تاریخ اسلاممضامین ومقالات

مثالی حكمراں

مولانامحمد مصطفی عبد القدوس ندوی

استاذ: جامعہ اسلامیہ كیرالا

        حضرت اسلمؓ سے روایت ہےكہ حضرت عمر فاروق ؓ كے ساتھ بازار كی طرف نكلے، تو حضرت عمر ؓ  سے ایك جوان عورت نے ملاقات كی ، اور عرض كیا :اے  امیر المومنین ! میرا شوہر مر گیا ، اور چند چھوٹی چھوٹی بچیاں چھوڑ گیا ہے ، خدا كی قسم نہ ان كے پاس بكری كا پایہ ہے كہ پكالیں ، نہ كھیتی ہے اورنہ دودھ والا جانور ہیں ، اور مجھے تو اس كا خطرہ ہے كہ ان كو كھالے قحط كا سال (یعنی قحط سالی وفقر وفاقہ كی وجہ سے ہلاك نہ ہو جائیں )یا (دوسرا ترجمہ) میں محنت مزدوری كرنے جاؤں ، تو ڈر ہے كہ بجّو (ایك جانور) بچوں كو كھا نہ جائیں ، اور میں خفاف بن ایماء غفاریؓ كی بیٹی ہوں ، اور میرے والد نبی اكرم ﷺ كے ساتھ غزوۂ حدیبیہ میں شریك تھے ، تو یہ  سن كرحضرت عمر فاروق ؓ  اس عورت كے پاس رك گئے ، اور آگے نہیں بڑھے ، پھر فرمایا : بشارت ہو تمہارا خاندانی تعلق تو بہت قریبی ہے ، پھر ایك قوی مضبوط اونٹ كی طرف بڑھے جو كہ گھر میں بندھا ہوا تھا ، اس پر غلہ سے بھرے ہوئے دو بورے (تھیلے) ركھدئیے ، ان دونوں بوروں كے درمیان دوسری ضرورت كی چیزیں اور كپڑے ركھدئیے ، اور اس اونٹ كی نكیل اس كے ہاتھ میں تھماكر فرمایا :اس كو كھینچ كرلے جاؤ، یہ سامان ختم نہ ہونے پائیں گے كہ اللہ تعالی دوسری قسط خیر ( غلہ اور دیگر ضروریات زندگی ) عطا كردے گا ، ( یعنی حضرت عمر ؓ نے وعدہ كیا كہ تمہارا وظیفہ بیت المال سے جاری ہوجائےگا ، جو كچھ ہم نے اس وقت دیا ہے اس كے ختم ہونے سے پہلے پہلے دوسری قسط پہنچ جائےگی ، اور اسی طرح آئندہ مسلسل بیت المال سے جاتا رہےگا ) ، ایك شخص نے كہا :اے امیر المومنین !اسے بہت دے دیا ، حضرت عمر ؓ نے فرمایا :تیری ماں تجھے روئے ، خدا كی قسم اس عورت كے والد اور اس كے بھائی كو دیكھ رہا ہوں ( یعنی گویا كہ میری نگاہوں كے سامنے ہیں )كہ ایك مدت تك ایكہ قلعہ (خیبر) كے محاصرہ میں شریك رہے ، اور (بالآخر) اس كو فتح كرلئے، ہم مسلمان اس قلعہ سے آج تك فائدے اٹھا رہے ہیں۔ (بخاری ، كتاب المغازی ، باب غزوۃ الحدیبیة:۵۹۹/۲)۔

            آج كل ہمارے ملك ، ہمارے شہر، ہمارے قصبے ، ہمارے گاؤں   اور ہمارے محلے میں كتنی بیوائیں ، كتنے یتیم بچے اور بچیاں ہیں، جو نان شبینہ كے محتاج ہیں ، كتنے چھوٹے معصوم بچے بچیاں ، خواتین اور معذور لوگ چلتے پِھرتے  راہوں، گلی كوچوں ، چوراستوں اور سڑكوں پر ہاتھ پھیلاتے ہوئے نظر آتے ہیں ، دكان دكان اور دردر كاسۂ گدائی لئے پِھرتے ہیں ، كیا موجودہ حكومت نے كبھی ایسے لوگوں كی اعداد وشماری كرانے كی سعی كی ہے ؟ كیا ان كی نظرعنایت ایسے لوگوں پر پڑتی ہے ؟ كہ ان كی فہرست تیار كی جائے ، ان كے تعاون كا مستقل نظم كیا جائے اوراس طر ح كے بچوں كی تعلیم و تربیت كی طرف توجہ كی جائے ۔

            حكومت كی دوسری اسكیمیں پاس ہوتی رہتی ہیں ، پارلیمنٹ كے موضوعات جہاں اور ہوا كرتے ہیں، وہیں  بلا امتیاز مذہب وملت  اور بلا تفریق ذات پات اورقوم  كےملك كےایسے افراد بھی موضوع بحث بنیں( جن كا اوپر  ذكر ہوا ) ، اور ارباب حكومت اس سلسلہ میں كوئی ٹھوس قدم اٹھائیں اور حضرت عمر ؓ كے  طرز حكومت    كو ماڈل بنائیں ، ان كی رعایا پروی ،اللہ كے بندوں سے ہمدردی ، اللہ كی مخلوق  كی حاجت روائی اور پبلك كی بہ خواہی  كا نمونہ اپنے سامنے ركھیں ، ان كی دكھ  تكلیف، اور پریشانی كو اپنی دكھ تكلیف اورپریشانی سمجھیں ، اور  تھوڑی دیر كے لئےتصور كریں كہ اگر آج وہ آپ كی جگہ ہوتے اورآپ ان كی جگہ ہوتے  یعنی  وہ غریب پریشان حال حاكم ہوتے اورآپ محكوم ہوتے تو كیسا لگتا  اوركیا محسوس كرتے ؟

            حقیقت یہ ہےكہ حضرت عمر ؓ جیسےرعایا پرور  اور پبلك كی تكلیف كی ٹیس محسوس كرنے والے لوگ حكومت كر نے كے اہل  اور اقتدار كی كرسی پر بیٹھنے كے لائق ہیں ، افسوس كے ساتھ كہنا پڑتا ہے كہ آج كے اكثر حكمرانوں  كا حال یہ ہے كہ ہانكتے زیادہ ہیں  كرتے كم ہیں ،یا سِرے سےگو ل كرجاتے ہیں ،رعایا پروری اورعوام كی خدمت كا جذبہ دور حاضر كے حكمرانوں میں تقریباً ناپید ہے ، یا اگر ہے بھی تو آٹے میں نمك كے برابر۔ ہاں انسانیت سوز ، ضمیر فروش ،بےحِس ، مطلب پرست ، حق وصداقت سے عاری ،  عدل وانصاف سے خالی  اور ایفائے عہد سے  كوسوں دور حكمرانوں كی كمی نہیں ، جو غریب عوام كی خدمت  كو اپنا شیوہ بنانے اوران كی دكھ  تكلیف اور پریشانیوں كو دور كرنے كے بجائے ، انہیں تباہ  و برباد  اور ان كی ہلاكت كے اسباب  پیدا كرتے ہیں ،ان كے نزدیك اقتدار كی كرسی  عزیز ہے ، عوام كی جان كی كوئی قیمت نہیں ،  یہاں تك  ان كے نزدیك جانور كی جان كی  قدر وقیمت  ہے لیكن انسان كی  جان كی  نہیں ،عوام كی جان ومال  كے پاسباں ہونے كے بجائے ان كے خون كے پیاسے ہیں  اور ان كے مالوں  كے حریص ہیں ۔

            مذكورہ بالا حضرت عمر ؓ كے اسوہ میں جہاں سیاسی حكمرانوں كے لئے درس و پیغام ہے ، وہیں رفاہی كام كرنے والی تنظیموں ، اور انسانی ہمدردی سے سرشار افراد  اور محب انسانیت كے لئے بھی سبق ہے ،خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر  مسلم ، خاص طور پر ایسے وقت میں جبكہ اقتدار كی كرسی پر جرائم پیشہ جیسے لوگو ں كا غلبہ ہو ، ان كی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے ، جہاں تك ہوسكے وہ اپنے دائرہ میں ، اپنے اپنے علاقوں میں بیواؤں، یتیموں كی خبر گیری كریں او ر معذور لوگوں كے ہاتھ تھامیں ،دیكھئے ! آنحضرت ﷺ كا قول وعمل بھی ہمیں یہی بتاتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :“ أنا ولي من لا ولي له”( مسند احمد عن مقداد بن معدی كرب ؓ:۱۹۲/۴، حدیث:۱۷۱۶۸)، یعنی جس كا كوئی سرپرست وولی نہیں ، میں اس كا سرپرست و ولی  ہوں، نیز آپ ﷺ نے فرمایا :“جس كسی كا انتقال ہو، درانحالیكہ اس پر دوسروں كا قرض ہے ، اور ادائیگی كے لئے كچھ نہیں چھوڑا ہے تو  اس كی ادائیگی  میرے اوپر ہے ، اور اگر كسی كا انتقال ہو ، اور اس نے تركہ میں  مال چھوڑا ہے تووہ اس كے ورثہ كا ہے ”۔ (بخاری ، كتاب الفرائض، باب قول النبیﷺ… من ترك مالا فلأهله، حدیث :۶۷۳۱)۔

(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker