جہان بصیرتنوائے خلق

دارالعلوم دیوبند کے نام کھلا خط

حضرت مہتمم صاحب دارالعلوم دیوبند

واراکین شوری دامت برکاتہم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 

اللہ تعالی کی ذات سے امید ہے کہ آپ حضرات بخیر وعافیت ملک وملت کی خدمت میں مصروف ہوں گے

 

اس کھلے خط کے ذریعے یہ ناچیز ایک اہم مسئلے کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہے۔ امید ہے کہ ارباب علم و فضل اس پر توجہ فرمائیں گے۔

 

گزشتہ چند سالوں سے مسلمانوں میں لبرلزم اور اس کے نتیجے میں الحاد وارتداد بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ کچھ نام نہاد مسلم مفکرین نے اپنی کتابوں اور ویڈیوز کے ذریعے مسلم نوجوانوں میں لبرلزم کو بڑھاوا دینے کے لئے اسلامی اصولوں پر اعتراض کرکے تشکیک کا مرض پیدا کر دیا ہے۔ افسوس کے ان مسلم نوجوانوں میں بہت سے فضلائے مدارس بھی شامل ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اسلامی فکر پر دوہری یلغار ہے۔ آریہ سماج نے سوامی دیا نند سرسوتی کی فکر کا احیا کرکے، اسلام کے خلاف از سر نو صف بندی کردی ہے۔ اس حلقے سے وابستہ بہت سے مناظرین ویڈیوز کے ذریعے اسلام کے خلاف دن رات اعتراضات کرتے ہیں، جن سے مسلم نوجوان ابتداء پریشان ہوتے ہیں اور جب ان اعتراضات کا معقول جواب نہیں پاتے تو کبھی متاثر بھی ہو جاتے ہیں۔ اسلامی فکر پر دوسری یلغار داخلی ہے۔ یہ ان لوگوں کی طرف سے ہے جنہوں نے اسلامی فکر کے تسلسل کو نشانہ بنایا اور مسلم نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو یہ باور کرایا کہ روایت پسندوں کے پاس جدید دور کے چیلنج کا جواب نہیں ہے۔ ان دونوں محاذوں کے خلاف کچھ لوگ انفرادی کوششیں کر رہے ہیں لیکن ترسیل ورابطے کے اس دور میں یہ انفرادی کوششیں نہ ہونے کے برابر ہے۔

 

آپ حضرات سے یہ ناچیز دست بستہ درخواست کرتا ہے کہ دارالعلوم دیوبند اور اس کے بعد ملک کے دیگر مدارس میں الحاد اور لبرلزم کے تعاقب کے لئے فوری طور پر ایک شعبے کا قیام عمل میں لایا جائے۔ آپ حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ حجت الاسلام امام قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کا جہاں یہ امتیاز ہے کہ انہوں نے تحریک مدارس کی بنیاد ڈال کر امت کے ایمان کو محفوظ رکھنے میں ایک بنیادی کردار ادا کیا تھا، وہیں ان کا یہ تجدیدی کارنامہ بھی ہے کہ انہوں نے اس زمانے میں آریہ سماجی فتنے اور الحاد و ارتداد کا مقابلہ مباحثوں مناظروں اور کتابوں کے ذریعے زبردست اور کامیاب طریقے پر کیا تھا۔ ان فتنوں نے ایک عرصے کے بعد بڑی شدت کے ساتھ سر ابھارا ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ ہمارے مدارس اور خصوصا دارالعلوم دیوبند اس سمت میں کوئی موثر قدم اٹھائے اور ایسے افراد کی ایک جماعت امت کو مہیا کر دے جو جدید علم کلام سے ہم آہنگ ہو اور مغربی تہذیب، جدت پسندی اور لبرلزم وغیرہ موضوعات پر اس کی گرفت ہو، تاکہ وہ آسانی کے ساتھ ان لاکھوں نوجوانوں کی ضرورت پوری کرسکے جو سوشل میڈیا کے اس دور میں ان فتنوں کا زبردست شکار ہیں۔

مجھے امید ہے کہ آپ حضرات اس جانب توجہ فرما کر پوری امت کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہوں گے

والسلام

یاسر ندیم الواجدی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker