو ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ فائونڈیشن نے اس درویش صفت شاعر کو شائع کرکے اردو داں طبقہ کی جانب سے فرضِ کفایہ ادا کیا ہے ورنہ یہ عظیم شاعر گوشۂ گمنامی میں چلاجاتا۔اس تقریب میں رانچی یونی ورسٹی کے شعبۂ کامر س کے پروفیسر نظام الدین زبیری نے کہا کہ اظفر جمیل میرے ہم عصر ہیں ایک ہی وقت میں ایک ہے پیشے سے دونوں کا تعلق رہا ایک ہی محلے کے رہنے والے ہیں لیکن معلوم نہیں کیا ہوا کہ ان کی تخلیقات کو ان کے ہی دوستوں نے اشاعت کے نام پر لیا اور دس بیس سالوں تک عملی جامہ نہیں پہنا سکے ۔مجھے معلوم ہے کہ وہ دوست کون ہیں ؟ اور یہ جان کر بڑی حیران ہوگی کہ وہ سب ہندوستان کی بڑی بڑی یونی ورسٹیوں میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں ، ان دوستوں سے میری درخواست ہے کہ ان تخلیقات کو اظفر جمیل کے سپرد کردیں تاکہ آگے کام کیا جاسکے ۔ فائونڈیشن کا کام لائق تحسین ہے اور امید سے زیادہ ہے ، ان کی لگن اور پہل کے لیے اردو دنیا ہی نہیں بلکہ پوری ادبی دنیا ہدیۂ تشکر پیش کرتی ہے ۔حافظ ڈاکٹرحذیفہ رحمانی کی تلاوت کلام پاک سے محفل کا آغاز ہوا جب کہ نظامت کے فرائض ماہر تعلیم عبداللہ کیفی نے انجام دیا ، مجموعہ کاشاندار سرِ ورق ماہر کلاکار محبوب راجا الہام نے بنایااس موقع پراظفر جمیل کی شاعری کو اکرم نواز نے اپنی آواز سے یاد گار بنایا ۔ اس موقع پرحاضرین کی فرمائش پر اظفر جمیل نے اپنے انداز میں کلام بھی پیش کیا اور خوب دادو تحسین وصول کیاظہار تشکر تحسین زماں خاں نے پیش کیا ۔ اس موقع پر شہر کے سینکڑوں مشہور ومعروف شخصیات شریکِ محفل تھیںجن میں خصوصی طور پر پروفیسر ابوذر عثمانی ،ڈاکٹر مسعود جامی ،نصیر افسر پروفیسر قاسم ،ونئے بھوشن ، نور حسن ،زید احمد، شکیل ، راجن ، اختر رانچوی، اعجاز احمد ، غیاث الدین منا ، تنویر احمد ، محمد خلیل ، حدیث ، مطیع الرحمٰن ، نوشاد، آصف ، زاہد غنی وغیرہ موجود تھے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker