ہندوستان

تین طلاق بل لوک سبھا میں پاس کرانا جمہوریت کا قتل

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سکریٹری وترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
حیدرآباد۔ ۱۸؍دسمبر: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سکریٹری وترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے پریس نوٹ میں کہا ہے کہ موجودہ مودی حکومت کا دوبارہ لوک سبھا سے تین طلاق ترمیم شدہ بل پاس کرانا جمہوریت کا قتل، اقلیتوں کی مذہبی آزادی میں مداخلت اور سیاسی مقصد کے تحت اُٹھایا جانے والا قدم ہے، حقیقت یہ ہے کہ تین طلاق دینا اگرچہ اسلام میں ناپسندیدہ عمل ہے؛ لیکن اگر دے دی جائے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے، اور ایسی صورت میں ایک طلاق کا بھی واقع نہیں ہونا مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے متفقہ نقطۂ نظر کے خلاف ہے، نیز یہ دعویٰ کرنا کہ یہ مسلم خواتین کے فائدے کے لئے کیا گیا ہے، کُھلا ہوا جھوٹ اور دھوکہ ہے، گجرات اور مظفر نگر کے فسادات میں کتنی ہی مسلمان خواتین کا قتل ہوا اور ان کی عزتیں لوٹی گئیں؛ لیکن مجرمین کے خلاف کارروائی تو کیا ہوتی ، حکومت نے کوئی مذمتی بیان بھی جاری نہیں کیا، کیا تین طلاق کی تکلیف اس تکلیف سے بڑھ کر ہے؟ پھر یہ کہ ۴؍کروڑ سے زیادہ مسلم خواتین نے اپنی شناخت کے ساتھ دستخط کر کے پورا ریکارڈ لاء کمیشن کے حوالہ کیا کہ وہ قانون شریعت پر راضی ہیں، او ر انہیں یہ بل منظور نہیں ہے، ملک کے مختلف حصوں میں کئی کئی لاکھ مسلم خواتین کی ریلیاں نکلیں اور انہوں نے صاف طور پر اعلان کیا کہ ہمیں یہ قانون ہرگز قبول نہیں ہے، ہم قانون شریعت پر راضی ہیں، اس کے باوجود مسلم خواتین کی ہمدردی کی بات کرنا یقیناََ جمہوری تقاضوں کو پامال کرنا ہے، حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے پچھلے ساڑھے چار سال میں ترقی کا کوئی کام نہیں کیا، جتنے وعدے کئے، سب جھوٹے ثابت ہوئے، حکومت کی زیر نگرانی کرپشن کے ایسے واقعات سامنے آئے کہ کرپشن کے گزشتہ واقعات بھی پیچھے ہو گئے، اس پس منظر میں خالص سیاسی مقصد کے لئے یہ بل پاس کرایا گیا ہے، مسلمانوں کو یہ قانون منظور نہیں ہے، اور بورڈ اپوزیشن پارٹیوں اور حکومت میں شامل جماعتوں کے باضمیر محب وطن اور جمہوری ڈھانچہ کے بہی خواہ ارکان سے پُر زور اپیل کرتا ہے کہ وہ راجیہ سبھا میں اس بل کو پاس نہیں ہونے دیں، اور حکومت سے بھی مکرر اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس کو راجیہ سبھا میں پیش کرنے سے گریز کرے، اس کے ساتھ ساتھ بورڈ مسلمانوں کو تلقین کرتا ہے کہ طلاق ایک ناپسندیدہ عمل ہے اور بالخصوص تین طلاق تو نہایت ہی ناپسندیدہ بات اور اللہ کو ناراض کرنے والا عمل ہے؛ اس لئے اس سے بچیں، رشتۂ نکاح کو پائیدار بنائیں اور سماج میں ایسے واقعات کی روک تھام کریں، بہر حال بورڈ نے طے کیا ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق قانونی طور پر شریعت کے تحفظ کے لئے مناسب قدم اُٹھاتی رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker