شخصیاتمضامین ومقالات

حضرت مولانا محمد اسرار الحق قاسمی رحمۃ اللہ علیہ

مدتوں رویاکریں گے جام وپیمانہ تجھے
محمد ساجد کُھجناوری
مدرس حدیث وفقہ جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ
دیکھتے ہی دیکھتے سامنے سے کیسی کیسی صورتیں اٹھ گئی ہیں، اب کس کس کو روئیں اور کس کا ماتم کریں ۲۹؍جمادی الاولیٰ ۱۴۴۰ھ / ۷؍ دسمبر ۲۰۱۸ء بروز جمعہ سحر کے ساڑھے تین بجے ملک کے نامی گرامی عالمِ دین، قلم وقرطاس کی نمائندہ شخصیت ،ماہر تعلیم وسماجیات اور باکردار پارلمنٹیرین حضرت مولانا محمد اسرار الحق قاسمیؒ نے بھی موت سے ہار مان لی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
بہت معمولی سی سطح پر اپنے سفرِ حیات کا آغاز کرنے والے مولانا محمد اسرار الحق قاسمی کے بارے میں شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا کہ سعادت واقبال مندی جن کی باہمت شخصیت کا ناقابلِ انفکاک حصہ رہی وہ حدِ پرواز سے گذر کر اپنے با مقصد زریں خدمات وتعارف کا ایک جہان آباد کرنے میں ظفر یاب ہوسکیں گے، چنانچہ وہ آگے بڑھے تو بڑھتے ہی چلے گئے نہ تھکے نہ رکے بلکہ سوئے منزل ان کے قدموں کی تیز گامی نے یہی عکس پیش کیا کہ ؎
گذرجاتا ہوں ہنستا کھیلتا موجِ حوادث سے اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہوجائے
عزم واستقامت کے پیکر مولانا اسرار الحق نے سردوگرم حالات سے لوہا لینے کا فن اپنے پرکھوں سے سیکھ لیا تھا، انہیں کچھ ایسی بافیض اور دلنواز صحبتیں میسر آگئی تھیں جو ان کے لئے قطب نما ثابت ہوئیں، اسی لئے ان کے سفری پڑاؤ میں تلخ وشیریں حقائق تو پنہاں ہیں مگر صبر وشکر جیسے محمود اوصاف نے انہیں شا کی بننے سے محفوظ رکھا، ان کے راستے میں پھول بھی آئے اور کانٹے بھی، شبنمی مزاج لوگوں سے انہیں سابقہ پڑا تو ترچھی نظر رکھنے والے بھی ان کے مصاحِب ہوئے،مگراس بے نفس آدمی کو تو بس اپنے کام سے کام تھا، نگہ بلند ،سخن دلنواز، جان پرسوز کے قیمتی اثاثہ سے مالا مال مولانا قاسمی آبلہ پائی کرتے رہے،اور یہ پیغام دیتے رہے کہ ؎
جس دن سے چلا ہوں میری منزل پہ نظر ہے آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا
لاریب ان کا بیاسی سالہ کاروانِ حیات ایسا ہے کہ جس میں دانش وتجربات اور اسرارِ خودی کا متاعِ بیش بہا موجود ہے، مصدرِ فیاض نے ہر میدان میں ان کی دستگیری فرمائی تھی ، دارالعلوم دیوبندمیں انہوں نے فروکش ہوکر علم وآگہی سے سیرابی کی۔ تفقہوا قبل ان تسودوا جیسی روشن ہدایت کو گلے لگاکر اپنے خوابوں اور منصوبوں کا جو ماسٹرپلان انہوں نے تیار کیا تھا، اس کی تعمیل کہیئے یا بسم اللہ کہ درسیات جیسے موضوع پر مرکزی نگاہ جمانے کے ساتھ ہی قلم وقرطاس سے بھی اپنا رشتہ استوار کرنا شروع کردیا ، دارالعلوم میں دیواری مجلہ سے جو طاقتور تعلق انہوں نے جوڑا تھا احاطۂ دارالعلوم سے باہر کی دنیا میں جب انہوں نے عملی قدم رکھا تو قلم وکتاب سے یہ وابستگی ہی ان کی مستحکم شناخت کا روشن حوالہ تھا، زبان وقلم کی کاشت کو کھاد پانی فراہم کرنے والے مولانا قاسمی نے مادرِ علمی دارالعلوم دیوبند کی جو امانت اپنے سینہ میں محفوظ کی تھی اس کی ترسیل وتبلیغ کیلئے وقف ہوگئے ، ابتداء اپنے صوبہ بہار کے کسی مدرسہ سے وابستہ ہوکر تدریس کے فرائض انجام دینے لگے ، کچھ ماہ وسال گذرے تھے جمعیۃ علماء ہند کی قیادت نے تاڑلیا کہ مولانا تدریس سے زیادہ تحریکی کام انجام دے سکتے ہیں کہ ان کی حرکیت وفعالیت اور سرکھپانے والی ذات ملک وملت کی بکھری زلفوں کو سنوارنے کا زیادہ حوصلہ رکھتی ہے، چنانچہ جمعیت سے جڑے تو پھر روزوشب اسی کے ہوکر رہے، فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ کو افراد شناسی اور ان کے برمحل استعمال کا بھی گیان تھا ، لہذا انہوں نے مولانا سے لکھنے پڑھنے اور تنظیمی فروغ میں بھرپورفائدہ اٹھایا، مولانا سرار الحق قاسمیؒ ہفت روزہ الجمعیۃ کے مدیر اور اس تنظیم کے ایک دہے تک جنرل سکریٹری بھی رہے، جمعیۃ سے دستکش ہوئے تو ملت کی بہی خواہی نے فقیہ العصر قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کی رفاقت پر مجبور کردیا ، چنانچہ ملی کونسل وغیرہ میں بھی بساط بھر تعاون دیا، حضرت مولانا ملت کی زبوں حالی پر کڑھتے تھے، انہیں یہ احساس ہر دم ستاتا تھا کہ مسلمان اقلیت تعلیمی اور معاشی محاذ پر ناقابل بیان حد تک پسماندہ ہے، انہیں اگر حکومتی سطح پر دانستہ پسماندہ بناکر رکھا گیا ہے تو خود مسلم قیادت بھی کوئی مضبوط لائحۂ عمل نہیں طے کرسکی ہے، اسی تناظر میں انہوں نے آل انڈیا دینی، تعلیمی وملی فاؤنڈیشن کی داغ بیل ڈالی جس کے اسٹیج سے وہ اپنی بے یارو مدد گار ناخواندہ قوم کو تعلیم وترقی کی روشنی تقسیم کرتے تھے، فاطر کائنات نے انہیں گوناگوں کمالات سے آراستہ کیا تھا۔ علم ، حلم، تدبر ، فکری سلامتی اور فہم وفراست کا وافر حصہ ان کے خمیر میں شامل تھا، ملک کی حکمراں سیاسی جماعتوں اور ان کے جار حانہ عزائم کے بشمول یہاں کے سیاسی منظر نامہ پر بھی نگاہِ بصیرت رکھتے تھے، اسی لئے عملی سیاست میں انہوں نے دلچسپی تو لی مگر ایمانداری اور حقائق سے منھ نہیں موڑا ، وہ ایسے با ضمیر اور مخلص رکنِ پارلیمنٹیرین تھے جن کا دامن ہر مکروہ آمیزش سے پاک ہے، مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی اور دیگر غیرت مند علماء کی سیاسی عمل داری کے بعددریں باب انہوں نے اپنے پیش رو اکابر کے طرز پر آگے بڑھنے کی کوشش کی ، پارلیمنٹ اور اس کے باہر وہ مظلوم اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لئے حق کا آوازہ بلند کرتے رہے، سالِ گذشتہ ہی ۲۸؍ دسمبر کو جب حکمراں جماعت بی جے پی نے ٹرپل طلاق بل پیش کرکے ایوان زیریں سے اسے زبردستی پاس کرالیا مولانا راستہ میں ٹریفک وغیرہ کی وجہ سے چونکہ بروقت پہنچ نہیں سکے تھے جس کا انہیں شدید احساس تھا ، اس موقعہ پرسوشل میڈیا کے بعض مجاہدین نے حضرت کی ذات کو مطعون کرنا شروع کردیا ، لیکن اللہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے انہوں نے کسی کے خلاف کوئی منفی جملہ تک نہیں کہا ، بلکہ اس کی تلافیٔ مافات کے لئے مرد آہن بن کر پارلیمان میں گرجے اور برسے ،بلکہ اپنی پارٹی کا نگریس سمیت دیگر ہم نوا اپوزیشن جماعتوں کو اس بات کیلئے آمادہ کیا کہ وہ بہر صورت ایوان بالا میں اس غیرمعقول وخلافِ شرع بل کو پاس نہ ہونے دیں، یہاں اس بات کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ ۲۸؍ دسمبر ۲۰۱۷ء کو پارلیمنٹ میں آپ کی دیر حاضری پر کچھ نوجوان فضلا نے سوالات کھڑے کئے تو بعض نے ادبِ اختلاف کی حدوں کا بھی خیال نہیں رکھا اس وقت خاکسار نے ایک مختصر سی تحریر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جس میں اپنے ساتھیوں سے عفو ودرگذ رکرنے کی گذارش کی گئی تھی، اس مختصر سی پوسٹ کے بعد شاید ابھی دودن بھی نہیں گذرے تھے کہ میرے موبائل پر گھنٹی بجی فون ریسیو کیا تو حضرت مولانا کے معتمد علیہ برادرم حافظ نوشیر احمدصاحب بول رہے تھے کہنے لگے کہ حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں ، یہ معلوم ہوکرمیری خوشگوار حیرت کی انتہانہ رہی کہ مولانا جیسا ہر وقت مصروف آدمی اپنے خوردوں سے بات کرسکتا ہے، بہر کیف مولانا نے ازراہِ تشکرخاکسار کی مذکورہ تحریر کا ذکر کیا ، پھر تازہ صورتِ حال کے ضمن میں فرمایا کہ ’’ ہم لوگ ممبرانِ پارلیمنٹ سے فرداً فرداً ملاقات کر رہے ہیں اور کسی بھی قیمت پر اسے راجیہ سبھا میں ان شاء اللہ کامیاب نہیں ہونے دیں گے‘‘۔
یہ تھے حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی جن کی فنائیت، حوصلگی، عالی ظرفی اور خورد نوازی دوسروں کیلئے نمونۂ عمل تھی، انہیں دارالعلوم دیوبند سمیت تمام تعلیمی وملی اداروں سے بے حد پیار تھا، جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ کے معمار وانتظام سے ان کے قریبی مراسم رہے ، ان کے متعدد سفارشی خطوط آج بھی محفوظ ہیں جو وہ اپنے متعلقین کودے کر یہاں داخلہ کیلئے بھیجتے تھے، ناظمِ جامعہ حضرت مولانا مفتی خالد سیف اللہ نقشبندی نے آپ کے سانحۂ رحلت پر تعزیتی پیغام میں بجا فرمایاکہ’’ حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی کی ذات دین وسیاست کا حسین آمیزہ تھی، انہوں نے ظاہر علوم حاصل کرنے کے ساتھ باطنی کیفیات پر بھی توجہ دی، اسی لئے فقیہ الاسلام حضرت مفتی مظفر حسین سہارنپوریؒ کے دامنِ معرفت سے وابستہ ہوگئے، بعدازاں ہمارے مرشد حضرت مولانا قمر الزماں الٰہ آبادی مدظلہ کی طرف رجوع کیا جس سے ان کی فکرِ آخرت اور یقین ومعرفت سے سرشار روحانی زندگی کا سراغ ملتا ہے‘‘۔
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker